144

مردوں کو اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا ڈائریکٹر سیما شیخ کی کھری باتیں

سندھ کی ساحلی پٹی کراچی سے بھارتی سرحد تک محیط ہے اس ساحلی پٹی پر لاکھوں افراد جو قیام پاکستان سے آباد ہیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان علاقوں کی ترقی اور انفراسٹکچر کی بہتری کیلئے کسی بھی حکومت نہیں کوئی کام نہیں کیا لیکن موجودہ کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ نے اس علاقے کوغربت سے نکالنے او رخوشحالی کی طرف لے جانے کیلئے بہت سے انقلابی کام کئے ، اتھارٹی نے اس علاقے کی ترقی کیلئے پانچ سالہ منصوبہ تشکیل دیا جس کے تحت روزگارکے مواقع فراہم کرنے کیلئے ٹیکنیکل تعلیم ، صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اسپتالوں کی تعلیم اورتعلیم فراہم کرنے کیلئے اسکول بنائے، ان تمام انقلابی اقدامات کا سہرا کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیما شیخ کے سر ہے،سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار سیماشیخ یوں تو سرکاری افسر ہیں لیکن ان کی محنت ، درد دل رکھنے والی طبیعت انہیں دیگر سرکاری افسران سے ممتاز کرتی ہے۔سیما شیخ نے کراچی یونیورسٹی سے ویمن اسٹیڈیز میں ایم اے اور سندھ مسلم لاءکالج سے قانون کی ڈگریاںحاصل کی، سماجی خدمت کیلئے وکالت کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔ رواداری تحریک سندھ کی انفارمیشن سیکرٹری، ویمن ایکشن فورم اور نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کی رکن کی حیثیت سے تمام فورم پر عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑی اور اب بھی لڑ رہی ہیں، سیما شیخ نے بطور جب ڈپٹی ڈائریکٹر کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ کا عہدہ سنبھالا تو یہاں بھی خواتین کی تعلیم، صحت اور عورتوں کیلئے روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ کرنے کیلئے دن رات ایک کردیا، خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سیما شیخ کا کہنا تھا کہ جب تک عورتوں کو خود مختار نہیں بنایاجائے گا تب تک ہمارا معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے، لڑکیوں کو یہ کہہ کر اسکول سے ہٹالیا جاتا ہے کہ اس نے تو شادی کرکے چلے جانا ہے تو اس کی تعلیم پر پیسہ خرچ کیوں کیا جائے، ایسے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ عورتیں ہی اچھے معاشروں کی تشکیل کرتی ہیں، بچے کی پہلی درسگاہ ماں ہوتی ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی کہ پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا، پاکستان کی 52فیصد آبادی عورتوں کی ہے اگر عورتوں کو معاشی سرگرمیوں سے دور کردیا جائے گا تو کس طرح ملک ترقی کرسکتا ہے، مردوں کا اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، بچپن سے ہی لڑکوں کو ذہنوں میں ڈال دیاجاتا ہے کہ لڑکیاں ان سے کمتر ہے جس سے معاشرے کی ناہمواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سیماشیخ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں انہیں ہر طرح کی سپورٹ ملی، والد وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں انہوں نے ہر جگہ انہیں سپورٹ دی جبکہ شوہر سوئی سدرن گیس کمپنی میں کام کرتے ہیں ان کی طرف سے بھی ہر طرح آزادی میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مادرپدر آزادی کے حق میں نہیں لیکن عورتوں کو ان کے حقوق جو دین اسلام بھی دیتا ہے، انہیں دیئے بغیرصحت مند معاشرے تشکیل نہیں دیاجاسکتا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر بہت سے ناانصافیاں کی جارہی ہیں، اسلام تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ بچیوں کو تعلیم دی جائے ان سے اچھے سلوک سے پیش آیا جائے لیکن ہمارے معاشرے مولوی عوام کو غلط اسلام پڑھارہا ہے، اسلام کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سندھ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا تو انہیں بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہاں پر موجودہ مردوں کا مخصوص مائنڈ سیٹ انہیں برداشت نہیں کررہا تھا، الگ واش روم کے کہنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، اس کے باوجود وہ اپنی محنت اور لگن سے کام کرتی ہیں اور اب سب کو سمجھ آگیا ہے، اپنا مقام حاصل کرنے میں ان کے گھروالوں کی ہر موڑ پر بہت سپورٹ رہی، جب تک گھر سے خواتین کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی وہ آگے نہیں بڑھ سکتی، بدقسمتی ہمارے معاشرے میں لوگ خواتین کو باہر جاکر کام کرنے کہ بہت خلاف ہیں اور اگر کوئی عورت باہر جاکر کام کرنا چاہے بھی تو باہر کے لوگ تو اپنی جگہ گھر کے افراداس عورت کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں سیما شیخ نے زور دے کر کہا کہ تمام لوگ تعلیم خصوصا بچیوں کی تعلیم کا خاص توجہ دیں اگر وہ لڑکی باہر جاکر کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں پوری طرح سپورٹ کیا جائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ صحت مند معاشرہ بنانے کیلئے خواتین کا مردوں کے ساتھ قدم ملا کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ایک سوال کے جواب سیما شیخ نے کہا کہ ہمارے ہاں تھانہ سسٹم انتہائی خراب ہے،جب کسی عورت کو پولیس گرفتار کرتی ہے تو اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا ہے، مرد پولیس اہلکار خواتین سے انتہائی خراب اوربہبودہ طریقے سے پیش آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پولیس کے محکمے میں خواتین کی انتہائی ضرورت ہے، عورتوں کے تھانے ہوں تاکہ کسی جرم میں اگر کوئی عورت گرفتار ہوتو اسے ان تھانوں میں رکھا جائے تاکہ عورت کو اپنی عزت کے تحفظ کا یقین ہو، کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے بدین تک ساحلی پٹی پر چھوٹے چھوٹے گائوں آباد ہیں، وہاں پر روزگار کا واحد ذریعہ مچھلی کا شکار ہے، اس کے علاوہ وہاں کوئی روزگار کے مواقع نہیں، ان علاقوں میں بجلی، گیس ، صحت ، تعلیم اور دیگر انسانی ضروریات کے شعبوں کا بہت برا حال ہے۔ جب سے انہوں نے چارج سنبھالا ہے،تعلیم ، صحت اور انفراسٹکچر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، اتھارٹی کی جانب سے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے اسکول قائم کئے گئے، ان اسکولوں میں کراچی ، حیدرآباد اور دیگر شہروں سے اساتذہ کو بلایاجاتا ہے تاکہ یہاں پر تعلیم کی سہولیات دی جاسکیں۔ان علاقوں کی آبادی دودراز علاقوں پر پھیلی ہوئی ہے،آبادی دوردراز ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اسپتال مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے تاکہ ان علاقوں کے لوگ صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھاسکیں ۔ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے سولر پینل لگائے گئے ہیں ، اتھارٹی کی جانب سے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ٹیکنیکل تعلیم پر بھی کام کیا ہے، اس سلسلے میں مقامی افراد کو موبائل فون اور سولر پینل ٹھیک کرنے کیلئے تعلیم بھی دی گئی ہے، جس کے بعد سولر پینل کے خراب ہونے کی صورت میں مقامی افراد خود ہی انہیں ٹھیک کرلیتے ہیں۔ سیما شیخ کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں کی ترقی کیلئے ماضی کی حکومتوں نے خاطر خواہ کام نہیں کیا، یہ علاقے مسلسل نظرانداز ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکیس ویں صدر میں بھی یہاں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، حکومت ان علاقوں کی ترقی کیلئے خصوصی توجہ دے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گائوں کی خواتین انتہائی ہنر مند ہیں، وہ سلائی، کڑھائی سمیت مختلف دستکاریاں بناتی ہیں ، رات دن کام کرنے کے باوجود وہ انہیں ان کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، حکومت کو چاہئے کہ وہ گھریلو دستکاریوں سے متعلق صنعت پر توجہ دے تاکہ انہیں ان کی محنت کا صلہ مل سکے، جب سے وہ کوسٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی سندھ میں آئی ہیں تب سے وہ اس طرف بھی بہت زیادہ توجہ دے رہی ہیں ۔خواتین کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کو منوائیں ، اگر آپ نے خود کو منوالیا تو دنیا بھی آپ کی صلاحیتوں کا اطراف کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں