توازن برائے بہتری : میری ٹائم حدوود میں خواتین کو با اختیار بنانا

 تحریر: عبید احمد

معاشرے میں عدم مساوات اور ناانصافی ( بالخصوص خواتین سے متعلق)  مردو زن کی آمدن کی تفریق ، جسمانی ونفسیاتی تشدد، نمودو نمائش اور صحت کے مسائل سے منسلک ہے۔ تاہم اس عدم مساوات کا حوالہ دیتے وقت میری ٹائم سیکٹرکی مثال سامنے نہیں آتی۔ بہر حال صنفی تواز ن دنیا بھر میں ایک ایسی گتھی ہے جسے سلجھانے کے لئے آواز بلند کی جاتی ہے۔ جبکہ یہ توازن خواتین کوبااختیار بنا کر ، روایتی رکاوٹیں ہٹا کر، بہتر تعلقات قائم کر کے اور معیاری تعلیم میں معاونت فراہم کر کے قائم و دائم رکھا جا سکتا ہے ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی خاتون بالخصوص میری ٹائم سیکٹر میں یہ دعویٰ نہ کرے کہ عدم نمائندگی کے باعث وہ پیچھے رہ گئی۔ 


   با اختیار خواتین دنیا بھر میں معیشت کا پہیہ چلا رہی ہیں، ترقی و نمو ، بحفاظت، صاف اور پائیدار شپنگ کی جانب سفر میں عالمی میری ٹائم کمیونٹی میں کام کرنے والا ہر فرد ان سے استفادہ حاصل کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں شرکت، بنیادی اور اعلی تعلیم تک رسائی اور سیاسی نمائندگی کے کم مواقع میسر ہیں جبکہ صحت و حفاظت سے متعلق خدشات مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں ۔یہ طرز عمل اس حقیقت کا عکاس ہے کہ تاریخ نے انسان کو کبھی جاندار شے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اس کے اجسام کی بنیاد پر مردو زن کی تقسیم کی۔ 
   قطع نظر اس کے، یہ بات عام طور پر کہی جاتی اور تسلیم کی جاتی ہے کہ ایسی کارپوریشنز اور بورڈز نسبتاً زیادہ کامیاب ہوتی ہیں جن میں خواتین بطور رہنما یا بورڈکی ارکان ہوتی ہیں۔ دنیا کی دوسری تجربہ کار اور قدیم ترین صنعت اورپہلی عالمی کاروباری شپنگ نے صرف میری ٹائم صنعت میں تاریخی کیریئر کی بنیاد پربیشتر صنعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔شپنگ کے بیشتر پہلو خواتین کے لئے موزوں دکھائی نہیں دیتے جیسا کہ یہ صنعت انتہائی جسمانی مشقت کاتقاضہ کرتی ہے اور میری ٹائم اکیڈمیز عمومی طور پر مردوں کے لئے ترتیب دی گئیں ہیں۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں سے اس دلچسپ، متحرک صنعت میں خواتین کے لئے مواقعوں میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے او ر اس اضافے میں روز بروز بڑھ رہا ہے۔اس ضمن میں بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم (IMO)کی سربراہی میںعالمی مہم کی ضرورت ہے جس میں اس کی ارکان ریاستوں پر زور دیا جائے کہ وہ شپنگ کی صنعت میں خواتین کے لئے مواقع پیدا کریں اور میری ٹائم انسٹیٹیوٹ میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی تربیت فراہم کریں اور میری ٹائم صنعت کے لئے درکار اعلیٰ معیاری عملہ حاصل کریں۔ بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم اقوم متحدہ کی ہزار سالہ ترقیاتی اہداف(MDG) کے نعرے : تربیت، شعور، شناخت کے تحت ” صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ” ساحلی اور سمندری اسامیوں میں خواتین کی شرکت کی مسلسل حمایت کر رہی ہے۔

 


    مزید برآں: خواتین کو میری ٹائم سیکٹر میں با اختیار بنانے کے بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کے اقدمات میں پاک بحریہ بطور اہم اسٹیک ہولڈر میری ٹائم حدود میں سمندر سے متعلق شعبوں میں صنفی مساوات کے بارے میں آگہی فراہم کر نے میں پیش پیش ہے۔ جس میں سمندری سائنسی تحقیق، سمندری سائنس، فشریز، میرین پالیسی سازی اور انتظامیہ شامل ہے۔ پاک بحریہ کو سفید ودری میں ملبوس خواتین کی خدمات بھی حاصل ہے جنہیں محکمہ جات میں معاونتی کرداروں کے لئے جیسا کہ تعلیم ، طب، تعلقات عامہ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، قانون اور لاجسٹکس میں بطور کمیشنڈ آفیسر شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کے کیرئیر کا راستہ انکے ہم منصب مرد وں سے یکساں نہیں اس کے باوجود یہ خواتین نیول اکیڈمی میں اسی نوعیت کی چھ ماہ کی سخت تربیت سے گزرتی ہیں۔ مزید برآں یہ اپنی مہارتوں میں اضافہ اور اور مضبوطی کے لئے عملی لیڈر شپ، مشقوں ، کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں جو انہیں ان کے کرداربہتر طریقے سے ادا کرنے کے لئے مزید موزوں بنا دیتے ہیں۔ 

 


    میری ٹائم حدود میں خواتین کے کردارکو مزید وسیع کرنے کے لئے عالمی سطح پر نئی راہیں متعین کرنا ہوں گی، بہادرانہ اور جدت پسندانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مردوں کی اکثریتی صنعت میں عورتوں کو درپیش مسائل سے نمٹنا ہو گا۔تفریق مٹانے اور مساوات قائم کرنے کے لئے جدت اپنانی ہوگی جس کے لئے خواتین کو اس صنعت میں بلکل شامل ہی نہ کرنا اب کوئی راستہ نہیں۔ 
    خواتین کو با اختیار بنانا پانچ اجزا کے بنیادی قانون کا لازمی جزو ہے ( جیسا کہ ان کی قدر کا احساس، ان کے انتخابات کو باضابطہ کرنے کا حق، مواقعوں اورلیڈرشپس تک رسائی، سماجی تبدیلی کے لیے ان کی صلاحیتیں اور طاقت کے مراکز تک رسائی اور طاقت حاصل کرنے کے لئے ان کا حق) جو ہر صورت خواتین کی آزادی، ان کے سیاسی، سماجی و معاشی ، صحت کے درجات ،پائیدار ترقی و توازن اور بہتر دنیا کے توازن کے لئے بھی لازم ہے۔