وقت کی رفتار لمحوں میں | تحریر: فرح ناز راجہ

“وقت کی رفتا لمحوں میں”
وقت  کی  تیز  رفتاری  سکھاتی  ہے، بتاتی  ہے، دکھاتی  ہے، منزل بھی, مسافر  بھی، اپنے  بھی،   پرائے  بھی….!!!
ہمیں اکثر وقت کی تیز رفتاری کا احساس تک  نہیں ہوتا کہ کب کیسے کیا سے کیا ہو گیا اگر ہم اپنے چہرے کے  بتدریج بدلتے ہوۓ مدارج کا بغور مشاہدہ کریں تو ہمیں جتنا خوف خود اہنی ذات سے آۓ گا کسی دوسری چیز سے نہیں آۓ گاکہ ہم چند برس پہلے کیا تھے اور کیا ہو گۓ ہیں اور ہمیں کیا ہو جانا ہےنئی سوچ اور نئی اپروچ ہونے کے با وجود ہم خود کو پرانا ہونے سے نہیں بچا سکتے…سدا بہار نہیں رہ سکتے۔  یہ قیامت تک جینے جانے کے ہمیشہ توانا رہنے کے تصورات چپکے سے راکھ ہو جاتے ہیں ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا یہی اک ذی روح کا انجام ہے یہی اک درد ناک امر ہے…….. اے کاش کہ انسان اپنے منطقی انجام پر نظر رکھے اور وقت کی کروٹ کو محسوس کرے, اپنے بدلتے ہوۓ چہرے کا مشاہدہ کرے تا کے اسے وقت کی رفتار کا بخوبی احساس ہو….. .    وقت کے پہیے کتنی تیز رفتاری سے گھومتے ہیں کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔

 

کچھ ذرا سا ٹھہراؤ آتا ہے وہاں زندگی کا حسین سفر شروع ہونے ہی لگتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کے ساتھ دوڑنا پڑ جاتا ہے ۔ معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے سماج کے وضع کیے گئے اصولوں پر رہنا پڑتا ہے ،سماج کے بنائے گئے قوانین و ضوابط پر عمل پیرا ہونا پڑ جاتا ہے۔ بعض اوقات گھڑیال کی ٹک ٹک اس کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہے کہ ابے پگلے زندہ رہنا ہے تو ساتھ چل ۔ زندگی میں ٹھہراؤ آجاتا ہے مگر کم بخت وقت ہے کہ رکتا ہی نہیں اپنی مخصوص رفتار میں چلے جا رہا ہے بلکہ کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی رفتار میں تیزی آ گئی ہے جو اس کے پیچھے نہیں چلے گا وہ دم توڑ جائے گا۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے شاید وقت کی رفتار آہستہ تھی مگر اب کے اتنی تیزی ہے کہ زندگی پیچھے دھکے کھا رہی ہوتی ہے اور وہ سپیڈ سے چلے جا رہا ہوتا ہے۔ مجھے وہ پل ابھی تک ویسے ہی یاد ہیں جب وقت اتنا آہستہ ہوتا تھا کہ گمان گزرتا تھا کہ وہ رکا ہوا ہے اور اس کی رفتار کی آہستگی مجھے بالکل بھلی نہیں لگتی تھی بلکہ بوریت سی محسوس ہوتی تھی کہ کب یہ وقت گزر جائے گا مگر اب تو ایسا ہے کہ تیزی سے چھو کر کے پاس سے گزرتا ہے ،شاید انجان ہو گیا ہے یا پھر بے وفا ۔ کبھی تو ایسے بھی لگتا ہے کہ وقت اپنی مخصوص رفتار میں چل رہا ہے ،شاید میں ہی سست ہو گیئ ہوں اور کاہلی اتنی بڑھ گئی ہے کہ وقت کے ساتھ چل بھی نہیں پا رہا ہوں اور کبھی تو ایسا گماں گزرتا ہے کہ وقت کی مخالف سمت چلی جا رہی ہوں کہ زندگی کے جھمیلے میں گم ہو کر وقت اور خود میں فاصلہ بڑھائے چلے جا رہی ہوں .جیسے جیسے وقت اور زندگی کا فاصلہ زیادہ ہوتا جا رہا ہے،

 

ایسے لگتا ہے کہ پہلے وقت نے بے وفائی کی تھی اور اب زندگی بھی دغا دے جائے گی کیونکہ وقت کے ساتھ چل پایی اور نہ زندگی کے ساتھ جینے کا ڈھنگ آ رہا ہے ،وقت نے کب سے الوداع کہہ دیا ہے اور اب زندگی کا پہیہ بھی زنگ آلود سا ہو گیا ہے شاید یہ بھی کبھی دغا دے جائے گی بلکہ جلد ہی زندگی بھی بے وفائی کر جائے گی کیونکہ اس سے قبل جب وقت روٹھا تھا تو کئی احباب بھی ساتھ سے بکھر گئے تھے سوائے میری تنہائی اور گنتی کے چند سانسوں کے ،جن کا نام زندگی رکھا ہے ۔ سنا تھا کہ زندگی بے وفا ہے ،پر جب پوچھا کہ تم کتنی عزیز ہو کر بھی بے وفائی کا ارتکاب کیسے کر جاتی ہو؟؟ زندگی نے صاف انکار کیا بلکہ گلہ کرتے ہوئے کہا کہ زمانہ میرے بارے جھوٹ بولتا ہے ،میں پر گز بے وفا نہیں ہوں،زمانہ ہی بے وفائی کر جاتا ہے اور مجھے دغا دیتے ہوئے موت کو گلے لگا لیتا ہے ۔ زندگی نے کہا کہ سب سے بڑا دغا باز تو حضرت انسان ہے جس سے قطعاََ وفا کی توقع نہیں ہے،اگر امر ہونا چاہتے ہو ،میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جینا سیکھ لو ،جی بالکل صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا سیکھ لو ۔ جب دوسروں کے لیے سوچنا شروع کر دو گے تو پھر سبھی وفادار ہو جائیں گے،ہرگز کوئی بےوفائی نہیں کرے گا۔وقت بھی تیرا تابع ہو جائے گا اور تم مر کر بھی زندہ رہو گے ۔

پھر وقت ٹھہر جائے گا جب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے کارناموں کی بدولت پہچانے جاؤ گے کیونکہ پھر زمانہ تمہاری عظمت کی گواہی دے گا بس شرط یہی ہے کہ زندگی میں خود کی بجائے دوسروں کے لیے زندہ رہو۔ وقت کے ان گزرتے لمحوں کی آفاقیت زندگی پہ جتنی حاوی رہتی ہے , شاید ہی وقت کی دیگر جزیات کو اتنا دوام حاصل ہو . ہم چاہ کر بھی ان عوامل کی گہرائیوں میں نہیں اتر سکتے , جن کو ” لمحوں ” نے ترتیب دیا ہو . کچھ لمحے آگ کی طرح ہوتے ہیں . جن کی حدت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے . جو ہماری روح تک کو جھلساتی رہتی ہے . کچھ لمحے پانی کی طرح ہوتے ہیں , جو وقتی طور پر ہماری حسیات کو گیلا تو کردیتے ہیں . مگر وقت کی تیز رفتاری ان کو سکھا دیتی ہے . کچھ لمحے ریت کی طرح ہوتے ہیں . جنہیں ہم مٹھی میں قید کرنا چاہتے ہیں مگر وہ مٹھی سے بار بار نکل جاتے ہیں . کچھ لمحے کانٹوں کی طرح ہوتے ہیں . جن میں ایک بار ہمارا دامن الجھ جائے , تو ہم ساری عمر ان کی گرفت سے اپنا دامن چھڑا نہیں پاتے .کچھ لمحے پتھروں کی طرحہوتے ہیں . جن کا حاصل ہمارے لئے سوائے زخموں کے اور کچھ نہیں ہوتا . کچھ لمحے پھولوں کیطرح ہوتے ہیں . جن کی مہک مرکر بھی ہمارے جسم و جاں میں بسی رہتی ہے . کچھ لمحے شیشے کی طرحنازک ہوتے ہیں . جو ٹوٹ کر بکھرنے کے ساتھ ساتھ ہماری روح تک میں چبھ جاتے ہیں . اور کچھ لمحے زندگی میں اضافی بھی ہوتے ہیں . جن کو بروئے کار لاکر ہم اپنی عمر کے زیاں کا تاوان بھی بھر سکتے ہیں . مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے . اور شاید کبھی ایسا مرحلہ ہمیں پیش بھی آئے تو ہم یا تو انہیں نظر انداز کردیتے ہیں یا پھر بےخبر رہتے ہیں ۔