انڈس موٹر کمپنی نے گاڑی کی فروخت کی طلب میں کمی پر پلانٹ بند کردیا

انڈس موٹر کمپنی نے گاڑی کی فروخت کی طلب میں کمی پر پلانٹ بند کردیا اور بتایا جولائی 2019 میں کمپنی میں گاڑیوں کی پیداوار 8 روز اور اگست 2019 میں 13 روز رہی۔
تفصیلات کے مطابق کمپنی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انڈس موٹر کمپنی نے پلانٹ بند کردیا ، گاڑی کی فروخت کی طلب میں کمی پر فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا جولائی 2019 میں کمپنی میں گاڑیوں کی پیداوار 8 روز اور اگست 2019 میں کمپنی میں گاڑیوں کی پیداوار 13 روز بند رہی تھی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور مختلف سی سی کے انجن پر فیڈریل ایکسائز ڈیوٹی 2.5 سے 7.5 فیصد عائد ہونے سے بھی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق درآمدی پارٹس پر بھی کسٹم ڈیوٹی بڑھانے سے قیمت میں اضافہ ہوا اور شرح سود بڑھنے کے بعد لیزنگ بھی کم ہونے سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہوئی ہے
کمپنی نے مزید کہا کہ طلب میں نمایاں کمی کے سبب ستمبر کے باقی دنوں کے لیے پلانٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب  اعداد و شمار  کے مطابق  ٹویوٹا کرولا کے جولائی اور اگست کے درمیان بالترتیب 5 ہزار 308 اور 3 ہزار 708 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال ان ہی مہینوں میں یہ تعداد 8 ہزار 804 اور 8 ہزار 770 یونٹس تھیں، جس سے اس فروخت میں 40 اور 57 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے۔
اسی طرح ٹویوٹا ہائیلکس کے جولائی اور اگست کے درمیان بالترتیب 793 اور 716 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ سال ان ہی مہینوں میں یہ تعداد ایک ہزار 383 اور ایک ہزار 292 یونٹس تھیں، جو 42 اور 44 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
ٹویوٹا فورچیونر کی فروخت بھی ان مہینوں میں کم ہوکر بالترتیب 232 یونٹس اور 162 یونٹس رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 484 اور 424 فیصد تھیں، اس طرح اس میں 52 اور 62 فیصد کمی ہوئی۔