تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سےبےحد پریشان ہے

تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سےبےحد پریشان ہے ۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سےدونوں کے درمیان ہونےوالی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھیں۔

نمرتا مہران ابڑو سے شادی کرنا چاہتی تھی اور مہران اور اس کے گھر والوں نے بھی شادی کی ہامی بھر رکھی تھی لیکن چند ماہ قبل مہران نے نمرتا اور اپنے درمیان اسٹیٹس کے فرق کو جواز بنا کر شادی سے انکار کر دیا تھا۔
مہران ابڑو نے مزہب کی تبدیلی کو بھی مسئلہ قرار دیا تھا۔ مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی، ہو سکتا ہے اس نے اس لیے خودکشی کر لی ہو-

مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتےہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئےجانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پولیس نمرتا کیس سے متعلق مہران ابڑو اور علی شان میمن سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مہران ابڑو اور نمرتا کی دوستی ڈینٹل کالج میں 2015ء میں ہوئی جو پیار میں تبدیل ہو گئی۔
مہران ابڑو کے والد عبد الحفیظ ریٹائرڈ بینک ملازم اور والدہ ٹیچر ہیں۔ نمرتا چار سال تک مہران ابڑو اور اس کے خاندان کا خرچ چلاتی رہی۔ نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے استعمال میں تھا۔ مہران کی بہنوں کو نمرتا شاپنگ بھی کرواتی رہی۔ نمرتا کو مہران کے والدین شادی کا آسرا دیتے رہے۔ لیکن چار سال کے بعد مہران کے والدین نے شادی سے انکار کر دیا۔
تفتیشی ذرائع نے کہا کہ نمرتا کے اہل خانہ ساری صورتحال سے واقف تھے۔ مہران ابڑو اور اس کے اہل خانہ نمرتا کے بھائی کی کراچی میں ہونے والی شادی میں بھی شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ 16 ستمبر کو آصفہ بی بی ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل سے نمرتا چندانی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعہ کو خود کُشی قرار دیا جا رہا تھا لیکن نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے اس واقعہ کو قتل قرار دیا۔

میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا قتل کیس کا مقدمہ 6 روز بعد بھی درج نہ ہوسکا۔
تفتشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے فون کا ڈیٹا حاصل کر کے مہران ابڑو اور علی شان میمن نامی طالب علموں کو حراست میں لیا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ مہران ابڑو استعمال کرتا تھا، دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے اور شادی کے خواہش مند تھے مگر لڑکے کے والدین رشتے پر انکاری تھے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہران ابڑو نے بتایا رشتے سے انکار کے بعد ایک ماہ سے نمرتا شدید پریشان تھی اور اُس نے ڈپریشن کے باعث مختلف ادویات بھی لینا شروع کردی تھیں۔
واضح رہے کہ 16 ستمبر کو لاڑکانہ کے چانڈکا میڈکل کالج کے ہاسٹل سے کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی، کالج انتظامیہ نے واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی مگر مقتولہ کے بھائی ڈاکٹر وشال نے خودکشی کے امکان کو رد کیا۔

ڈاکٹر وشال کا کہنا تھا کہ ’’نمرتا خودکشی نہیں کرسکتی بلکہ اُسے قتل کیا گیا کیونکہ کمرے کے پنکھے پر اس طرح کا کوئی نشان نہیں، جس سے خودکشی کے مفروضے کو تقویت ملے۔
دوسری جانب ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے بتایا ہے کہ ہاسٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہیں، طالبہ کے موبائل فون کو ڈی کوڈ کیا جارہا، جلد تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔
پولیس نے موبائل ڈی کوڈ کرنے کے بعد نمرتا کے ساتھی طالب علموں کو حراست میں لیا اور امید ظاہر کی کہ مزید نئے حقائق سامنے آنے کے بعد معمہ حل ہوجائے گا، پولیس افسران کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے موبائل فون سے کچھ میسجز ڈیلیٹ بھی ہوئے۔