منڈی بہاالدین میں دو کم سن لڑکیوں سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی پر دو ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

ضلع منڈی بہاالدین میں دو کم سن لڑکیوں سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی پر دو ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔
ڈی پی اور ناصر سیال کے مطابق دونوں مشتبہ افراد کو 14 روز ہ ریمانڈ پر منڈی بہاالدین کی ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا ہے۔
منڈی بہاالدین میں دونوں واقعات تھانہ سٹی کے علاقے مغل پورہ اور عثمانیہ محلہ میں پیش آٸے جہاں مبینہ طور پر 10 سالہ اور 9 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کی جانب سے دونوں واقعات کی رپورٹ جمع کرادی گئی اور دونوں نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عثمانیہ محلے میں 9 سالہ بچی شام کے تقریباً سات بجے گلی سے قلفی لینے گئی تھی جہاں ان کے ساتھ نازیبا حرکات کی گئیں جس کے بعد ان کی والدہ نے رپورٹ درج کرادی۔

ان کا کہنا تھا کہ سارا واقعہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور میں نے اور میرے بیٹے نے قلفی والے کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق دوسرا واقعہ مغلپورہ میں پیش آیا جہا 10 سالہ بچی دوستوں کے ساتھ پارک میں کھیلنے کے لیے باہر گٸی تھیں جب دیر گئے تک واپس نہیں آئیں تو اس کے والد دیگر دو افراد کے ہمراہ تلاش کے لیے نکلے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچی کے والد نے رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا کہ جب وہ ایک گلی کے قریب پہنچے تو بچی کے چیخنے کی آوازیں آئیں تو ہم اسی طرف گئے تو ہم نے بچی اور ملزم کو برہنہ پایا لیکن وہ وہاں بھاگ گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مشتبہ شخص نے بچی کا ریپ کیا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں قصور کے علاقے چونیاں میں لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

پنجاب کے ضلع قصور میں گزشتہ چند سالوں کے دوران بچوں کے اغوا اور پھر ان کے ساتھ ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں جنوری 2018 میں 6 سالہ زینب کے ریپ اور قتل کا واقعہ بھی شامل ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور ملک گیر مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔
عمران علی نامی ملزم زینب کے ریپ اور اس کے قتل میں ملوث پایا گیا جس کو ٹرائل کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔
اسی طرح قصور کا علاقہ حسین خان والا 2015 میں اس وقت دنیا کی نگاہوں کا مرکز بن گیا تھا جب وہاں پر بچوں کی فحش ویڈیو بنانے والا ایک گروہ بے نقاب ہوا تھا۔
ہزاروں کی تعداد میں ویڈیوز منظر عام پر آئیں تھیں جن میں ایک گروہ درجنوں بچوں اور بچوں کو جنسی عمل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
اسی طرح یہ گروہ بچوں کی فحش ویڈیو بنا کر متاثرہ خاندان کو بلیک میل کرکے ان سے کروڑوں روپے اور سونا لوٹنے میں بھی ملوث رہا۔