زچگی کے دوران ہونے والی اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے، ڈاکٹر ارم صبا

انٹرویو: میاں طارق جاوید
دنیا بھر میں دوران زچگی خواتین کی شرح اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق، حمل اور بچے کی پیدائش کی پیچیدگیوں کی وجہ سے روزانہ 830 خواتین فوت ہوجاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان اموات کی زیادہ تر وجوہات میں غفلت اور لاعلمی ہوتی ہے جس کی روک تھام کیلئے عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔ ان اموات کا تقریبا 99.99 فیصد پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق، پاکستان جنوبی ایشیاء میں دوران زچگی خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ شرح اموات والا ملک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زچگی کی شرح اموات ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں 178 اموات ہیں۔

 

پاکستان میں دوران زچگی شرح اموات زیادہ ہونے کی وجوہات میں سے غیر تربیت یافتہ دائیوں، ایل ایچ ویز کا عمل دخل زیادہ ہے جبکہ اس شرح اموات میں کمی لانے کیلئے تربیت یافتہ دائیوں کے ساتھ ساتھ گائناکالوجسٹ کی کمی کو بھی پورا کرنے سے ہوسکتی ہے۔ پاکستان 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جہاں مناسب بنیادی طبی مراکز میں خواتین ڈاکٹرز کی کمی کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جس سے دوران زچگی خواتین کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر نجی شعبے کے ساتھ مل کر خواتین کیلئے خصوصی ہسپتال قائم کرنا ہونگے تاکہ طبی امداد فوری نہ ملنے کی وجہ سے ہونے والی اموات پر بھی قابو پایا جاسکے۔

 

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر شعبے کی طرح طب کے شعبے میں بھی بڑے بڑے ڈاکٹرز پیدا ہوئے اور خصوصاً خواتین کے امراض مخصوصہ کیلئے پاکستانی گائناکالوجسٹ کا موازنہ دنیا کے کسی بھی بڑے ملک کے ڈاکٹرز سے کیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں پیدا ہونیو الی ارم صبا جنہوں نے جب آنکھ کھولی تو ان کی والدہ گائناکالوجسٹ تھیں جن کو رول ماڈل سمجھتے ہوئے ارم صبا نے اس شعبے میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کراچی میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہاؤس جاب عباسی شہید ہسپتال میں کی، اس سے فارغ ہونے کے بعد عباسی شہید ہسپتال میں ہی خدمات انجام دیتی رہیں جس کے بعد ڈاکٹر ارم صبا کو دبئی جانے کا موقع ملا جہاں پر انہوں نے بڑے اور عالمی سطح کے ہسپتالوں میں بطور گائناکالوجسٹ عالمی سطح کے ڈاکٹرز کے ساتھ کام کرکے اپنے کیریئر کو آگے بڑھایا۔ اس دوران میں ڈاکٹر ارم صبا کی شادی ہوگئی اور ان کے شوہر جرمنی میں مقیم تھے جہاں وہ ہر سال ایک ماہ کیلئے رہائش اختیار کرتیں، اس دوران وہ جرمنی کے ہسپتالوں میں ہونے والی ترقی اور ان کے معیار کو دیکھنے کیلئے ایک ماہ کیلئے ہسپتال جوائن کرلیتی تھیں جس نے ڈاکٹر ارم صبا کے تجربے میں بے پناہ اضافہ کیا۔ ڈاکٹر ارم صبا نے جو کہ گائناکالوجی اسپیشلسٹ ہیں ایم بی بی ایس پاکستان سے کیا اس کے بعد الٹرا ساؤنڈ فیلوشپ، جیفرسن الٹراساؤنڈ اینڈ ریڈیالوجی اینڈ انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی یو ایس اے سے کیا۔ MRCOG-1، FCPS، MRCPI-2، MRCOG یو کے سے کیا اور آج کل کراچی میں بطور گائناکالوجسٹ، الٹرا ساؤنڈ اسپیشلسٹ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ الٹراساؤنڈ میں فیلو شپ کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی خواتین مریضوں کی ڈائیگنوسٹنگ اور ان کے علاج میں بہت زیادہ مدد ملتی ہے۔

 

ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر ارم صبا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین میں زچگی کے مسائل بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے دوران زچگی اموات کی شرح بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ میں چونکہ گائناکالوجسٹ کے ساتھ ساتھ آسٹرڈیشن بھی ہونے کی وجہ سے مجھے خواتین میں زچگی اور زچگی کے بعد کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتی ہوں۔ میں آج کل لیپرو اسکوپک سرجری زیادہ کررہی ہوں جس کا فائدہ ناف کے ذریعے ایک کیمرہ پیٹ میں داخل کرکے اووری اور اس میں موجود سسٹ وغیرہ کے آپریشن آسانی سے کئے جاسکتے ہیں جس کی وجہ سے اب پاکستان میں گائناکالوجسٹ اب پہلے سے زیادہ بہتر طور پر کام کررہی ہیں لیکن پھر بھی ہمارے ہاں مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارم صبا نے بتایا کہ پاکستان میں زچگی کے دوران اموات کی شرح پر قابو پانے کیلئے سرکاری ہسپتالوں کے معیار کو بہتر کرنا ہوگا کیونکہ زیادہ تر خواتین سرکاری ہسپتالوں کا ہی رخ کرتی ہیں اور وہاں پر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب ایسی خواتین بھی ہیں جو ہسپتال جانے کی بھی روادار نہیں ہوتیں اور زیادہ تر وہ گھروں میں ہی علاقے کی دائیوں سے ڈلیوری کروا رہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں زچگی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام دائیوں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی ہونی چاہئے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں وہ مسائل اور مشکلات کو سنبھالتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کرسکیں اسی طرح کہ جس طرح بیرون ممالک میں ٹرینڈ اور رجسٹرڈ دائیاں گھروں میں جا کر زچگی کرواتی ہیں اور دوسری جانب ڈلیوری ایسی جگہ ہونی چاہئے جہاں سے مریضہ کو تمام تر کمپلیکیشن کے ساتھ اگر ایمرجنسی ہوجاتی ہے تو اسے فوری طور پر بڑے ہسپتال میں منتقل کیا جاسکے۔

 

 

پھر ہمارے ہاں یہ بھی ہوتا ہے کہ دوران حمل خواتین کو مریضوں کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ زندگی کا ایک حصہ ہے اور یہ بیماری نہیں ہے اس کو اگر اسی انداز سے ٹریٹ کیا جائے تو خواتین پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہونگے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر تربیت یافتہ مڈ وائف ہونی چاہئے جن کی رجسٹریشن باقاعدہ ہونی چاہئے اور ان کے علاقے بھی مخصوص کئے جائیں۔ اگر پاکستان میں عوامی سطح پر شعور پیدا کردیا جائے تو کہ دوران حمل خواتین کا باقاعدہ چیک اپ اور دیکھ بھال کی جائے اور ساتھ ساتھ پاکستان میں ہر بندے پر میٹرک تک تعلیم لازمی کردی جائے جس سے معاشرے میں شعور پیدا کرنے میں آسانی ہوگی۔ اگر ہر پاکستانی میٹرک تک بنیادی تعلیم حاصل کرلے تو اس میں یقیناً شعور پیدا ہوجائے گا اور اب ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے سرکاری سطح پر پروموشن ہونی چاہئے جس سے اگر کوئی ہیلتھ وزیٹر گھروں میں جاتا ہے تو لوگوں کو گھروں میں شرم محسوس نہیں ہوگی وہ اپنے مسائل کو ہیلتھ وزیٹر کے ساتھ شیئر کرکے خود ہی حل کرسکتے ہیں۔

 ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارم صبا کا کہنا تھا کہ فیملی پلاننگ سے مسائل کم ہوتے ہیں۔ زچگی کے بعد وقفہ بہت ضروری ہے جو ماں اور بچے کی صحت کیلئے لازم ہے، سرکاری سطح پر اولاد میں وقفے کیلئے بہت ساری کمپینز چلائی جاتی ہیں مگر جب تک متعلقہ ڈاکٹرز یا مڈ واؤز عوام کو گائیڈ نہیں کریں گے اس وقت تک یہ مہم کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ اور اب پاکستان میں فیملی پلاننگ کے طریقوں میں بہت زیادہ سائیڈ افیکٹس نہیں ہیں جن سے مدد لے کر اولاد میں وقفہ کیا جاسکتا ہے۔ مریض کو اگر فیملی پلاننگ کے محفوظ طریقہ کار دیا جائے گا تو اس طرح کے مسائل سے بھی نکلا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارم صبا کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس موجود طریقہ کار میں بعض اوقات ادویات کے زیادہ استعمال سے خواتین میں اووری کینسر کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ تر خواتین اپنا میڈیکل ریکارڈ نہیں رکھتیں اور نہ ہی اپنے نئے ڈاکٹر کو پچھلے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور رپورٹس کے بارے میں کوئی تفصیل مہیا کرتی ہیں، خواتین کا علاج کیلئے ڈاکٹرز بدلنا ان کی ونڈو شاپنگ کی طرح ہوگیا ہے جس کی وجہ سے خواتین بچے پیدا کرنے کیلئے جن مسائل کا شکار ہوتی ہیں ان کے حل کیلئے ادویات کا زیادہ استعمال کرتی ہیں اور بعض ایسی ادویات ہیں جن کا زیادہ استعمال کینسر کا موجب بن رہا ہے۔ سرکاری سطح پر ایسی ادویات پر چھ ماہ سے زائد کسی مریض کو استعمال کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگا دی جائے۔ اس سے خواتین میں کینسر کے امراض پر قابو پانے میں بہت زیادہ مدد ملے گی اور دوسری جانب مرد اور خواتین کو اولاد پیدا کرنے کیلئے کوئی بھی دوا شروع کرنے سے پہلے اپنے مکمل میڈیکل ٹیسٹ کروانے چاہئیں تاکہ ادویات کے غیر ضروری استعمال سے قبل ہی پتا چل سکے کہ اصل مسئلہ کیا ہے تاکہ اس کو حل کیا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارم صبا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کے گائنی میں بیشمار مسائل ہیں اور ہر شعبے کے مختلف مسائل ہیں جن کے حل کیلئے فوری طور پر قابو پانا چاہئے۔ دوسری جانب ہمارے ہاں زچگی کے دوران نارمل ڈلیوری کے بجائے فوری سرجری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارم صبا کا کہنا تھا کہ یہ ایک برننگ ایشو ہے جس پر ضرور ڈسکس ہونا چاہئے کیونکہ جس ڈاکٹر نے مریضہ کو دوران حمل دیکھا ہوتا ہے۔

 وہی اگر ڈلیوری کروائے تو زیادہ آسانی ہوتی ہے لیکن گائناکالوجسٹ مختلف ہسپتالوں میں بیٹھ رہے ہوتے ہیں ان کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہوتا جب دوسرے ڈاکٹرز ڈلیوری کرواتے ہیں تو مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کچھ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز زیادہ لالچ کے چکر میں غیر ضروری سرجری کردیتے ہیں حالانکہ زیادہ تر ڈلیوری نارمل طریقے سے کی جاسکتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے غیر ضروری لالچ اور دیگر معاشی مسائل کی وجہ سے عوام کیلئے مشکلات پیدا کردیتے ہیں جہاں تک بات ہوتی ہے سینئر ڈاکٹرز کی تو وہ چونکہ پہلے ہی بہت زیادہ کما رہے ہوتے ہیں تو وہ اس طرح کی چیزوں میں ملوث نہیں ہوتے۔ اب جبکہ زچگی کے مسائل بڑھ چکے ہیں جن پر قابو پانا بہت ضروری ہے اگر ڈلیوری لیٹ ہوجائے تو اس کی وجہ سے بچے کو ماں کے پیٹ میں آکسیجن کم ملنے کی وجہ سے اس کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو اس بچے کی زندگی میں مسائل پیدا کرسکتی ہے تو اس کیلئے ڈلیوری فوری طور پر کروانے کیلئے سرجری کی جاسکتی ہے لیکن غیر ضروری سرجری کرنے سے خواتین گائنی کے مسائل بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈلیوری لیٹ ہونے کی وجہ سے بچوں کی صحت کیلئے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں اس سے عوام بہت زیادہ باشعور ہوچکی ہے تو اس وجہ سے لوگ خود ہی اپنے بچوں کو ذہنی طور پر بچانے کیلئے فوری سیزر کا کہتے ہیں جو کہ کافی محفوظ طریقہ کار بھی ہے لیکن غیر ضروری سرجریز کے ہم خلاف ہیں وہ نہیں ہونی چاہئے۔