نواز شریف اب نہ تو ملک سے باہر جانے پر رضامند ہیں نہ کسی کو این آر او دینا چاہتے ہیں۔

الم نگار عمار مسعود نے اپنے حالیہ کالم میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا کہ ملکی سیاست میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن ابھی سوچ رہی ہے۔ ان کی سوچ کا محور نواز شریف کا بیانیہ ہے۔ جیل میں قید نواز شریف سے اب اہم ملاقاتوں کا سلسسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب بیچ کی کوئی راہ نکالی جا رہی ہے۔
لیکن نواز شریف اب نہ تو ملک سے باہر جانے پر رضامند ہیں نہ کسی کو این آر او دینا چاہتے ہیں۔ ان کی سیاست میں اب ایک سال سے زیادہ جیل کاٹنے کے بعد بیچ کا کوئی رستہ نہیں رہا۔ وہ اب سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز بھی تمام تر صعبوتوں کے باوجود اپنے باپ ک نقش قدم پر سختی سے جمی ہوئی ہیں۔
لیکن پارٹی سطح پر دھرنے کے معاملے پر کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔
کچھ ایسے ہیں، جو آج ہی سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں اور کچھ تیل اور اس کی دھار کچھ دیر اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دو نقطہ نظر منظر عام پر ہیں اور ان کا یوں منطر عام پر ہونا بھی ایک سوچا سمجھا عمل ہو سکتا ہے۔ ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ اکتوبر اور نومبر اس ملک کی تاریخ کے اہم مہینے ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان مہینوں میں شروع ہونے والا احتجاج کیا پیغام لاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں اس سے پہلے کے لوگ بڑے پیمانے پر احتجاج کے لیے نکلیں، اس سے پہلے کہ معاملات سڑکوں کی سیاست تک آ جائیں ، اس سے پہلے کہ بچے بچے کی زبان پر مانوس نعرے آ جائیں، اس سے پہلے کہ مزید ویڈیوز منظر عام پر آ جائیں۔ مقتدر حلقوں کی جانب سے اس احتجاج کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گے۔ چاہے اس کے لیے نواز شریف کو تمام عدالتوں سے باعزت بری کرنا پڑے، چاہے موجودہ حکومت کو دستبردار کرنا پڑے یا چاہے نئے الیکشن کروانے پڑیں۔
اس تبدیلی کا طریقہ کار کیا ہوگا، اس پر کبھی پھر بات ہو گی، فی الوقت اتنا سمجھ لیں کہ ایسا بھی ہو تا ہے کہ جو گڑھا آپ نے دوسروں کے لیے کھودا ہوتا ہے ایک دن آپ خود اسی گڑھے میں غرقاب ہو جاتے ہیں۔ جو تیر آپ نے دشمن پر چلائے ہوتے ہیں، وہ خود اپنے سینے پر کھانے پڑتے ہیں۔ جو گالی مخالف کو دی ہوتی ہے، اس گالی کو خود ہی سہنا ہوتا ہے، جو الزام دوسروں کو دیا ہوتا ہے، خود اس الزام کا شکار ہونا پڑتا ہے