نمرتا مہران ابڑو کے گھر والوں کا خرچ اُٹھاتی تھی

مرتا کیس میں پولیس کی تحقیقات اور تفتیش تاحال جاری ہے جس میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس نمرتا کیس سے متعلق مہران ابڑو اور علی شان میمن سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مہران ابڑو اور نمرتا کی دوستی ڈینٹل کالج میں 2015ء میں ہوئی جو پیار میں تبدیل ہو گئی۔
مہران ابڑو کے والد عبد الحفیظ ریٹائرڈ بینک ملازم اور والدہ ٹیچر ہیں۔ نمرتا چار سال تک مہران ابڑو اور اس کے خاندان کا خرچ چلاتی رہی۔ نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے استعمال میں تھا۔ مہران کی بہنوں کو نمرتا شاپنگ بھی کرواتی رہی۔ نمرتا کو مہران کے والدین شادی کا آسرا دیتے رہے۔ لیکن چار سال کے بعد مہران کے والدین نے شادی سے انکار کر دیا۔

تفتیشی ذرائع نے کہا کہ نمرتا کے اہل خانہ ساری صورتحال سے واقف تھے۔ مہران ابڑو اور اس کے اہل خانہ نمرتا کے بھائی کی کراچی میں ہونے والی شادی میں بھی شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ 16 ستمبر کو آصفہ بی بی ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل سے نمرتا چندانی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعہ کو خود کُشی قرار دیا جا رہا تھا لیکن نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے اس واقعہ کو قتل قرار دیا۔
جس پر سندھ حکومت نے نمرتا چندانی کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔ آج صبح نمرتا کیس میں پولیس نے کالج کے پروفیسر کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ کالج کے سینیئر پروفیسر امر لعل نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ نمرتا کچھ وقت سے کسی مسئلے کو لے کر پریشان تھی، وہ کئی بار پروفیسر امر لعل کے پاس آئی، وہ روئی اور پریشانی کا شکار ہونے کا بتایا۔ پروفیسر امر لعل نے بتایا کہ نمرتا روتی تھی اور کہتی تھی کہ مجھے ہمت چاہئیے کہ میں اس مسئلے سے نکلوں، بہت پوچھنے پر بھی مسئلہ نہیں بتایا جس پر میں نے نمرتا کو یوگا اور ورزش سانگس سننے کا مشورہ دیا۔ نمرتا کیس کی تحقیقات اور تفتیش میں مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔