سندہاٸیکورٹ نے اخبارات کے واجبات ادانہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت

سندہاٸیکورٹ نے اخبارات کے واجبات ادانہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعتعدالت نے 24 ستمبر کواے جی آفیس سے جواب طلب کرلیا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران ڈاٸریکٹر انفارمیشن نے رپورٹ پیش کی جوکے جنوری 2018 سے دسمبر 2018 کے واجبات کی تھی ۔عدالت درخواست گذار کے وکیل ایڈووکیٹ رفیق احمد کلوڑو نے اس پراعتراض کیا کہ جورپورٹ پیش کی گٸی اس کا درخواست سے کوٸی تعلق نہیں ہم نے 2014سے اب تک کے واجبات کی بات کی ہے۔عدالت سخت برہمی کااظہار کرتے ہوٸے کہاکہ ابھی تک توہین عدالت درخواست زیرالتواہے اگر ہمارے حکم نامے پر عمل نہ کیاگیا توہم کوٸی بھی کارواٸی کرسکتے ہیں ۔عدالت نے درخواست گذار کوہدایت کی کہ وہ اے جی آفیس سے مینٹگ کرکے معلوم کرے کہ بقیہ واجبات اداکیوں نہیں کیے گٸے ۔عہددرخواست گذار سی پی این ای کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹرجبارخٹک نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ رفیق احمد کلورڑ کی توسط سے سندحکومت کی جانب سے اخبارات کے واجبات ادانہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کی۔درخواست میں موقف اختیار کیاگیاکہ سندہاٸیکورٹ نے 15دنوں میں واجبات اداکرنے کاحکم دیا تھا مگر سندہ حکومت نے عمل نہ کیا۔انہوں نے کہاکہ واجبات ادانہ کرنے پراخبارات مالی بحران کاشکار ہے ۔اس لیے عدالت سے درخواست ہے کہ سندہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارواٸی کی جاٸے۔کیس کی سماعت سندہاٸیکورٹ کے جسٹس محمدعلی مظہر اور جسٹس آغافیصل کی دورکنی بیٸچ نے کی