پاکستانی کرکٹر کے کھانوں کا کلچر تبدیل

پاکستانی کرکٹرز مرغن کھانا کھانے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ وسیم خان نے چیف ایگزیکٹیو بننے اور مصباح الحق نے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بننے کے بعد قومی اکیڈمی میں کھانوں کا کلچر تبدیل کردیا ہے۔
لاہور کی قومی کرکٹ اکیڈمی میں گذشتہ 13 سال سے بطور ایگزیکٹو شیف ذمہ داریاں نبھانے والے کاظم حسین کا کہنا ہے کہ دراز قد محمد عرفان خوش خوراک ہیں تاہم امام الحق اپنی ڈائیٹ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ٹیسٹ اوپنر امام الحق دوپہر کے کھانے میں پھل اور دہی پر ہی اکتفا کرتے ہیں
لاہور کے باسی تو کھانے کے شوقین ہیں مگر کاظم حسین کھانا بنانے کے بھی ماہرہیں۔ کاظم حسین کو یہ شوق اپنی والدہ کو کھانا پکاتے دیکھ کر پیدا ہوا۔
ہوم سیریز کے دوران نجی ہوٹل میں رہائش اختیار کرنے والے قومی کرکٹرز کی اکثریت کاظم حسین کے ہاتھ سے بنے پکوان کی فرمائش کرتی ہے۔ شعیب ملک کو کھانے میں پاستا بہت پسند ہے۔ ان کی فرمائش پر انہیں گرین چلی سے بنا پاستا پیش کیا جاتاہے۔
انہوں نے کہا کہ شعیب ملک این سی اے میں تیار پکوان کے معترف ہیں
کاظم حسین کا کہنا ہے کہ این سی اے میں موجود غیرملکی کوچز کے لیے ان کی فرمائش پر بھی مخصوص کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر وہ لزانیہ اور پاستا کھانے کے شوقین ہوتے ہیں۔
کاظم حسین نے واضح کیا کہ خوراک کی تیاری میں کھلاڑیوں کے لیے پروٹین، کاربوہائیڈریٹس سمیت دیگر ضروری اجزاء کی خاص مقدار کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
ملک اور بیرون ملک ملازمتیں کرنے والے کاظم حسین نے 2006ء میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ایگزیکٹو شیف کی حیثیت سے انٹرویو دیا۔
ایگزیکٹو شیف کی تعیناتی کے لیے آنجہانی کوچ باب وولمر، سابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان ا ور ذاکر خان سمیت 9 رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔
عہدے کے لیے 40 سے زائد امیدواروں نے ٹرائل دیئے تھے۔ کاظم حسین دیگر 9 اراکین کے ہمراہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے کچن میں ذمہ داریاں نبھارہے ہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی، قذافی اسٹیڈیم اور پی سی بی کے پکوان سے متعلق دیگر تمام معمالات دیکھنے والے کاظم حسین کو یقین ہے کہ ان کی ٹیم میں شامل تمام اراکین ان کے جانشین بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔