کینسر کو شکست دینے والی کویت کی بہادر ٹیچر کی کہانی جو دوسروں کے لئے حوصلے اور رہنمائی کی مثال بن گئی

کویت سے طارق  اقبال کی رپورٹ

آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے کروا رہے ہیں جنہوں نے کینسر کے موذی مرض کو شکست دی انتہائی حوصلہ اور بہادری سے اس مرض کی ایڈوانس اسٹیج کا مقابلہ کیا امریکہ کے اسپتال نے مرض کے ایڈوانس سٹیج پر ہونے کی وجہ سے ان کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد برطانیہ کے ایک اسپتال میں ان کا کامیابی سے علاج کیا گیا دو سال پہلے انہوں نے کینسر کے موذی مرض سے لڑنا شروع کیا اور اس کو بہادری اور حوصلے سے شکست دی ان کا نام شائمہ الایدی ہے یہ کویت کی ایک ذہین اور سرگرم ٹیچر ہیں جو عرب یوتھ کے لیے ہیومینیٹیرین  ایکشن کی سفیر  بھی مشہور ہیں۔

انہوں نے کینسر کے مریض بچوں کے لیے خصوصی و گز  بھی مفت ڈیزائن کی ہیں ۔وہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کو نیا حوصلہ اور ولولہ دیتی ہیں ان کی ہمت بڑھاتی ہیں انہیں زندگی میں نئی امید دلاتی ہیں ویسے تو وہ ان خصوصی بچوں کی انگلش ٹیچر ہیں جنہیں ٹیچر کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے انہوں نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے سائیکالوجی اور سوشل لینگویج میں ماسٹرز ڈگری حاصل کر رکھی ہے برطانیہ میں کینسر کے مریض بچوں کے لیے کام کرنے والی ویب سائٹ کی ممبر بننے والی وہ پہلی عرب خاتون ہے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مختلف کانفرنسوں اور سیمینارز سمپوزیمز میں کویت کی نمائندگی کی ہے ۔

 

Report: Shaima Al Eidi- A Kuwaiti Cancer Fighter Kuwait: Today we met with Shamima Al Eidi, who was diagnosed with cancer more than two years ago, was treated in the UK. Known as “Ambassador of Humanitarian Action for Arab Youth”, she also created the first designs for wigs for cancer children for free. She spreads hope through her account on Instagram and defies the disease, extending help to other patients to fight cancer. Eidi, an English teacher for children with special needs, holds a masters degree in psychology and social language and a masters degree from the University of Cambridge in the UK. She became the first Arab member to be accredited for a worldwide free stem cell donation website for children suffering from cancer in the UK. She was refused treatment by a US-based hospital due to the advanced stage of her cancer. The Kuwaiti activist participated in several international conferences and symposia