اب لوگ اسکولز کا مطالبہ کرتے ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے اسکو کہتے ہیں ’تبدیلی‘ : سندھ حکومت ’بنیادی تعلیمی پروگرام‘ کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کریگی : وزیراعلیٰ سندھ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کچھ سال قبل لوگ اپنے علاقوں میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے انکے خلاف شکایات لیکر آتے، بجلی اور سڑکیں تک مانگتے تھے لیکن اب لوگ اسکولز کا مطالبہ کرتے ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے اسکو کہتے ہیں ’تبدیلی‘۔ سندھ حکومت ’بنیادی تعلیمی پروگرام‘ کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی کے گڈاپ ٹاؤن دمبہ گوٹھ میں واقع یو ایس ایڈ کے تعاون سے نئے تعمیر شدہ اسکول کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انکے ہمراہ مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب بھی تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے ’سندھ بنیادی تعلیم پروگرام‘106 اسٹیٹ آف آرٹ کے حامل اسکول 155 ملین ڈالر کی لاگت سے سندھ کے 10 اضلاع (سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، دادو، قمبر۔شہدادکوٹ، جیکب آباد، کشمور، کراچی ملیر۔گڈاپ اور بن قاسم ، کراچی جنوبی لیاری، کراچی غربی اورنگی اور کیماڑی) میں تعمیر کئے ہیں، جس کی بنیاد دمبہ گوٹھ میں 1972 میں رکھی گئی تھی جس میں 6 کمرے اور 170 طلبہ تھے لیکن اس وقت اسکول میں 23 کمرےبشمول 15 پرانے کمرے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ 685 طلبہ اور 23 اساتذہ شامل ہیں۔
اسکول میں لیب، سائنس روم، کمپیوٹر لیب، اساتذہ کے لیے کمرے اوراسکول میں پلے ایریا، صاف پانی، بیت الخلاء، ایک بڑا ہال موجود بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اسکولز صوبے کے 10 اضلاع میں تعمیر کیے جارہے ہیں جس میں سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، دادو، قمبر، شہدادکوٹ، جیکب آباد، کشمور، کراچی ملیر،گڈاپ اور بن قاسم ، کراچی ساؤتھ، لیاری، کراچی ویسٹ، اورنگی اور کیماڑی شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اسکولز پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت چلائے جائیں گے،ان اسکولز میں شام کی شفٹ میں نان، فارمل ایجوکیشن تعلیم دی جائی گی، شام کی شفٹ کے ذریعے 39 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچے اسکول لائے جائیں گے جبکہ 5 سالہ پرائمری کا کورس 3 سال میں مکمل کرایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم تعلیم کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں،ہم سندھ میں اچھی تعلیم کو فروغ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پرائمری تعلیم، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اور پھر یونیورسٹی تک اچھے ماحول میں بہتر تعلیم کے لیے کام کررہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام کے لیے 10 ملین ڈالرز خرچ کررہی ہے، یہ اسکول کمپلیکس ہے جس میں پرائمری اسکول ہے۔

 

وزیراعلیٰ سندھ نے امریکن اتھارٹیز بالخصوص یو ایس ایڈ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سندھ میں تعلیم کے فروغ میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔ گورنمنٹ سیکنڈری اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ایک عظیم موقع ہے کہ میں کراچی کے قدیم اسکول کاامریکی سفیر کے ساتھ افتتاح کر رہا ہوں ، انھوں نے کہا کہ میرا ضلع جامشورو یہاں سے 10 کلومیٹر آگے سے شروع ہوتا ہے اورمیرے والد سید عبداللہ شاہ اس گاؤں میں آتے تھے اور انکا حلقہ تقریباً یہاں سے شروع ہوتا تھا،اس گاؤں دمبہ گوٹھ کے لوگ میرے والد کے ووٹرز رہ چکے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں امریکی حکومت اور امریکی عوام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس اسکول کی تعمیر میں ہماری مدد کی، آج یہاں بچوں نے جس طرح پرفارم کیا اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہماری تعلیمی ترجیحات رنگ لا رہی ہیں،آج سے چند سال پہلے لوگ اپنے گاؤں کیلئے پولیس اسٹیشن، پولیس کے خلاف شکایات، بجلی، روڈ مانگتے تھے لیکن اب لوگ ہم سے اسکول مانگتے ہیں جوکہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

 

 

 

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے یہاں بچیوں کی آنکھوں میں جو آج چمک دیکھی ہے، یہ بچیاں مستقبل کی بینظیر بھٹو ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ واقعی یہ ایک مسئلہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں پرائمری اسکول ہے تو ہائی اسکول نہیں، اگر ہائی اسکول ہیں تو ہائیر ایجوکیشن کے لیے کالج نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم پلان کر رہے ہیں کہ اسکول کمپلیکس قائم کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو سکے،ہم جلد اس اسکول کو اپ گریڈ کریں گے اوریہاں کیڈٹ کالج بھی قریب ہے۔ تقریب سے امریکن سفیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جانب سے پروگرام ہوسٹ کرنے سے وہ کافی متاثر ہوئے ہیں اور بچوں نے جس اعتماد کے ساتھ پرفارم کیا ہے یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکن اور سندھ حکومتیں تعلیم کے شعبے میں ملکر کام کر رہی ہیں، یو ایس ایڈ اور سندھ حکومت کے تعمیر شدہ اسکولوں میں ہر سال 80ہزار طلباء تعلیم حاصل کرینگے۔

 


امریکی سفیر نے کہا کہ سندھ حکومت اسکول چلانے کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کررہی ہے۔ امریکن سفیر نے کہا کہ 43 اسکولوں کے انتظام کو اچھے شہرت یافتہ پارٹنرز/ ماہر تعلیم کے سپردکیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اصلاحات کے لیے سندھ حکومت کو 25 کروڑ روپے بھی دیئے ہیں، یہ قرض نہیں بلکہ سندھ حکومت کی مدد ہے۔ پاؤل جانز نے کہا کہ وہ اسکول کے ہیڈماسٹر اور اساتذہ کے شکرگزار ہیں کہ وہ بچوں کو بہترین طریقے سے تعلیم دے رہے ہیں اور میں وزیراعلیٰ سندھ کا بھی شکرگزار ہوں جوکہ اپنی ذاتی دلچسپی لیکر صوبے میں تعلیم کیلئے کام کر رہے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امریکن سفیر پاؤل ڈبلیو جونز   Paul W. Jones اور قونصل جنرل رابرٹ سلبرسٹین Robert Silberstein کے ساتھ اسکول کا افتتاح کیا، تقریب میں بچوں نے ٹیبلو پیش کئے، پروگرام کو اسکول کے بچوں نے ہوسٹ کیا جبکہ پروگرام کی کمپیرنگ بچوں نے اردو، سندھی اور انگریزی زبان میں کی۔