اداکار کمال نرسری کے علاقہ میں ایک بہت بڑے بنگلے میں رہا کرتے تھے

جب میں لاہور سے کراچی جا رہا تھا تو میرے والد نے مجھے اپنے تین دوستوں کے نام خط لکھ کر دیے تھے ان تین میں سے ایک نام حمید کشمیری کا بھی تھا اور دوسرے دو تھے اداکار کمال اور ممتاز مزاح نگار ابراہیم جلیس، میں نے یہ تینوں خطوط ابھی تک اپنی جیب میں ہی رکھ چھوڑے تھے، حمید کشمیری صاحب کو تو روزانہ دیکھتا تھا مگر انہیں ہاشمی صاحب کا رقعہ نہیں دیا تھا، کمال صاحب اور ابراہیم جلیس صاحب سے اس وقت تک ملاقات بھی نہیں کر سکا تھا، ایک دن میں نے اپنی ساری جھجھک اتار کر باپ کا دیا ہوا خط حمید کشمیری صاحب کے ہاتھ میں تھما ہی دیا،

خط پڑھ کر انہوں نے مجھے گلے سے لگا لیا اور میرا ہاتھ تھام کر مجھے ایک قریبی ہوٹل میں لے گئے، انہوں نے چائے پلانے کی بجائے مجھے زبردستی کھانا کھلایا، پھر اچانک کہنے لگے، بیٹا! میں تو تمہیں کئی ہفتوں سے آتے دیکھ رہا ہوں، یہ خط میں نے انہیں آج کیوں دیا؟ میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے جواب دیا، چاچا جی! بس ویسے ہی ایک جھجھک سی تھی۔ اداکار کمال نرسری کے علاقہ میں ایک بہت بڑے بنگلے میں رہا کرتے تھے، یہ ان کا آبائی گھر تھا، میرے علم میں تھا کہ کمال صاحب کا تعلق کسی نواب خاندان سے ہے، میں اس علاقے سے کئی بار گزرا لیکن کبھی ان سے ملاقات کے لئے نہ جا سکا، البتہ حمید کشمیری سے تعارف ہوجانے کے کچھ دنوں بعد ابراہیم جلیس سے ملنے کی ٹھان لی۔ وہ پیر الہی بخش کالونی میں کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہ رہے تھے۔  ایک نامور کالمسٹ اور صحافی کو اس خستہ حالی میں دیکھ کر مجھے کوئی صدمہ نہ ہوا، بلکہ میرے وجود میں ان کی توقیر اور بڑھ گئی، اس واقعہ کے تین سال بعد دوبارہ کراچی گیا تو سب سے پہلے ابراہیم جلیس صاحب سے ملا، وہ ان دنوں بندر روڈ پر کرائے کے ایک چھوٹے سے آفس سے ہفت روزہ ”عوامی عدالت“ نکال رہے تھے، سب کچھ وہ اکیلے ہی کیا کرتے تھے سوائے کتابت کے، مالی حالت مخدوش تھی، ہرہفتے رسالہ نکال لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔

 

میں اپنے روزنامہ میں ڈیوٹی پر ہوتا تو اکثر ان کا فون آجاتا، وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بتاتے اور یہ چیزیں میں اپنے آفس سے نکلوا کر خود انہیں پہنچا آتا۔ اسی بہانے گپ شپ بھی ہو جاتی، میں جلیس صاحب کا فین بن چکا تھا۔ طنزیہ کالم لکھنے کا جو ہنر ان کے ہاتھ میں تھا اور کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ صرف اور صرف عام آدمی کے لئے لکھتے تھے، وہ طبقاتی معاشرے میں مساوات کے خواہاں تھے، برے سے برے حالات میں بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں رہتی اور وہ اس مسکراہٹ کو ہر چہرے پر دیکھنا چاہتے تھے، 1978 ء میں ابراہیم جلیس کراچی میں ایک اخبار کے ایڈیٹر بنا دیے گئے، یہ منصب انہیں اس وقت ملا جب میڈیا کی آزادی کو جنرل ضیاء الحق نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنا رکھا تھا، انہی حالات میں ابراہیم جلیس کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ہمیں چھوڑ گئے، ان کی موت پر میں نے نوحہ لکھا، عنوان تھا ”مسکراہٹ کی موت“ خاور نعیم ہاشمی
بشکریہ روز نامہ 92 نیوز