کشمیر کے مسئلے میں تو اپوزیشن کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہی

کشمیر کے مسئلے میں تو اپوزیشن کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہی ہے۔ انہیں یا تو حکومتِ وقت کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے یا الگ سے کوئی لائحہ عمل بنائیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بھائیوں کی جدو جہد کو منزل سے ہمکنار کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اکیسویں صدی میں کیا سیاسی سفارتی اور مالی راستے اختیار کیے جائیں۔ جن کی بدولت کشمیریوں کی آواز پوری دنیا تک پہنچ سکے۔ اپنے ملک میں تو ہم بڑے بڑے جلسے کرسکتے ہیں۔ ریلیاں نکال سکتے ہیں۔ لیکن اصل کارگر طریقہ تو یہ ہے کہ امریکی کانگریس کے ارکان۔ برطانیہ اور دوسرے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ۔ چین روس کے سرکردہ حکومتی ارکان کو قائل کیا جائے۔ اس کے لیے جو طریقے بھی ہوسکتے ہیں اختیار کیے جائیں۔ بھارت میں حالات نے ترقی کا رُخ اس وقت اختیار کیا جب 90ء کی دہائی میں امریکہ میں موجود بھارتی نژاد امریکیوں جنہیں بھارت والے این آر آئی( نان ریذیڈنٹ انڈین) کہتے ہیں۔ انہوں نے امریکی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور امریکی فیصلہ سازوں کو قائل کیا کہ سرد جنگ میں روس کا ساتھ دینے والا بھارت دراصل امریکہ کا دوست ہے۔ وہاں کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ وہاں جمہوریت ہے۔ اور ایک ارب سے زیادہ انسانوں کی مارکیٹ ہے۔ کیا یہی کردار ہمارے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کو نہیں ادا کرنا چاہئے۔ اب تو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں بہت کم ہوگئی ہیں۔ اکثر تنظیمیں کالعدم ہوگئی ہیں۔ اب حکومتیں الیکشن سے ہی تبدیل ہوتی ہیں۔ سمندر پار مقیم پاکستانیوں اور ملک میں قائم یونیورسٹیوں کو آگے آنا ہوگا۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر مقام یہ دونوں مل کر دلواسکتے ہیں۔بین الاقوامی ماہرین۔ تجزیہ کار۔ سفارت کار۔ جلسوں جلوسوں کو نہیں بلکہ معاشی اشاریوں کو دیکھتے ہیںکہ ایک ملک کے پاس زر مبادلہ کے کتنے ذخائر ہیں۔ برآمدات کتنی ہیں، شرح نمو۔ فی کس آمدنی کیا ہے۔ سیاحت سے کتنی آمدنی ہے۔ زرعی پیداوار فی ایکڑ کیا ہے۔ بد عنوانی میں کس نمبر پر ہے۔ شرح خواندگی کیا ہے۔ کتنی غیر ملکی ایئر لائنیں اس ملک کے فضائی اڈوں پر اترتی ہیں۔ ان عالمی طاقتوں کا معیار یہ نہیں ہے کہ مظفر آباد کے جلسے میں کتنے لاکھ آئے۔ کتنے نئے قومی ترانے لکھے گئے۔ کتنے گھنٹے ٹریفک روکا گیا۔ ہمیں اپنے روڈ میپ بدلنے ہوں گے۔ تب ہی پہلے پاکستان، پاکستان بنے گا اور پھر کشمیربنے گا پاکستان۔