مولانا فضل الرحمان کی سیاسی و اخلاقی حمایت ضرور کریں گے: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دھرنوں سے متعلق ان کی جماعت کی ایک پالیسی ہے، انہوں نے پی ٹی آئی، ٹی ایل پی، طاہر القادری سمیت کسی کے دھرنے میں شرکت نہیں کی تو اب بھی متوقع دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے تاہم وہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی و اخلاقی حمایت ضرور کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ایک جانب مولانا فضل الرحمان دھرنا دے رہے ہوں گے، وہ اور ان کی پارٹی ملک بھر میں جلسے کرے گی۔

 

مسلم لیگ نون کے فیس بکی دانش وروں کے مطابق یہ پاکستان پیپلزپارٹی کا مُک مُکا ہے، ان سستے قسم کے دانش وروں کے مطابق اپنے اس عمل سے پاکستان پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ سے مل چکی ہے۔ ان نام نہاد دانش وروں سے کچھ سوال ہیں! اگر پی پی نے کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے تو کیوں اسٹبلشمنٹ سرتوڑ کوششوں سے سندھ میں فارورڈ بلاک بنانے جارہی ہے؟ اگر پی پی نے کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے تو کیوں وفاقی وزیرقانون کراچی میں مداخلت کے لئے آرٹیکل 149 کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگر پی پی نے کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے تو کیوں پراڈکشن آرڈرز جاری ہونے کے باوجود حکومت فریال تالپور کو سندھ اسمبلی میں پیش نہیں کررہی؟ اور کیوں انہیں غیرقانونی طور پر راتوں رات اسپتال سے جیل منتقل کیا گیا! اگر پی پی نے کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے تو کیوں بے جرم وسزا قید آصف زرداری کی اڈیالہ جیل میں انسانی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟ یہانتکہ فیملی اور وکلاء تک سے ملنے نہیں دیا جارہا۔

 

کیا کسی ڈیل کے بعد سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں، کراچی میں مداخلت کی پھلجھڑیاں اور آصف زرداری فریال تالپور سے ہونے والی حق تلفیاں ممکن تھیں؟ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کو ڈیل ہی کرنا ہوتی تو اپنی قیادت کے لئے کوئی رعایت تو لیتی۔ سینیٹ انتخابات میں بھی مسلم لیگ نون کے راہنماؤں کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی پر ایک جانب ڈیل کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور دوسری جانب دنیا نے عوامی قیادت کا بدترین استحصال دیکھا! پاکستان پیپلزپارٹی کا دھرنے میں عدم شرکت کا فیصلہ اور ملک بھر میں جلسے ایک سیاسی حکمت عملی ہے، سطحی اور نوخیز دانش وروں سے درخواست ہے کہ ذہن پر زور نہ ڈالیں کہ یہ کہیں چٹخ نہ جائے۔