بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے پر عوامی ردعمل

حکومت کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے پر عوام کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر لوگ اپنا غصہ بھی نکال رہے ہیں اور کچھ نے اس اقدام کو سراہا بھی ہے ہم لوگ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سارے عالمی قوانین قانون اور قاعدے کی صرف پاکستان پر لاگو ہوتے ہیں کیا آپ جنگی قیدیوں کو رہا کرنا صرف فاکستان کا فرض ہے بھارت سے پاکستانیوں کو لاشیں بھیجی جاتی ہیں جو لوگ غلطی سے بارڈر کراس کر جاتے ہیں ان کے ساتھ بھارت کا سلوک اور رویہ وحشیانہ ہوتا ہے

آئیے آپ بھی ملاحظہ کیجیے عوام کا ردعمل کیا ہے

بھارتی فوجی کی رہائی کے حوالے سے میرا سوال ہے کہ کیا ساری پابندیاں اور سارے ضابطے اور کنونشن صرف ہم پر ہی لاگو ہوتے ہیں بھارت پر اس کا بلکل بھی اطلاق نہیں ہوتا!!! فرض کرلیں اگر یہی معاملہ اس کے بلکل برعکس ہوتا اور خدانخواستہ ہمارا کوئی فوجی انکی قید میں آگیا ہوتا تو بھارت نہ تو جینیوا کنونشن کا خیال کرتا اور نہ ہی عالمی برادری کا لحاظ بلکہ اپنی ٹھوکر میں رکھتا۔۔۔ ذرا چلے جائیں 1971 کی جنگ میں جب ہمارے ایک لاکھ فوجی جنکو بھارت نے جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ میں نے بعد میں پڑھا کہ ہمارے فوجیوں کو رہا کرانے کے لئے پاکستان کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔۔۔ بھٹو مرحوم نے بہت جدو جہد کی، عالمی برادری پر اپنا اثرورسوخ استعمال کیا، اقوام متحدہ بھی دباؤ ڈالتا رہا مگر بھارت کسی کو خاطر میں نہیں لایا۔۔۔ بہت دیر اور بڑی لیت و لعل کے بعد ہمارے فوجیوں کو بھارتی قید سے رہائی نصیب ہوئی تھی۔۔۔ اور بھارت میں قید کے دوران جس طرح انکے ساتھ سلوک روا رکھا گیا تھا وہ بھی انتھائی ذلت آمیز تھا۔۔۔ مگر کیا ہوا۔۔۔ دنیا پھر بھی بھارت کی تمام چیرہ دستیوں پر خاموش ہی رہی۔ حالانکہ وہ باقاعدہ طور پر دو طرفہ ایک علانیہ جنگ تھی جبکہ یہ قطعی جنگ نہیں تھی بلکہ بھارت کی ہمارے ملک میں ناجائز دخل اندازی تھی۔ چنانچہ اس پر تو ویسے بھی جنیوا کنونشن لاگو نہیں ہوتا۔۔۔ یہ بہترین وقت تھا کہ اس مردود کو ابھی رہا نہ کرتے تاکہ ہمارے پاس بارگیننگ پوزیشن ہوتی ہم اس پر کوئی سودے بازی کرسکتے تھے۔۔۔۔ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ ایک پاکستانی کو جو غلطی سے سرحد پار کرگیا تھا اسے بھارت نے کئی برس قید رکھا اور ابھی صرف ایک ہفتہ قبل اس بے گناہ شخص کو اپنی جیل میں مروادیا۔ دنیا خاموش رہی۔۔۔یہ ہے بھارت کی خیر سگالی ہمارے لئے۔۔۔نہ جانے ہم کیوں دنیا کی اتنی پروا کرتے ہیں۔۔۔ ہم نے تو پہلے کئی بار بھارتیوں کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کیا مگر رہائی کے فوری بعد ہمارے اس جذبہ کو اس نے ہمارے ہی منھ پر دے مارا۔۔۔ آپ اور تمام قارئین میری یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلیں کہ کل رہائی کے بعد پہلے تو خود اس خبیث بھارتی فوجی کا پاکستان کے بارے میں خوبصورت تبصرہ سن لیجیے گا اس کے بعد بھارتی حکومت کا ہمارے لئے پیار بھرا شاہی فرمان بھی سامنے آجائیگا۔ بھارت اب تک جو خاموش ہے اس کی رہائی کے بعد دیکھئے گا کہ وہ کس طرح ہمیں اپنی خباثت دکھائے گا اور ہمیں زک پہنچانے سے باز نہیں آئیگا۔۔۔ کل کی کیا بات کی جائے آج ہی ٹوئیٹر پر بھارتیوں کے تبصرے آرہے ہیں کہ پاکستان ڈر کی وجہ سے اسے رہا کررہا ہے۔
اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔



اپنا تبصرہ بھیجیں