جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے ملّا برادر کو گرفتار کر لیا

ملّا برادر کو 2010ء میں کراچی کے قریب سے گرفتار کیا گیا تو امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ وہ اُس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ خفیہ بات چیت کر رہے تھے۔ کرزئی نے ملّا برادر کے ساتھ رابطہ کیا تھا اور پیشکش کی تھی کہ وہ لویہ جرگہ میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ اُس وقت پاکستان کے ارباب اختیار کو یہ بہت برا لگا کہ افغان طالبان اور کرزئی نے براہِ راست ایک دوسرے سے رابطے شروع کر دیئے ہیں اور جب 8فروری 2010ء کو ملّا عبدالغنی برادر کو گرفتار کیا گیا تو بعض مغربی اخبارات نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ گرفتاری امریکہ کی فراہم کردہ اطلاع پر ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ قریب تھی لیکن وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے ملّا برادر کو گرفتار کر لیا تاکہ افغان امن مذاکرات میں اُن کی اہمیت بڑھ جائے اور اس اہمیت کی وجہ سے اُنہیں توسیع مل جائے۔ جنرل کیانی کو توسیع تو مل گئی لیکن افغان امن عمل آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ قیدی بننے کے بعد ملّا برادر نے اپنے ’’جیلر‘‘ کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔