پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان مصباح الحق کی بطور کوچ و چیف سلیکٹر تقرری

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان مصباح الحق کی بطور کوچ و چیف سلیکٹر تقرری کو کھیلوں کے مبصرین و کرکٹرز نے ملکی کرکٹ کے روشن مستقبل کے تناظر میں مثبت فیصلہ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کا ایک اچھا پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار کسی غیر ملکی کے بجائے قومی کھلاڑیوں کو فوقیت دی گئی۔ پی سی بی نے سابق کپتان کو مکی آرتھر کی جگہ تین سال کیلئے ہیڈ کوچ اور انضمام الحق کی جگہ چیف سلیکٹر مقرر کرنے کے ساتھ وقار یونس کو اظہر محمود کی جگہ 2022ء تک بولنگ کوچ کا عہدہ دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر کے عہدے بیک وقت ایک ہی شخص کے سپرد کئے گئے۔ بلاشبہ قومی ٹیم کے 18ویں کوچ مصباح الحق کے کندھوں پر اب دہری اور بھاری ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو ٹیلنٹ کی تلاش کے ساتھ تینوں فارمیٹ کی ٹیموں کیلئے موزوں کھلاڑیوں کا بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دونوں کوچز کا پہلا امتحان سری لنکا کے خلاف سیریز ہوگی جبکہ اس کے بعد عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی سیریز میں صلاحیتوں کے اصل اظہار کا کھلا چیلنج درپیش ہوگا۔ دیکھا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب پر سلیکٹر اور کپتان میں اختلاف کی عمومی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس باب میں اپنی تقرری کے بعد مصباح الحق کا یہ کہنا کہ بطور کوچ و سلیکٹر رائے دی جائے گی لیکن حتمی ٹیم منتخب کرنے کا حق کپتان کے پاس ہوگا، خوش آئند امر ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مصباح الحق نے بطور کرکٹر بہترین خدمات انجام دیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے بارہا ان کی بیٹنگ اور کپتانی پر کڑی تنقید کی گئی لیکن انہوں نے جواب دینے کے بجائے اپنی انتھک محنت و کارکردگی سے پاکستان ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں نمبرون کا مقام دلوا کر ناقدین کو خاموش کیا۔ انہوں نے 56ٹیسٹ میچوں میں بطور کپتان 26جیتے، 87ون ڈے انٹرنیشنل میں 39میچز اور آٹھ عالمی ٹی ٹونٹی میں سے چھ میں کامیابی حاصل کی۔ اسی لئے امید کی جا رہی ہے کہ بطور کوچ و سلیکٹر بھی سابق کپتان کی قائدانہ صلاحیتوں کا قومی کرکٹ کو فائدہ ہوگا