عبدالقادر ایک سادہ انسان تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری عقیدت اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود رہنے والے عاجز بندے تھے

’’ باؤ‘‘کے نام سے مشہور عبدالقادر نے 1977ء سے 1993ء تک پاکستان کے لئے 67 ٹیسٹ اور 104 ون ڈے کھیلے، 2009ء میں انگلینڈ میں یونس خان کی قیادت میں آئی سی سی ورلڈ ٹی20 جیتنے والی ٹیم کو منتخب کرنے والے اسکواڈ کے چیف سلیکٹر عبدالقادر ہی تھے، جنہوں نے بورڈ کو شعیب اختر کو ٹیم سے الگ کرنے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
چودھری ذکاء اشرف کے دور میں عبدالقادر اسپن بولنگ کوچ کی حیثیت سے ایک بار پھر منسلک ہوئے، تاہم اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے والے عبدالقادر بورڈ کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکے۔
’’ صدی ‘‘ کے 100بہترین کھلاڑیوں میں منتخب ہونے والے واحد کرکٹر جنہیں آسڑیلیا کا’’ رائیڈر‘‘میڈل ملا۔ حکومت پاکستان نے انہیں’’ تمغہ حسن ‘‘ کارکردگی سے نوازا۔
’’مشرق کے جادوگر‘‘کہلانے والے عبدالقادر سے ملاقات کے لئے آسڑیلیا کے لئے 708ٹیسٹ وکٹیں لینے والے شین وارن لاہور میں ان کے گھر گئے، دوسری جانب انگلینڈ کے سابق کپتان گراہم گوچ نے عبدالقادر کو شین وارن سے بہتر بولر قرار دیا۔
میرا عبدالقادر سے تعلق کیا تھا؟ بطور کھیلوں کے صحافی قادر بھائی نے ہمیشہ میری پذیرائی کی۔ وہ اکثر میرے پروگرام ’’اسکور‘‘ کو دیکھنے کے بعد کسی اور ٹی وی پر میرا تبصرہ دیکھ کر ضرور فون کرتے، لیکن افسوس اب وہ مجھے کبھی فون نہیں کریں گے، وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں، بہت مطمئن اور پرسکون ہو کر۔
قادر بھائی پاکستان کے ان چند کرکٹرز میں سے تھے جنھوں نے بورڈ کی جانب نوکری کے لئے نہیں دیکھا، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو وہ ’’امی‘‘ یا کپتان کہتے تھے۔
عمران خان سے بنی گالا میں وزیر اعظم بننے کے بعد جب وہ جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس سمیت دیگر کرکٹرز کے ہمراہ گئے تو انہوں نے سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کے ہمراہ محکمہ جاتی کرکٹ کو ختم کرنے کی سخت مخالفت کی تھی۔ قادر بھائی’’ پی سی بی‘‘اور میچ فکسنگ کے خلاف کھل کر اور بے باک گفتگو کرنے والے کرکٹر تھے۔
عبدالقادر ایک سادہ انسان تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری عقیدت اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود رہنے والے عاجز بندے تھے۔
رحمان قادر، سلمان قادر اور عثمان قادر کے ساتھ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ چھوٹی صاحبزادی نور ٹیسٹ بیٹس مین عمر اکمل کی اہلیہ ہیں ۔
صحت کے حوالے سے عبدالقادر کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس سال 9 اپر یل کو جب میں لاہور عبدالقادر کا انٹرویو کرنے گیا تو وہ مجھے گورنمنٹ اسپتال اپنے ہمراہ ڈاکٹر شہزاد انور کے پاس اپنی پتھری کے علاج کے سلسلے میں لے کر گئے تھے۔
ہاں سفر کے حوالے سے عبدالقادر اب زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے، حالیہ عرصے میں کراچی میں جو دو سیمینار ہم نے منعقد کئے، عبدالقادر صاحب نہیں آئے۔
عبدالقادر زرعی ترقیاتی بینک کے کوچ تھے، انہوں نے گذشتہ سیزن میں اپنی ٹیم کو ’’گریڈ‘‘ ون میں کوالیفائی کرایا تھا، البتہ محکمہ جاتی کرکٹ ختم ہونے سے ان کی کوچنگ بھی ختم ہوگئی تھی۔ عبدالقادر کے فرزند سلمان قادر’’ ایل سی سی اے‘‘گراؤنڈ پر انہی کے نام سے اکیڈمی چلا رہے ہیں۔
عبدالقادر ایک زندہ دل اور سچ بولنے والے شخص تھے۔ یہ چند سطریں ان کے لئے کچھ نہیں، ان پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، (آمین)