سفارت کار تنخواہ کے عوض محب وطن بنتے ہیں اور بغیر تنخواہ والے محب وطن کو ……. تحریر: امیر محمد خان، جدہ

تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ میں اگر گزشتہ ستر سالوں کا جائزہ لیا جائے توہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے کئی مواقع اغیار پر اندھا اعتقاد کرکے پاکستان کی لیڈر شپ نے کشمیر کی آزادی کے مواقع خود کھوئے ہیں ، ہماری پالیسی اغیار کے بھروسوں یا ان کے سیاہ کارناموں میں انکا ساتھ دینے میں اتار چڑھاﺅ کا شکار رہی ہے ۔ کبھی دوستی ، کبھی دشمنی ، اس صورت میں ہم پاکستان کے ان ساست دانوں کے تجزیوں کو بھول جاتے ہیں جو صرف فروعی باتیں نہیں کرتے تھے بلکہ عالمی حالات ، تعلقات ، مستقبل کے معاملات پر بھر پور نظر رکھتے تھے ، ذولفقار علی بھٹو نے کتاب میں تحریر کیا تھا کہ نہرو کی سوچ وہی ہے جو آر ایس ایس کے لیڈر ساوارکر تھی یہ اکھنڈبھارت پر یقین رکھتے ہیں اور بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیاگیا ۔ ہمیں اسی پیرائے میں راج ناتھ کی دھمکی کو بھی لینا چاہئے، یہ دھمکی نہیں بلکہ ایک سوچ ہے۔

  اسی طرح 1957 میں جب حسین شہید سہروردی سے اسوقت کے امریکی صدر نے پاکستان میں امریکی افواج کیلئے اڈے مانگے تو انہوں نے شرط رکھی کہ امریکی صدر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کریں اڈہ دےدیا جائے گا، مورخ بتاتاہے کہ بات چیت مثبت سمت جانے لگی تو میجر جنرل سکندر مرزا نے بطور طاقت ان سے استعفیٰ لے لیا ،سہروردی نے اپنے بعد کے انٹرویو میں یہ کہا کہ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے مگر کشمیر ہاتھ سے نکل گیا۔ ایک موقع پاکستان کو دوست ملک چین نے فراہم کیا جب 1962 ء مین چین اوربھارت کی جنگ شروع ہونے لگی تو چین کی حکومت نے ایوب خان کو پیغام دیا کہ چین کی افواج سرحدوں پر ہیں یہ موقع سب سے بہتر ہے اپنی افواج کشمیر میں داخل کردو چونکہ بھارت کسی قرارداد یا معاہدہ کو نہیں مانتا مرحوم ایوب خان چین کی بات کو نظر انداز کرکے اس وقت کے امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کی مشوروں پر عمل کرتے ہوئے کشمیر میں افواج بھیجنے کیا بات سنی ان سنی کردی ۔ایک موقع پر ایوب خان نے 1965 میں ” میرے عزیز ہم وطنوں “ کا تاریخ ساز خطاب کیا مگر نیت حکومت کو بچانا تھا چونکہ محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں ایوب خان حکومت کے خلاف تحریک چل چکی تھی جس سے توجہ ہٹانے کیلئے ایوب خان سرگرم ہوگئے۔

یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 1948 اور 1949 میں نہرو کی درخواست پر اقوام متحدہ میں قرار دادین منظور ہوئیں اور استصواب رائے ،حق خود ارادیت کی بات کی گئی ، مگر یہ نام نہاد عالمی ادارے کچھ نہ کرسکے اس میں جہا ں 99 فیصد اقوام متحدہ کا قصور ہے وہیں ایک فیصد ہی صحیح مگر کشمیر کا مقدمہ لڑنےوالے پاکستان میں سالانہ کی بنیاد پر صرف مطالبے ہی کئے ۔اور بھارت جیسے ملک کے ساتھ کبھی دوستی کبھی دشمنی کا مظاہرہ کیا جس سے ہمارے دوست ممالک بھی ہماری پالیسی نہ سمجھ پائے اور آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑرہا ہے جب کشمیریوں کا خون خود آواز دے کہ عالمی ٹھیکداروں کو پکار رہا ہے کہ اسکا تصفیہ کرو ۔ کشمیر کے نہتے مسلمان بھارت کا تمام ظلم سہہ رہے ہیں ، بھارت نسل کشی میں مصروف ہے، عالمی اداروں کی سنجیدہ کاوشوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکر اب وہ آسام میں مسلمانوں پر پر ظلم توڑنے کے نقش قدم پر چل پڑا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کیلئے مسئلہ صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کی طرف اسکا رخ ہے اور علاقے میں مسلمانوں کیلئے آواز اٹھانے کیلئے پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں ، اسلئے اسکی ناجائز نظر پاکستان پر بھی ہے جسکے لئے کوئی موقع وہ ہاتھ سے نکال دینے پر تیار نہیں۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے عالمی اداروں کی خاموشی اور بھارتی بربریت کے باوجود پاکستان ہر لمحہ  اور ہر جگہ مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔ جسے بھارت ہر گز کمزوری نہ سمجھے ، آج کی دنیا میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں مذاکرات تو بہرحال کرنا پڑینگے ۔پاکستان کی قیادت کے پاس اسوقت سب سے مضبوط فورم اسلامی تنظیم کا ہے گو کہ اس میں چند ممالک اپنے مفادات کی وجہ سے کھل کر بھارت کی مذمت سے قاصر ہیں مگر پاکستان کو اپنی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں ۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اس لئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو چاہئے کہ شیخ رشید کو میدان میں نہیں چھوڑنا چاہئے ، جنہیں دنیا کی سیاست کا پتہ نہیں ماسوائے جذباتی انداز میں عوام میں وقتی واہ واہ کہلوانے کے ۔میںنے پہلے بھی کالم میں تحریر کی تھا ہماری وزارت خارجہ وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرسکتی ہے ، آج وزیر خارجہ ، اور وزیر اعظم خود دنیا کے حکمرانوں سے رابطہ کرکے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ پیش کررہے ہیں جس میں یقیناً انہیں کامیابی ہوگی اور امید ہے اسکا مظاہرہ ستمبر میں وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران ہوگا جب کہ مودی بھی وہاں موجود ہوگا ۔

اگر بیرون ملک تعنیات سفارت کار واقعی ہی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہے ہوتے تو وزیر اعظم، وزیر خارجہ ، اور پاکستان کیلئے دنیا کواپنا موقف پیش کرنے میں زیادہ آسانی ہوتی ، مگر افسوس اس بات کا ہے اربوں روپے سے قائم سفارت خانے ، اس میں موجود سفارت کار جن پر عوام کے ٹیکسوں کو اربو ں روپیہ خرچ ہوتا ہے وہ بیرون ملک اپنی ذمہ داریا ں احسن طریقے سے نہیں نبھاتے رہے ، نہ وہ ہی بیرون ممالک پاکستان کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کے اہل ہیں اور نہ ہی پاکستان کو عزت و وقار دلانے کی تگ و دو میں اپنا کردار کرتے رہے ہیں ۔ کم از کم سعودی عرب میں پاکستانی سفارتکاروں کو میں یہاں گزشتہ تیس سال سے دیکھ رہا ہوں ماسوائے دو ایک ہمدرد جو حکومت سے تنخواہ کے عوض پاکستان کے محب وطن نہیں بلکہ دل سے محب وطن تھے جبکہ اکثریت کی محب وطنی پاکستان سے ملنے والی تنخواہ کے عوض ہوتی ہے ۔ وہ کمیونٹی کے مسائل کا حل تو کیا بلکہ کمیونٹی کوتقسیم کرنے پر زیادہ ایمان رکھتے ہیں ۔ اور کسی بھی مسئلے کی شکل میں اپنی ہی پھیلائی ہوئی تقسیم کو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کمیونٹی سیاست کرتی ہے ، کمیونٹی تقسیم ہے وغیرہ وغیرہ … حال ہی کا ایک واقع جدہ کے ایک اسکول میں پیش آیا گو کہ یہاں کے دو اسکولوں کی طویل کہانیا ں ہیں ، پاکستان بدنامی کا باعث صرف یہاں اس لئے ہوتا ہے کہ نام نہاد سفارت کار معاملے کو حل کرنے کے بجائے پسند نہ پسند یا سنی سنائی پر فیصلے صادر کرتے ہیں ، ایک پاکستانی اسکول کے والدین نے شکایت کی اسکول کے معاملات بہتر ہونے کی حالیہ سفیر پاکستان متعین سعودی عرب سے ، نئے نئے تعنیات ہوئے تھے شکایات کنندہ کی حوصلہ افزائی کی ، والدین کی کہانی سننے کیلئے انہیں ریاض آنے کی دعوت دی وہ بیچارے اپنے خرچ پر ریاض گئے اور بہت خوش کہ مسئلے حل ہوجائینگے ۔ مسئلہ تو کوئی حل نہ ہوا نتیجہ کچھ یوں نکلا کہ اسکول انتظامیہ نے ان والدین کے خلاف جو سفیر پاکستان سے ملے تھے انہیں ایک خوامخواہ کی شکایت پر پولیس تک پہنچا دیا۔


اب ان والدین کو سفیر محترم ڈھونڈے سے نہیں مل رہے ۔اللہ جانے کب ملیں گے ۔ مندرجہ بالا تمام کہانی کا مقصد مختصر ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ اپنی رعایا کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ، متعلقہ وزارتوں کو اپنا کام کرتے رہنا چاہے خاص طور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، وزارت خارجہ کو چونکہ وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے دیگر وزارتوں سے تعنیات افسران کو گھانس ڈالنا یا ان کی رائے کو سننا اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ جب تک سب باہمی مشوروں سے کام نہیں کرینگے ۔ بیرون ملک نہ ہی پاکستان کی عزت اورنہ پاکستانیوں کی عزت ہوگی۔