سرمایہ کاری کاروباری تجارتی و صنعتی ترقی کا مرکز دھابیجی خصوصی اقتصادی زون ….. تحریر: حسن اصغر نقوی

سرمایہ کاری، تجارتی و صنعتی ترقی کا مرکز “دھابیجی خصوصی اقتصادی زون “
تحریر:  حسن اصغر نقوی
بندرگاہوں کو جہاز رانی اور بھاری تجارتی سازوسامان کی ترسیل کے لیے پوری ذہانت سے استعمال کرنے والے انگریز نے مدراس اور کلکتہ پر لنگر انداز ہونے اور ان بندرگاہوں سے تجارت و کاروبار کا آغاز کرنے کے ساتھ ہی برصغیر کے بندرگاہی شہروں کی اہمیت کو بھانپ لیا تھا لہذا انہوں نے اپنی حکمرانی کے آغاز سے ہی برصغیر کے طول و ارض میں ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع کیا تاکہ تجارتی سامان کو بآسانی برصغیر کے  تمام علاقوں تک پہنچایا جا سکے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ کے ساحلی شہر کراچی کو پاکستان کا پہلا دارالحکومت ہونے کا اعزاز ملا اور سندھ کے اس شہر نے تعلیم ، تربیت روزگار،صنعت ، تجارت اور خدمات کے شعبوں میں تیز ترین ترقی سے سب کو حیران کر دیا پوری دنیا کی ایئر لائنز کراچی ایئرپورٹ پر اترتیں اور سارے جہان کے بحری جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوتے۔ کاروبار تجارت اور روزگار کے وسیع مواقع کے باعث پاکستان کے دیگر صوبوں کے محنت کشوں نے مسلسل یہاں کا رخ کیا چنانچہ کراچی کی آبادی بہت تیزی سے بڑھتی ہوئی کروڑ کے ہندسے کو عبور کر گئی بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب بہت سے مسائل بھی پیدا ہوئے جن میں روزگار کے مواقعوں کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت صوبے کے تعلیم یافتہ ہنر مند اور محنت کش افراد کو روزگار کی فراہمی کے لیے ایسے منصوبوں کو ترجیح اور فوقیت دے رہی ہے جن کے قیام سے نہ صرف روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع کشادہ ہوں بلکہ صوبے اور ملکی معیشت اور مقامی صنعتوں کو فروغ بھی ملے ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے عظیم دوست اور ہمسایہ ملک چین نے ”ون بیلٹ ون روڈ “کے اپنے تصور کے تحت پوری دنیا کو ایک راہداری کے ذریعے منسلک کرنے کا جو منصوبہ شروع کیا ہے اس میں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک )نے پاکستان میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی،سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقعوں  میں تیزی سے اضافے کی گنجائش پیدا کی ہے۔ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور انفرا اسٹرکچر کا جال بچھایا جارہا ہے جس کی مدد سے چین بذریعہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس اور وہاں سے آگے یورپ سے منسلک ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبے ہی کے تحت سندھ کے دارالحکومت کراچی سے متصل ضلع ٹھٹہ کے علاقے دھابیجی میں ایک عظیم الشان صنعتی و تجارتی شہر ” دھابیجی خصوصی اقتصادی زون” کے نام سے تعمیر کئے جانے کا منصوبہ رکھا گیا ہے۔اس صنعتی و تجارتی زون میں نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مفید اور سود مند مواقع مہیا کئے جائیں گے۔جبکہ یہاں سندھ اور پاکستان کے مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ انتظام بھی رکھا گیا ہے کہ اس زون میں سرمایہ کاری کے لئے ان سرمایہ کاروں کو ترجیح دی جائے گی جو مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری (پارٹنرشپ )میں اپنے منصوبے لگائیں گے۔اس پالیسی سے نہ صرف یہ کہ مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں کام کرنے سے ہمارے مقامی صنعتکاروں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی آگاہی حاصل ہوگی۔ سی پیک کے تحت اس خصوصی اقتصادی شہر کی تعمیر کے لیے سندھ حکومت نے کراچی سے بالکل متصل ضلع ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی میں 1530ایکڑ زمین ”دھابیجی خصوصی اقتصادی زون“کے نام سے مختص کردی ہے اس اقتصادی شہر میں مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ چین اور دنیا بھر کے مستحکم سرمایہ کاروں کو یہ موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ اس انتہائی اہم کاروباری شہر میں اپنی صنعتیں لگائیں یا دیگر ممالک میں چلنے والے اپنے کاروباری یونٹس کو پاکستان منتقل کریں کیونکہ چین سمیت دیگر صنعتی ممالک سستی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی حامل افراد ی قوت اور بہتر کاروباری مواقعوں اور اپنی پیداوار کی تیز ترین ترسیل کے لئے اپنے صنعتی یونٹس کو دوسرے سود مند مراکز مثلاً ویت نام، ملائیشیا ، انڈونیشیا ، انڈیا ، بنگلہ دیش وغیرہ جیسے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دھابیجی خصوصی اقتصادی زون سرمایہ کاروں کے لیے ایک آئیڈیل مقام ہے کیونکہ یہ زون کراچی پورٹ سے 35 کلومیٹر جبکہ پورٹ قاسم سے محض آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لہذا صنعتی سازو سامان کی نقل وحمل یہاں بہت تیزی اور سہولت سے ممکن ہے۔کراچی ایئر پورٹ سے محض 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث باہر سے آنے والے سرمایہ کار ایئرپورٹ سے بذریعہ سڑک چند منٹوں میں براہ راست یہاں پہنچ سکتے ہیں ۔ قومی شاہراہ اور مین ریلوے لائن بھی اس زون کو چھو کر گذر رہی ہے اس لحاظ سے بھی یہ ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے لئے آئیڈیل مقام ہے۔ خصوصی اقتصادی زون کے درجے کے حامل ہونے کے سبب اس زون میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مشینری اور صنعتی سازو سامان کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اورٹیکس میں 10 سال تک کی رعایت حاصل ہوگی جس سے صنعتیں تیزی سے فعال ہو کر روزگار اور معاشی استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکیں گی ۔ دھابیجی خصوصی اقتصادی زون کو فعال کرنے اور زون کو تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کےلئے یہاں ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے قیام کی تجویز سرفہرست رکھی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پیداواری اشیاءکو رکھنے کے لیے گوداموں (ویئر ہاؤسز) اور ٹرانسپورٹیشن کے لئے لاجسٹک پارک کی وسیع گنجائش رکھی گئی ہے۔زون میں آنے والے سرمایہ کاروں ،وفود اور مہمانوں کے قیام و طعام کے لئے جدید طرز کا پانچ ستارہ ہوٹل ،علاج معالجے کے لیے ہسپتال، ٹرامہ سینٹر۔ پیداواری اشیاءاور خدمات کی نمائش کے لئے بزنس سینٹر، ایکسپو سینٹر اور آڈیٹوریم جبکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فائر اسٹیشن و ایمرجنسی رسپانس سینٹر کے ساتھ ساتھ یہاں کام کرنے والوں کے لیے رہائشی زون بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ دھابیجی خصوصی اقتصادی زون کی فزیبلٹی سٹڈی اپریل 2018 میں مکمل کی گئی جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ نے اس منصوبے کی منظوری دی ۔کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے زون میں خدمات کی فراہمی کے لیے اخراجات کے تخمینے اور ممکنہ ٹائم لائن کی تفصیلات فراہم کردی ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے بھی ای سی سی( ECC)میٹنگ میں  بجلی اور گیس ترجیحی بنیادوں پر دینے کا وعدہ کیا ہے چنانچہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ( PSDP)کے تحت 3.6 ارب روپے کی لاگت سے 32میگا واٹ کا گرڈ اسٹیشن لگانے کے لیے پی سی ون  پاور ڈویڑن کو جمع کرا دی گئی ہے۔اس زون میں زیادہ سے زیادہ توانائی کی ضرورت 250 میگاواٹ ہے اور خوش قسمتی سے یہ منصوبہ چونکہ قدرتی ونڈ کوریڈورمیں واقع ہے لہٰذا محکمہ توانائی سندھ نے یہاں متبادل ذرائع (ہوا اور دھوپ )سے بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے لیے 22 جولائی 2019 کو کویت کی کمپنی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ دھابیجی خصوصی اقتصادی زون منصوبے کے آغاز کیلئے بین الاقوامی مسابقتی بڈنگ کی تیاریاں انتہائی مراحل میں ہیں بڈنگ کے بعد اس منصوبے کے لیے ڈیولپر کا حتمی انتخاب جنوری 2020 تک ہونے کا قوی امکان ہے جس کے بعد خصوصی اقتصادی زون اتھارٹی اور بورڈ آف انوسٹمنٹ اس زون میں کاروبار کرنے کے خواہشمندوں سے درخواستیں طلب کریں گے جس کے بعد جنوری 2021 میں زون میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا جن کی تکمیل پر اس اقتصادی زون میں کاروبار کے خواہشمند اپنے کام کا آغاز کر سکیں گے۔