شرمیلا فاروقی سمیت تین خواتین رہنماؤں کی درخواست میں وزیراعلی سندھ سے کیا مانگا گیا۔۔۔۔۔؟

من پسند ٹھیکے داروں کو کام نہ ملنے پر کراچی کے اربوں روپے کے فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ۔۔۔۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو گمراہ کن رپورٹ پیش کیے جانے کا انکشاف ۔وزیر بلدیات سعید غنی کے کوآرڈینیٹر رحمت اللہ شیخ اہلیان کراچی کے لئے زحمت بن گئے ۔۔محکمہ بلدیات کی حالت ۔۔۔۔آسمان سے گرا ۔۔۔۔۔کھجور میں اٹکا ۔۔۔۔جیسی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے سمیع الدین صدیقی کو ہٹا کر منصور رضوی کو تعینات کرنے والوں نے اب اپنا سر پکڑ لیا ہے ۔۔۔۔انجینئرز اور ٹھیکیداروں نے ٹھینگا دکھا دیا ۔کے ڈی اے کے کروڑوں روپے کے ٹینڈرز منسوخ ۔۔۔ٹینڈرز پر عمل درآمد کے لئے کام کے ایم سی کو سونپنے کی کوشش کی گئی شرمیلا فاروقی سمیت تین خواتین رہنماؤں نے وزیراعلی سندھ کو تحریری درخواست پیش کی شرمیلا فاروقی کے ساتھ شمیم ممتاز اور کلثوم چانڈیو کے دستخط کے ساتھ پیش کی جانے والی درخواست منظر عام پر آگئی وزیراعلی نے ضروری ایکشن کی ہدایت کی تھی ۔۔ذرائع ابلاغ میں بھانڈا پھوٹنے سے سارا کام چوپٹ ہو گیا ۔۔۔سرکاری ذرائع کے مطابق اسپیشل ڈویلپمنٹ فنڈ سے کے ڈی این اے 42 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اہم کاموں کے ٹینڈر طلب کر رکھے تھے جنہیں چور دروازے سے ٹھکانے لگانے کی تیاریاں کی گئی تھی مذکورہ ٹرکوں میں ایک ارادہ اور وزیر منشن تک سڑک کی تعمیر ۔پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 کی مختلف سڑکوں کی تعمیر سمیت سندھی مسلم کوآپریٹو سوسائٹی بلاک بی کی مختلف اسٹریٹ کی تعمیر کے ٹھیکے شامل ہیں ۔انٹرویو کو وزیر بلدیات سعید غنی کے کوآرڈینیٹر رحمت اللہ شیخ جس انداز سےنمٹانا چاہتے تھے اس پر سمیع الدین صدیقی کے ساتھ ان کے اختلافات ہوئے۔۔جس پر سمیع صدیقی کو فارغ کرکے منصور رضوی کو ڈی جی کے ڈی اے بنایا گیا لیکن اب اطلاعات ہیں کہ منصور رضوی نے بھی مذکورہ کام غیر قانونی طریقے سے کرنے سے انکار کردیا ہے اور انجینئر اور ٹھیکیداروں نے بھی ہاتھ اٹھا لیا ہے ۔اس کشمکش میں کافی وقت ضائع ہوچکا ہے موجودہ مالی سال کے آخری چند مہینے رہ گئے ہیں اور فنڈز کا صحیح طریقے سے خرچ نہ کیا جانا نقصان دے ثابت ہو رہا ہے اگر یہ فنڈز مقررہ وقت پر ریلیز ہو جاتے اور ٹینڈرز کے مطابق کام شروع ہوجاتا ہے تو کراچی کے شہریوں کو ریلیف بھی ملتا اور کہیں علاقوں کی سڑکیں بہتر نقشہ پیش کرتی لیکن کراچی کی بدقسمتی کہ یہ ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود ترقیاتی کاموں میں شخصیات نے آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے فانٹس اور وقت ضائع کردیا اس سے بڑھ کر کراچی دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کیا وزیر اعلی سندھ اور نیا با صورتحال کا نوٹس نہیں لے سکتے کیا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو کراچی کے ساتھ ہونے والی یہ نا انصافی نظر نہیں آتی ۔۔۔اس سے زیادہ نااہلی کیا ہو سکتی ہے کہ آپ کے پاس فنڈز بھی موجود ہو اور آپ کام بھی نہ کریں۔۔۔ایسے وزیروں مشیروں اور افسران سے سوال جواب بھی ہونا چاہیے اور ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں