فیوچر بینکنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ٹی پی ایس پاکستان نے مڈل ایسٹ اور افریقہ میں بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھا ہے ۔ سی او او اویس حبیب خان کا جیوے پاکستان ڈاٹ کام کیلئے محمد وحید جنگ کو اہم انٹرویو

فیوچر بینکنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ٹی پی ایس پاکستان نے مڈل ایسٹ اور افریقہ میں بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھا ہے ۔ سی او او اویس حبیب خان کا جیوے پاکستان ڈاٹ کام کیلئے محمد وحید جنگ کو اہم انٹرویو۔

تفصیلات کے مطابق TPS کے سی ای او اویس حبیب خان نے فیوچر سمٹ بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست میں مختلف سوالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر کے لئے ایسے ایونٹس بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں بہت کم مواقع آتے ہیں جب لوگ اپنے تجربات کو شیئر کر پاتے ہیں اس طرح کے پلیٹ فارم پر آئیڈیاز ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں اور لوگوں کو کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ہمارا موضوع ٹیکنالوجی ہے ویسے تو مختلف بینکوں نے اپنے موبائل ایپ تیار کر رکھے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پرسنلآئزیشن کا فیکٹر مسنگ ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
اپنی کمپنی ٹی پی ایس کی کامیابیوں کے سفر کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ 25 سال مکمل ہو گئے ہیں کمپنی نے سلور جوبلی مکمل کر لی ہے انیس سو چھیانوے میں یہ سفر شروع ہوا تھا تب پاکستان میں الیکٹرانک بینکنگ شروع ہوئی تھی جب کریڈٹ کارڈ شروع ہوئے تھے لہذا آپ کی سکتے ہیں کہ پاکستان میں انقلابی بینکنگ میں ٹی پی ایس شروع سے ساتھ رہی ہے اور اس کی کافی حد مات ہیں آج پاکستان میں بیس سے زیادہ بینک ٹی پی ایس ٹی ٹیکنالوجی سروسز کو استعمال کرتے ہیں اس کے علاوہ مائیکرو بینک کرنے والے ادارے اور نادرا بھی بالکل پیمنٹ کے معاملے میں ٹی پی ایس کی خدمات لیتا ہے ۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان سے باہر نکل کر میڈل ایسٹ اور افریقہ کے ترقی کرنے والے ملکوں میں ہماری کمپنی نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں پر وہاں بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھا ہے ۔


کرونا کے اثرات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ کافی کاروبار متاثر ہوئے تھے لیکن بینکنگ سیکٹر کے لیے اسٹیٹ بینک نے بہت اچھے اقدامات اٹھائے ۔اور فنانشل سیکٹر میں ٹیکنالوجی کے ذریعے کافی اچھے کام ہوئے اہم اداروں نے بھی کافی کچھ سیکھا لوگوں نے زیادہ تر بلز کی پیمنٹ گھر بیٹھے کی ۔ موبائل ایپ اور اے ٹی ایم سے پیمنٹ کی گئی آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کمیونٹیز کی شراکت کے ذریعے فیصلے ہو رہے ہیں اور ہمیں بھی مل بیٹھ کر مقامی ضروریات کو فوکس کرنا چاہیے ۔

======================================