کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے کے فور منصوبہ نیسپاک کے حوالے کیوں ؟

کراچی کو مستقبل میں پانی کی فراہمی کے لیے شروع کی جانے والا منصوبہ کے فور مسلسل ڈیزائن میں تبدیلی اور اپنی لاگت کے تخمینے میں اضافے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے اب اسے نیسپاک کے حوالے کرنے کا اصولی فیصلہ ہو گیا ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نیسپاک کس کا بےبی ہے اور کیا کے فور منصوبہ نیسپاک کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں رہا ۔۔۔۔آخر جن لوگوں نے پی سی بند تیار کیا تھا یا بار بار ڈیزائن تبدیل کر کے اس کی لاگت میں اضافے کا باعث بنے ان سے بھی کوئی سوال جواب ہونا چاہیے یا نہیں۔



اطلاعات ہیں کہ کے فور منصوبے کے لیے اب ورلڈ بینک سے مالی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیسے نہیں آئے اور حکومت حسین تنہا اس منصوبے کی فنڈنگ نہیں کر سکتی اس کی لاگت باربار بڑھتی جا رہی ہے اب اس کے نئے روٹ اور لاگت کے تخمینے کے لیے نہیں سٹڈی کرانے کا فیصلہ بھی ہوا ہے نیا سٹیڈی کرنے والی کمپنی کو کتنی فیس ادا کی جائے گی یہ بتائی نہیں جا رہا البتہ مارچ کے پہلے ہفتے میں ورلڈ بینک کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات ہونگے جس میں کے فور منصوبے کی فنڈنگ کے لیے حکومت سندھ بات کرے گی ۔۔۔۔بتایا جا رہا ہے کہ اب کے فور منصوبے کی لاگت اس لئے زیادہ ہوگئی ہے کہاں سے دو مراحل میں مکمل کرنے کی بجاۓ ایک ہی مرحلے میں ایک ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے اور زیادہ مقدار میں پانی ایک ساتھ ٹھٹھہ سے کراچی لانے کے لئے چوڑی کینال درکار ہوگی جس جس کی تعمیر کے لیے اور پہاڑیوں کی کٹنگ کے لیے نئی رپورٹ تیار کرائی جائے گی اور اس کی روشنی میں فنڈنگ کا انتظام کرنے کے بعد کام کو جلدی سے آگے بڑھایا جائے گا وزیراعلی کو سرکاری افسران نے اس حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی ہے اور کابینہ سے منظوری لینے کے لئے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا گیا ہے ماہرین کے مطابق یہ بات یقینی ہے کے اس منصوبے کی لاگت پر مزید اربوں روپے خرچ ہوں گے اور اس کی مدت میں بھی اضافہ ہوگا اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے یہ عظیم الشان منصوبہ شہریوں کے وسیع تر مفاد میں بنایا جا رہا ہے لیکن پچھلے کئی برسں سے یہ منصوبہ کچھ افسران ٹھیکیداروں اور ایک بااثر لابی کے لیے جیبیں گرم کرنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے وزیر اعلی ہاؤس محکمہ بلدیات ھو محکمہ خزانہ ہو محکمہ پلاننگ یا واٹر بورڈ ہر جگہ کتنے ہی افسر آئے اور گئے ان میں سے کتنے ہی افسران نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے لیکن یہ منصوبہ سوائے اپنی علاقۃ بڑھانے کے اور کچھ نہ دے سکا۔ اب اللہ کرے کہ ورلڈ بینک کی فنڈنگ کے بعد یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھے اور تکمیل کے مراحل طے کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں