FATFکی جانب سے پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے کی جھوٹی خبرانڈین انفارمیشن وارفیئر کا حصہ تھی : میاں زاہد حسین

ہمارے متعلقہ محکموں نے تردید میں دیر کر دی جس سے خوف و ہراس پھیلا،  بین الاقوامی برادری میں عزت کیلئے اقتصادی استحکام، ایکسپورٹ میں اضا فہ ضروری ہے: میاں زاہد حسین
کراچی :  پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوFATFکی جانب سے بلیک لسٹ قرار دینے کی جھوٹی خبر کو انفارمیشن وارفیئر کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسکی بھرپور مذمت کی ہے۔
بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نےFATF کی علاقائی تنظیم ایشیاءپیسیفک گروپ کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی جھوٹی خبر جاری کی جبکہ ہمارے متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی بروقت تردید نہ ہونے کے سبب اسٹاک مارکیٹ میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا جس کے بعد کے ایس ای 100انڈیکس 534.43پوائنٹس کی کمی سے 31350.02کی سطح پر آگیا جس سے سرمایہ کاروں کو 71ارب روپے کا نقصان ہوا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ انڈین میڈیا کی جھوٹی خبر پاکستان بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سنبھلتی ہوئی ا سٹاک مارکیٹ دوبارہ نقصانات کی لپیٹ میں آ گئی۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری اداروں اور میڈیا کے مابین خلیج کی وجہ سے دشمن ممالک کو جھوٹی خبریں چلانے کا موقع ملتا ہے جو ملک کو بھاری نقصان پہنچا تی ہے جس کا تدارک کیا جائے تاکہ آئندہ دشمن ممالک پاکستان کے خلاف انفارمیشن وار فیئر میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی ملک کو بلیک لسٹ کرنا ایشیا ءپیسیفک گروپ کے مینڈیٹ میں نہیں ہے اور ایف اے ٹی ایف اکتوبر سے قبل پاکستان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتاجبکہ اس دفعہ پاکستان کا کیس انتہائی مضبوط ہے اور FATFکے اہداف پر عمل درآمدکی رفتار تسلی بخش ہے جس سے یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان مستقبل قریب میں گرے لسٹ سے بھی باہر آجائے اس لئے آئندہ ایسی غلط اطلاعات پر توجہ نہ دی جائے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے90 لاکھ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے بھارتی وزیر اعظم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا ہے جس پر پاکستان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عرب ممالک سے ہماری تجارت کم ہے جبکہ وہ ہمارے بار بار قرضوں اور امداد کے تقاضوں اور ادھار تیل لینے کی درخواستوں سے بیزار ہو چکے ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ انکی تجارت ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی اداروں اوردوست ممالک پرمعاشی دارومدار ختم کئے بغیر پاکستان کوعالمی برادری میں عزت نہیں مل سکتی جس کے لئے ملک کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط او رموثر بنانے کےلئے ایکسپورٹ میں اضا فہ انتہائی ضروری ہے۔