بحریہ ٹاؤن کراچی یا ڈی ایچ اے سٹی کراچی؟ کہاں کونسی انویسٹمنٹ بہتر اور مفید ثابت ہوسکتی ہے؟

جب لوگ کراچی میں مستقبل کے خوبصورت ہو سکون پرآسائش رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے ذہن میں بحریہ ٹاؤن کراچی کراچی کے نام آتے ہیں کراچی میں پراپرٹی انویسٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی آپ کو ان دو منصوبوں کا نام سب سے پہلے بتاتے ہیں اس کے بعد دیگر اسکیموں کا نام لیتے ہیں ۔خوش قسمتی سے ان دونوں اسکیموں میں نہایت جدید سہولیات سلام کی جارہی ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ دونوں رہائشی اسکیم کراچی کی پہچان بن جائیں گی۔ جو لوگ کراچی سے باہر رہتے ہیں اور کراچی آکر بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی دیکھنا چاہتے ہیں ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ یہ دونوں بڑے منصوبے سپر ہائی وے پر واقع ہیں جیسے موٹر وے کی حیثیت دیے جانے کے بعد ایم نائن موٹروے بھی کہا جاتا ہے ۔جب آپ کراچی سے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں تو سپر ہائی وے پر ٹول پلازہ کے بعد آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر پہلے بحریہ ٹاؤن آتا ہے جو آپ کے بائیں ہاتھ پر ہوتا ہے جبکہ اسی راستے پر ٹول پلازہ اسے پچاس منٹ کی ڈرائیو پر ڈی ایچ اے سٹی آپ کے دائیں ہاتھ پر آتا ہے اس نے ہاتھ سے کراچی سے باہر نکلیں تو بحریہ ٹاؤن نزدیک ہے اور ڈی ایچ اے سٹی تھوڑا دور ہے ۔بحریہ ٹاؤن تقریبا 44000 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا فیس سپر ہائی وے ایم نائن موٹروے کی طرف ہے لیکن یہ سپر ہائی وے سے حیدرآباد جاتے ہوئے لیفٹ سائیڈ پر جامشورو چلا جاتا ہے ۔دوسری جانب پی ایچ اے سٹی ہے جو تقریبا بیس ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے ۔بحریہ ٹاؤن کراچی کو مجموعی طور پر 58 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ ڈی ایچ اے سٹی 16 سیکٹرز پر مشتمل اسکیم ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے دیگر حصوں میں اپنے اسکیموں میں جو اراضی اور بنگلے پیش کرتا ہے وہ ملوں اور کینالوں میں ہوتے ہیں جبکہ کراچی میں اسکوائر یار میں ہوتے ہیں بحریہ ٹاؤن کراچی میں ڈھائی سو مربع گز  سے لے کر 125 مربع گز  کی کیٹیگری تک ہزاروں کی تعداد میں پلاٹس دستیاب ہیں رن کا قبضہ بھی انتہائی آسان مرحلہ طے کرکے مل جاتا ہے دوسری طرف ڈی ایچ اے سٹی میں 125 مربع گز کے محدود پلاٹ ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ سٹی میں 200 مربع گز اور 322 کے پلاٹ زیادہ آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن جتنا بڑا پلاٹ ہوتا ہے اس میں سرمایہ کاری کے امکانات اتنے کم ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کی ر ی سیل اور رینٹل مشکل ہوتی ہے ۔جب آپ بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی میں ڈویلپمنٹ ورک کی بات کرتے ہیں تو ڈی ایچ اے سٹی کا کام بہت سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن میں ہونے والے ڈویلپمنٹ ورک کی نہ کوئی مثال ملتی ہے نہ ہی کوئی مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔انتہائی تیزی سے بحریہ ٹاؤن میں ترقیاتی کام مکمل کئے گئے ہیں سڑکوں سے لے کر فوڈ سٹریٹ تک صحت تعلیم کے منصوبوں تک تفریحی سہولتوں اور ریسٹورنٹ اور شاپنگ مال اور مساجد کی تعمیر تک سب کام انتہائی تیزی سے مکمل ہوچکے ہیں اور لوگ یہاں رہائش پذیر ہیں اور وہ یہاں کے منصوبوں کی تعریف کرتے ہیں دوسری طرف ڈی ایچ اے سٹی میں صرف سیکٹر تھری میں کام تیزی سے آگے بڑھا ہے اور وہاں قبضہ دستیاب ہے باقی سیکٹر ڈویلپمنٹ کا کام ابھی جاری ہے ۔ بحریہ ٹاون میں سرمایہ کاری کرنے والے اور ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کرنی ہے تو بحریہ اسپورٹس سٹی اور بحریہ پیراڈائز کراچی کے منصوبوں میں کرنی چاہیے یہاں منافع کی شرح زیادہ ہے اور تیز ہے دوسری جانب ڈی ایچ اے سٹی زیادہ محفوظ اور دیرپا منصوبہ نظر آتا ہے لیکن اس میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست ہے اور فوری طور پر سرمایہ کاری کرنے والے کارٹن کم اور سلو ہوگا ۔