کذب و فریب اور مکر و دجل کا مقدس نقاب ۔۔۔۔


قادر خان یوسف زئی کے قلم سے
==========================


علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ”قوموں کے زوال کا علاج ان کے ماضی کی تاریخ کے جھوٹے احترام اور اس کے مصنوعی احیاء سے نہیں ہوسکتا“۔ تاریخ بھی عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہے تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینہ میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بناسکتی ہے، لیکن اگر اس کی تاریخ غلط ہے تو وہ غلط فہمیوں اور خوش عقیدگیوں کی ایسی اندوہناک تاریکیوں میں گھری رہتی ہے جن سے اس کا نکلنا محال ہوجاتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ جب راقم یہ سطور لکھ رہا تھا تو یقین جانئے کہ شرم سے نگائیں زمین میں گڑے جا رہی ہیں کہ دنیا کیا کہے گی کہ اس وطن میں جو اسلام کے نام پر حاصل کیاگیا، اگر یہی سب کچھ کرنا تھاتو ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ انگریزوں کی غلامی سے نجات کیوں حاصل کی گئی۔ اب دنیا کو کس طرح بتائیں کہ ان 75برسوں میں جو کچھ وطن عزیز میں ہوتا رہا،دراصل یہ پاکستان کے ہی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف گہری سازش کا نتیجہ ہیں۔بد قسمتی سے ہمیں سیاست دانوں اور ارباب ِ اختیار کی کثیر تعداد ایسی ملی جنہوں نے جھوٹ، فریب، دغا بازی، عہد فراموشی، معاہدہ شکنی، ناجائز مقصد کے حصول کے لئینا قابل قبول ذرائع اختیار کرنے میں تامل نہیں برتا،جس کا جتنا بس چلا اس نے ملک کو اتنا لوٹا، جس کا جتنا ہاتھ بڑھا اس نے نوچ نوچ کر وطن عزیز کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یا کوئی موقع کی تاک میں ہے۔


وہ حضرات جن کی زندگیاں حق گوہی اور راست بازی کی روشن قندیلیں تھیں اگر تاریخ کا کوئی واقعہ یا کسی راوی کا کوئی بیان اس کے خلاف کوئی بات ان کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ جو شخص اپنے جھوٹے مقاصد کے حصول کے لئے منفی روش اختیار کرکے اپنے کذب و فریب اور مکر و دجل کو تقدس کا نقاب اوڑھنا چاہتا ہے تو وہی اسلام کا سب سے بڑا مخالف اور دشمن ہے۔ وہ اپنی میکاؤلی سیاست کو مذہب کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور دنیا کو بدترین قسم کا دھوکا دیتا ہے، اس کی ذہنیت بڑی پست اور فطرت سخت گھناؤنی ہے کیونکہ وہ اپنے عیوب کو حسُن اور اپنی برائیوں کو احسن ثابت کرنے کے لئے عالم انسانیت کی بلند ترین ہستیوں کو اپنے صف میں لاکھڑا کرتا ہے اور پھر قطعاََ نہیں شرماتا کہ دنیا ان ہستیوں کی سیرت و کردار کے متعلق کیا رائے قائم کرے گی۔
بہرحال یہ ہے وہ میکاؤلی سیاست جسے پاکستان میں نام نہاد مذہبی رنگ دے کر آگے بڑھایا گیا اور بڑھایا جارہا ہے، اور یہ ہیں وہ جو مقدس حربے جنہیں ”صادق و امین“ کی طرف سے آنے والے کسی بھی الیکشن میں استعمال کیا جائے گا۔ کم ازکم مجھے تو ان جیسے حضرات کی اس روش پر ذرا سا تعجب ہے نہ افسوس۔ دنیا کا کوئی دور بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہا۔ یہ ضرور کہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری سادہ لوح قوم میں ابھی بکثرت ایسے لوگ موجود ہیں جو اس قسم کے مفاد پرستوں کے دام تزویر میں پھنس کر ہر قسم کی قربانیاں دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جس قوم کو سیاسی رہنماؤں کی بے نقاب اور نام نہاد مذہبی تشریحات کی نقاب پوش اقتدار پسندیاں اور ہوس رانیاں اس طرح نوچ کھسوڑ رہی ہوں تو اس قوم کوخواب غفلت سے کس طر ح جگایا جائے۔ جب کہا جاتا ہے کہ ’جس مقصد کا حصول جھوٹ کے بغیر ممکن ہو اس کے لئے جھوٹ بولنا حرام ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ وہ کون پاگل ہے جو کسی ایسی بات کے لئے جھوٹ بولے گا جو بغیر جھوٹ بولے حاصل ہوسکتی ہو!۔ آپ کسی شخص سے کہئے کہ آپ نے جھوٹ کیوں بولا ہے؟ وہ جھٹ سے جواب میں کہہ دے ’مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں جھوٹ بولتا‘۔ یعنی بلا ضرورت کوئی صاحب ِ ہوش جھوٹ نہیں بولتا، جھوٹ بولا ہی وہیں جاتا ہے جہاں جھوٹ کے بغیر مطلب حاصل نہ ہوتا ہو۔


اب سوچئے کہ جس ملک میں جھوٹ کوڑیوں کے مول بکتا ہو اور جوق در جوق خریدا جاتا ہو، تو جھوٹ کے خریداروں کا اتنا جم ِ غفیر ہوجائے اور ا ن کے لئے سینگ سمانے کی کوئی جگہ نہ ہو وہ اوران کے لیڈر، اگر جھوٹ کی سیاست نہیں کریں گے تو سیاست کے نام پر روٹی کہاں سے کھائیں گے، اقتدار کا ہما ان کے سر کیسے بیٹھے گا، یہ حال تو خود ہمارے معاشرے کا بھی ہوگیا ہے کہ سچ کا قدر دان کوئی نہیں اور سربازار جھوٹ بولنے والوں کو کندھوں پر اٹھایا جاتا ہے، انہیں اپنا مشعل راہ قرار دے دیا جاتا، جہاں دلیل کام نہ کرے وہاں فریب، دھوکا بازی اور دروغ گوئی کرنے والے کے لئے پلکوں سے راستے صاف کئے جاتے ہوں، کانٹوں پر ہاتھوں کی ہتھیلی بچھا لی جاتی ہو، خود کو زخمی کرلیتے ہیں لیکن جھوٹ، جس کے پاؤں نہیں ہوتے انہیں سر پر بیٹھا لیا جاتا ہو تو ایسے ماحول میں تبدیلی کہاں سے آئے گی، کون لائے گا تبدیلی۔ کس کے لئے تبدیلی کا راگ سنایا جارہا ہے جو خود اپنے آپ میں تبدیلی نہیں لانا چاہتے۔ اپنی حالت جو خود نہ تبدیل کرے، اُسے بھلا کون تبدیل کرسکتا ہے۔


اگر ہمارے معاشرے سے صرف جھوٹ کا خاتمہ کرالیا جائے او ر یہ سب اگرہم نے اپنی اپنی موجودہ کیفیت میں خود پر لاگو کرلیا اور اگر پاکستان نے یہ کچھ کرلیا تو نہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ پائندہ تر پائندہ ہوتا چلا جائے گا، اگر ایسا نہ کیا اور موجودہ دو عملی اسی طرح رہی تو یہ دن بدن تباہی کی طرف بڑھنے کا قابل یقین اشارہ ہوگا۔ یہ فطرت کا بھی اٹل قانون ہے جس کی نتیجہ خیزی کسی کے روکے رک نہیں سکتی۔ اگر ملک میں کوئی ایساطبقہ موجود ہے جسے اپنی حفاظت، آنے والی نسلوں کی سلامتی، پاکستان کی بقا ء اور شرف انسانیت سے بہرہ یاب ہونے کا کچھ بھی احساس ہے تو اسے سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور زندگی موت کے اس اہم سوال کا فیصلہ کرکے اٹھنا چاہئے کہ کیا جھوٹ کو اسی طرح مانتے جائیں اور تبدیلی کے نام پر پورے معاشرے کو جھوٹ، فریب، دغا بازی، مکاری، عہد شکنی کرتے ہوئے، آئین کے پاسداری کے بجائے اُس راستے پر جانے دیا جائے جہاں صرف اور صرف تباہی ہے۔

============================