پاکستان کی فضائی حدود کی بندش ۔۔۔مسافروں نے کیا کھویا کیا پایا؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے فضائی حدود کی بندش کے بعد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا تو کرنا پڑا لیکن یہ فیصلہ انتہائی ناگزیر حالات میں کیا گیا کیونکہ سب سے پہلی ترجیح حفاظتی اقدامات تھے کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے اور کسی بھی قسم کے حادثے کو ممکنہ طور پر روکنے کے لئے ایسے دنیا بھر میں مخصوص حالات میں کرنے پڑتے ہیں سول ایویشن نے بھی مجبوری کی حالت میں یہ اقدام اٹھایا اور ایک نوٹم جاری کیا یہ ایوی ایشن کی زبان میں استعمال کی جانے والی ہے 1 اصطلاح ہے جس کے بعد پروازوں کو روک دے جاتا ہے یا ان کا رخ موڑ دیا جاتا ہے پاکستان میں 26 ایئرپورٹس پر ہوسکتا ہے تین سو کے لگ بھگ پروازیں آتی اور جاتی ہیں ظہیر دودھ کی بندش سے ملک بھر میں ایئرپورٹس کا آپریشن متاثر ہوا لیکن مسافروں کی جان بچالی گئی اور انہیں کسی بھی ممکنہ حادثے سے دوچار نہیں ہونے دیا گیا یہ پہلی بڑی بنیادی کامیابی تھی اس بندش کے نتیجے میں مسافروں کو وقتی طور پر اور ان کے رشتے داروں کو اور ایئرلائنز کو یقینی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مختلف مسافروں کے ویزے کی مدت کے خاتمے اور اچانک مختلف اسٹیشنوں پر رک جانے کی زحمت اٹھانا پڑی کئی ملکوں میں بھی پاکستان آنے والے پاکستانیوں کو واپسی کے سفر میں مشکلات کا سامنا رہا بینکوں میں سولہ سو سے زائد مسافر مشکلات سے دوچار ہوئے عمرہ زائرین کے لیے واپسی کا سفر بھی مشکل ہو گیا یورپ امریکہ اور دیگر ملکوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کو بھی اپنے شیڈول میں تبدیلی کرنی پڑی ہیں یا ان کو مختلف اسٹیشنوں پر قیام کرنا پڑا پاکستان کے اندر مسافروں کو مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا اور ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ۔۔۔اس طرح کے واقعات سے مسافروں کو مزید سبق میں لائے کہ کسی بھی قسم کے ناگہانی حالات کی وجہ سے اچانک ان کے پروگرام میں تبدیلی آ سکتی ہے لہذا انہیں اپنے لیے ایمرجنسی پلان رکھنا چاہیے ایئر لائنز اور سیول یشن کو بھی اس صورتحال میں سبق ملا ہے کیسی صورتحال کے لیے ایمرجنسی پلان کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔علی حسن سیکٹر میں امید کی جارہی ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئے گی اور صورتحال جلد نارمل جائے گی۔



اپنا تبصرہ بھیجیں