کے الیکٹرک اور مفتاح اسماعیل آمنے سامنے کیوں ؟ کیا وزیر خزانہ اپنی فیکٹریوں کا بل کم کرانا چاہتے ہیں ؟ سیاسی مخالفین کا سوال

کے الیکٹرک اور مفتاح اسماعیل آمنے سامنے کیوں ؟ کیا وزیر خزانہ اپنی فیکٹریوں کا بل کم کرانا چاہتے ہیں ؟ سیاسی مخالفین کا سوال۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے کے الیکٹرک کے حوالے سے کیے جانے والے انکشاف اور دعوؤں نے کاروباری تجارتی و سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ، وہ سیاست میں آنے سے پہلے کاروبار میں خوب نام کما چکے ،ان کا فیملی بزنس پاکستان کے ٹاپ بزنس مینوں میں شمار ہوتا ہے سیاست میں آنے اور وزیرخزانہ بننے کے بعد ان کا انڈسٹریل کاروبار اور بزنس پروڈکٹس بھی


مختلف حوالوں سے زیر بحث آتی رہی ہیں خود مفتاح اسماعیل مختلف انٹرویوز میں اپنی فیملی کے کاروباری معاملات اور کامیابیوں پر ادارے خیال کر چکے ہیں سوشل میڈیا پر ان کے فیملی بزنس کی اکثر پروڈکٹ زیربحث رہتی ہیں جو اس خاندان کے بزنس کی مقبولیت کی دلیل ہیں گزشتہ دنوں میں مفتاح اسماعیل نے کے الیکٹرک کے حوالے سے جو بیان دیا اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے وزیر خزانہ کے بیان کی


تردید کردی اس سے کاروباری تجارتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مفتاح اسماعیل کے سیاسی مخالفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا وزیر خزانہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر کے الیکٹرک پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں اور کیا وہ اپنی فیکٹریوں اور دفاتر کے بل کم کرانا چاہتے ہیں کیا ان کے بیانات گبر سنگھ بننے کے پس منظر میں دیکھے جائیں وغیرہ وغیرہ ؟


دوسری طرف مفتاح اسماعیل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی 1988 سے فیکٹریاں چلا رہی ہے فیکٹریوں اور دفاتر کے بجلی کے بل اور تمام ٹیکس باقاعدگی سے ادا کیے جاتے ہیں یہ فیملی پاکستان کے خزانے کو کما کر دیتی ہے کوئی

بھی بل اور ٹیکس چوری نہیں کرتی ۔اس فیملی کے انڈسٹریل گروپ کی فیکٹریاں صرف کراچی میں نہیں بلکہ کراچی میں صرف ایک فیکٹری ہے اور اس کے علاوہ حب بلوچستان اور لاہور میں بھی فیکٹری ہے ۔اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ کا ملک میں ایک نام اور ممتاز مقام ہے ۔ Candyland. Bisconni. SnackCity ،سمیت اس کے مختلف برانڈز اور پروڈکٹس بہت مشہور ہیں ۔

====================================
ے-الیکٹرک کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی مفت دے رہے ہیں، وزیرخزانہ
07 اگست ، 2022

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہےکہ کے-الیکٹرک کو ایک ہزارمیگاواٹ بجلی مفت دےرہےہیں۔ گزشتہ روز کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر وصنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ کے-الیکٹرک کو ایک ہزارمیگاواٹ بجلی مفت دےرہےہیں، ایک سال سےکےالیکٹرک نے وفاق کو بجلی کی مدمیں ایک روپیہ بھی نہیں دیا،2100میگاواٹ پر کے الیکٹرک صارفین سےچارج کررہی ہے۔
https://e.jang.com.pk/detail/202780
====================================================
مفتاح اسماعیل کے بیان پر کے الیکٹرک کا ردعمل
08 اگست ، 2022

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے اس بیان کہ کے الیکٹرک کو ایک سال سے ہزار میگاواٹ بجلی مفت دے رہے ہیں اپنے ردعمل میں کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ پی پی اے کو کےالیکٹرک کی جانب سے جنوری سے جون 2022 کے دوران بجلی سپلائی کی مد میں 63بلین روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ کے الیکٹرک اور حکومتی اداروں کے درمیان وصولیاں اور ادائیگیاں ایک پیچیدہ معاملہ ہےجون 2022 تک متعدد وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں نے کےالیکٹرک کو واجبات کی مد میں 365.6بلین روپے کی ادائیگیاں کرنی ہے ترجمان نے مزید کہا کہ ان میں سب سے زیادہ یعنی 316.4بلین روپے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کلیمز کی مد میں کے الیکٹرک کو قابل وصول ہیں یہ اہم بات ہے کہ حکومت پاکستان اور کےالیکٹرک کے درمیان معاہدے کے مطابق ، کمپنی کو ٹیرف ڈفرینشل سبسڈیز کی قابل وصول رقم حکومت پاکستان سے 25 یوم کے اندر ادا ہونا ہوتا ہے کے الیکٹرک نے بھی مختلف اداروں کو تقریباً 344.7 بلین روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں ان میں کےالیکٹرک سے سی پی پی اے / این ٹی ڈی سی کو 290.9بلین روپے کی ادائیگیاں بھی شامل ہے ،ترجمان کا کہنا تھا کہ تاہم خالص اصل کی بنیاد پر کےالیکٹرک کو سی پی پی اے / این ٹی ڈی سی وغیرہ کو ادائیگیوں کے بعد بھی حکومت پاکستان سے تقریباً 21 بلین روپے قابل وصول ہیں
https://e.jang.com.pk/detail/203875
================================================

کراچی، بجلی کم، بل زیادہ، لوڈشیڈنگ میں 14 گھنٹے تک اضافہ، دن میں کام، رات کا آرام چھن گیا
07 اگست ، 2022

کراچی(اسٹاف رپورٹر، خبرایجنسی) بجلی کم، بل زیادہ،لوڈشیڈنگ میں14گھنٹے تک اضافہ،دن میں کام ،رات کا آرام چھن گیا، کچھ پتہ نہیں ہوتا بجلی کب آئے گی، کب جائیگی،شہری سخت ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ، معمولات زندی بری طرح متاثر، بچوں کی پڑھائی بھی سخت متاثر ہونے لگی ،دفاتر جانے والے لوگ نیند کی شدید قلت کا شکار، خواتین کو کھانہ پکانے میں دشواری،عین نمازوں اور مجالس کے وقت بجلی کی فراہمی معطل ،کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی، لوڈ شیڈنگ میںاضافہ نہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کےمطابق کے الیکٹرک نے کراچی میں بتدریج لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا دورانیہ 4سے 14 گھنٹے تک ہوگیا ہے، اس کے باوجود کے الیکٹرک دعوے دار ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کوئی اضافہ یا تبدیلی نہیں کی گئی! جب کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اس کےمعاشی وتجارتی حب میں عین نمازوں اور مجالس کے وقت بجلی کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک طرف نمازی سخت گرمی اور اندھیرے میں نماز یں پڑھنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب امام بارگاہوں اور گھروں میں عزادارن حسین بھی گرمی اور اندھیرے میں مجالس سن رہے ہیں، اس وقت شہر کے متعدد علاقوں فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، نارتھ کراچی، اسکیم نمبر 33 ، سعدی ٹائون، عباس ٹائون، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ماڈل کالونی، لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، قیوم آباد، اختر کالونی، محمود آباد، لائنز ایریا، پی ای سی ایچ سوسائٹی، سولجر بازار، پی آئی بی کالونی، بہار کالونی، جمشید روڈ، گارڈن،پاک کالونی، اورنگی ٹائون، سرجانی ٹائون، گلشن معمار، قصبہ کالونی، بلدیہ ٹائون، شیر شاہ، کیماڑی، لیاری ، صدر اور اولڈ ٹائون کے رہائشیوں نے بتایا کہ جہاں پہلے ایک ایک گھنٹےکی 3بار لوڈشیڈنگ تھی، اسے اب ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ کردیا گیا ہے، اسی طرح دیگر دورانیے کی لوڈشیڈنگ میںپہلے کی نسبت اضافہ کیا گیا ہے، خصوصاً رات کو بند کی جانے والی بجلی نے لوگوں کو سخت ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے، فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر 10,11,12,13کے باسیوں نے بتایا کہ ان بلاکس میں عین نمازوں کے اوقات میں صبح فجر کے وقت5 بج کر 5منٹ سے 6 بج کر 5منٹ تک، ظہر میں دوپہر ایک بج کر 5منٹ تا دوپہر 2بج کر 35منٹ اور عصر کے وقت سہہ پہر 5بج کر 35منٹ سے 7بج کر 5منٹ تک بجلی کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے، جس کے باعث نمازی اندھیرے اور گرمی میں مذکورہ نمازیں ادا کرتے ہیں، اسی طرح مختلف


علاقوں میں امام بارگاہوں اور گھروں میں مجالس بھی سخت گرمی میں پڑھی اور سنی جارہی ہیں، جس سے نمازی اور عزاداران حسین کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کے الیکٹرک کو لوڈشیڈنگ سے روک سکتے ہیں نہ یہ ادارہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قابو میں آرہا ہے لیکن کم از کم نمازوں کے اوقات اور رات کو تو بجلی بند نہ کی جائے، جس سے عوام کے معمولات زندی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بجلی لاپتہ ہوگئی ہے، جس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب آتی ہے؟ کب چلی جاتی ہے؟ بجلی کے باعث تمام امور ٹھپ ہوچکے ہیں،شہریوں کا شکوہ ہے کہ جیسے تیسے لوڈشیڈنگ کے باعث دن میں گزارہ کرلیا جاتا ہے مگر رات میں اپنے بچوں کو لیکر کہاں جائیں؟ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کے باعث رات کا سکون چھن چکا ہے بچوں کی پڑھائی بھی سخت متاثر ہونے لگی ہے، بجلی کی ہوشربہ لوڈشیڈنگ کے باوجود بھاری بھر کم بلز نے اوسان خطا کردئیے ہیں، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، ایسی صورت حال میں دس بارہ ہزار پر مشتمل بجلی کا بل بھریں یا اپنے بچوں کا پیٹ پالیںاور اگر بل بھرنے کے باوجود بجلی نہ ملے تو انسان کہاں جائے؟۔دوسری جانب دریں اثناء کے الیکٹرک کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ شہر میں بجلی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے، کراچی میں بجلی کی فراہمی ویب سائٹ پر موجود 30جون کو جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق ہے، لوڈ شیڈنگ کے اس شیڈول میں کوئی اضافہ یا تبدیلی نہیں کی گئی، شارٹ فال 24 گھنٹے برقرار رہنے کے باعث رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ ناگزیر ہے، ادارے سے فوری اور آسان رابطہ کے ای لائیو ایپ یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہوسکتا ہے، شہری بارش کے موسم میں بجلی کی ایمرجنسی شکایت کے لیے 118 پر رابطہ کریں ۔

https://e.jang.com.pk/detail/202771
========================================================
پاور سیکٹر میں PTI حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بےنقاب
08 اگست ، 2022
FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب، سابق حکومت نے سستی قابل تجدید توانائی پر ایف او کی بنیاد پر مہنگی بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دی۔ تفصیلات کے مطابق پاور ڈویژن میں مخلوط حکومت کی اعلیٰ انتظامیہ نے اربوں روپے کے گھپلے کا سراغ لگایا ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی حکومت نے بظاہر ’فرنس آئل مافیا‘ کو خوش کرنے کے لیے فرنس آئل پر مبنی پاور پلانٹس چلانے کے لیے ’قابل اعتراض حکمت عملی‘ کی وجہ سے 3 سینٹ فی یونٹ (7روپے فی یونٹ) کی سستی بجلی سے عوام کو محروم رکھا ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت نے 2019سے اب تک 30روپے فی یونٹ کی لاگت سے بقایا فرنس آئل پر مبنی پاور پلانٹس سے 28ارب یونٹ بجلی پیدا کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی کل لاگت 840ارب روپے ہے۔ اور اگر قابل تجدید پروجیکٹس جو 2018سے زیر التوا ہیں، تیز رفتاری سے مکمل اور شروع کیے جاتے تو نئے قابل تجدید منصوبے کی بجلی کی پیداوار کی لاگت 196 ارب روپے ہوتی کیونکہ قابل تجدید توانائی کی فی یونٹ لاگت 7 روپے ہے۔ عہدیدار نے بتایا اور اس طرح بجلی کے صارفین کو فرنس آئل لابی کو 644 ارب روپے کی اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور کیا گیا جو پی ٹی آئی حکومت میں گردشی قرضے میں زبردست اضافے کی بھی وجہ بنی۔ وزارت توانائی کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک نے دی نیوز کو بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کی قابل تجدید منصوبوں کو مکمل نہ ہونے دینے کی حکمت عملی سے دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے جو 2018 سے زیر التوا ہیں۔ یہ یقینی طور پر اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا اسکیم ہے اور ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ (اے ای ڈی بی) اور سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) کے اعلیٰ عہدیداروں نے قابل تجدید منصوبوں کو مکمل ہونے دینے کے لیے اپنا کردار کیوں ادا نہیں کیا اور انہیں آپریشنل کیوں نہیں بنایا۔وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن خرم دستگیر خان نے بھی پی ٹی آئی حکومت کی قابل تجدید منصوبوں کو مکمل نہ ہونے دینے اور آر ایف او کی بنیاد پر مہنگے پاور پلانٹس چلانے کے فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے اپنے تین سال اور آٹھ ماہ میں تقریباً 6600 میگاواٹ کے 104 قابل تجدید پاور پلانٹس جیسے ہوا، شمسی اور بیگاس کو مکمل کرنے کے بجائے 30-31 روپے فی یونٹ پر بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دی جو 2018 سے زیر التوا ہیں۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ کچھ منصوبے مکمل ہونے کے قریب پہنچ رہے تھے لیکن انہیں مکمل طور پر مکمل ہونے اور آپریشنل ہونے نہیں دیا گیا تاہم پی ٹی آئی حکومت نے فرنس آئل کی بنیاد پر مہنگی بجلی کی پیداوار پر اپنا انحصار بڑھا دیا جو کہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔ تاہم دی نیوز نے حماد اظہر سے رابطہ کیا جو مرکز میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے تک پاور ڈویژن کے وفاقی وزیر رہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے مذکورہ قابل تجدید منصوبوں کو مسلم لیگ ن کے دور میں ہی روک دیا گیا تھا اور مزید یہ کہ انہوں نے انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2021-30 میں طے شدہ معیار کو پورا نہیں کیا۔ یہ پلیٹ فارم پروجیکٹس کو اس وقت کھولتا ہے جب ان کی ضرورت مسابقتی بولی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ حماد نے یہ بھی دلیل دی کہ آج بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دستخط کردہ ’ٹیک آر پے‘ معاہدوں کی بنیاد پر اضافی صلاحیت نصب ہے ۔ وہ انہیں بند رکھے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی سالانہ سیکڑوں اربوں کے کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں۔ اگر نئے قابل تجدید منصوبے شامل کیے جائیں تو حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیپیسٹی چارجز کس کو بھیجے جائیں؟ موجودہ حکومتی عہدیدار نے پی ٹی آئی کے وزیر کے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کبھی نہیں روکے گئے۔ سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ مذکورہ پراجیکٹس کو حکومت نے کبھی نہیں روکا کیونکہ انہیں ایل او آئی (لیٹر آف انٹینٹ) اور ایل او ایس (لیٹر آف سپورٹ) دئیے گئے ہیں اور ان میں سے کچھ نے زمین بھی حاصل کر لی ہے اور نیپرا سے اپنے سستے ٹیرف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ حکومت تمام قابل تجدید منصوبوں کو ’ٹیک اینڈ پے‘ موڈ کی بنیاد پر لگائے گی نہ کہ ’ٹیک آر پے‘ موڈ پر اور اس طرح صلاحیت کی ادائیگیوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
https://e.jang.com.pk/detail/203839
=================================================