روزگار کی عدم فراہمی نوجوانوں کو پرتشدد انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہی ہے، سابق صوبائی وزیر فیصل سبزواری

میڈیا بیٹھک کے زیراہتمام ’ مستقبل کی نسل کے لیے یوتھ پالیسی ترجیحات اور خیالات کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد ہوا ، شرکا کا یوتھ پالیسی دو ہزار اٹھارہ کو پبلک کرنے پر زور ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو نوجوان نسل کے مسائل پر غور اور عمل درآمد کرنے کے لیے کم از کم ایک معاون مقرر کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو روزگار کی کمی کی اہم وجہ معاشی صورتحال ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ پرتشدد انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ اسی بنا پر ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو معاشرے کا اہم اور کارآمد جز بنانے کے لیے ان کے لیے روزگار کے مزید مواقع بنانے پر کام کیا جائے ۔




ان کے لیے پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ مثبت انداز میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں ۔ صوبائی اور وفاقی حکومت نوجوانوں کے لیے پالیسیز کا مسودہ تیار کرنے سے پہلے محروم علاقوں کے نوجوان نسل کے نمائندوں کی سفارشات پر خاص توجہ دے ۔ دیگر مقررین جن میں ڈاکٹرمیر شبیر علی ، سمیر میر شیخ ، بلال خواجہ ، انجم جنجوعہ ، پروفیسر ڈاکٹراختر بلوچ اور ڈاکٹر رومانہ اعزاز شامل تھیں انہوں نے زور دیا کہ  طلبہ یونینوں کی بحالی وقت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے نچلے متوسط طبقے کے افراد اقتدار کے راستوں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس کے بغیر ہماری سیاست صرف صنعتکاروں تک ہی محدود رہے گی۔ متعلقہ حکومتوں کو نوجوانوں کے مسائل میں دلچسپی لینی ہوگی ۔  طلبا کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور معاشرے کے بے روزگار طبقے کو پیشہ ورانہ تربیت سے معاشرے میں مطلوبہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔