سیدنا عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے 1289 ویں عرس پر سندھ حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے فل پروف انتظامات کئے گئے ہیں : سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی

کراچی :  وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے جمعرات کے روز سیدنا عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے 1289 ویں عرس کی تقریبات کا افتتاح مزار پر چادر چڑھا کر کیا۔ دونوں صوبائی وزراء نے مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی اس موقع پر ملکی بقاء و سالمیت، کشمیریوں کی آزادی اور ملک کی بقاء کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر دونوں وزراء نے مزار پر موجود خواتین و مردوں میں تحائف بھی تقسیم کئے، بعد ازاں دونوں وزراء نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سیدنا عبداللہ شاہ غازی کے عرس کے سلسلے میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے زائرین کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے فل پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔




ان وزراء نے کہا کہ ان بزرگان دین کے باعث پاکستان میں اسلام پھیلا اور یہاں بھائی چارگی، اخوت اور امن کا درس پھیلا ہے اور آج اسی کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بزرگان کی تعلیمات سے امن آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اس موقع پر اپنے کشمیریوں بھائیوں کو بھی دعا میں یاد رکھنا ہے کہ ان کی مودی مظالم سے اللہ تعالیٰ ان کی جان چھڑائے اور مودی نیست و نابود ہو۔ انہوں نے کہا کہ عرس کی تقریبات آئندہ تین روز تک جاری رہیں گی اور اس دوران لاکھوں کی تعداد میں یہاں زائرین کی شرکت ممکن ہے اس لئے ٹریفک کی روانی کو بہتر رکھنے اور مزار اور اس کے اطراف کی سخت سیکورٹی کے تمام انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ مئیر کراچی کی جانب سے لندن پیسے بھیجنے کے معاملے کے سوال پر سید ناصر حسین نے کہا کہ یہ وہ باتیں تھی جو مختلف مراحل میں سامنے آئی اور اسی وجہ سے کے ایم سی، واٹر بورڈ، کے ڈی اے، ماسٹر پلان اور دیگر محکمے ان سب کی تباہی کا سبب بھی یہی بنے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں چاہے مصطفی کمال ہوں یا وسیم اختر ان کا اتنا قصور نہ ہو کیونکہ وہ ان دنوں میں شدید دباؤ میں تھے اوراس وقت ان کا لیڈر جس پر وہ جانیں چھڑکتے تھے۔ اس کے اپنے عزائم تھے۔ لیکن اب جو نئی متحدہ بنی ہے، جو ٹھاکر صاحب لے کر گئے اور اس کے بعد متحدہ پاکستان بنی ہے۔لیکن وہی مظالم، وہی لوگوں کی آئیں۔




بھتہ خوری، بوری بند لاشیں، چائنا کٹنگ، اور دیگر نالوں پر قبضے یہ سب اسی کا ساخشانہ ہیں۔ اور یہی لوٹ کھسوٹ آج سب کے سامنے آچکیں ہیں اور آج نالوں کی صفائی اور دیگر کے الزامات دوسروں کے سر تھونپے جارہے ہیں اس کے اصل ذمہ دار بھی وہی لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2009 سے قبل جو ادارے کروڑوں روپے منافع میں تھے اب تباہی کے داہنے پر ہیں وہی ان کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سندھ حکومت تحقیقات ضرور کرے گی اور ہم اس تمام کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی سندھ حکومت کے ایم سی سمیت دیگر محکموں کو اربوں روپے دئیے جارہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کی تبدیلی کا ایجنڈہ 2008 میں جب پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بنی تب بھی ہوا، اس کے بعد 2013 کے انتخابات کے بعد بھی یہ ہوا اڑی اور اب ایک بار پھر یہ ہوا گردش کی جارہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جس طرح ماضی میں یہ ناکام ہوئے اسی طرح اس بار بھی ان کٹھ پتلیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کٹھ پتلیوں کو آسرے پر رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر مکمل آس ختم ہوجائے گی تو یہ ختم ہوجائیں گے۔ مراد علی شاہ کی نااہلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ ہیں اور وہی رہیں گے۔




ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی کے ٹیکس نہ دینے کی بات اس بات کی غممازی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی بی ٹیم بن گئی ہے کیونکہ الیکشن سے قبل عمران خان نے بھی اسی طرح کے اعلانات کرکے عوام کو ٹیکس نہ دینے کا کہا اور اب وہ حکومت میں آکر جو ٹیکس تھے اس میں مزید اضافہ کرکے عوام کو لہو چوس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کی بیوقوفی اور بھنڈ مار کر عمران نیازی نے حکومت حاصل کی اسی طرح اب ایم کیو ایم بھی یہی چاہتی ہے کہ شاید اس طرح انہیں حکومت مل جائے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے سندھ حکومت کو ٹیکس نہ دو بلکہ وفاقی حکومت کو ٹیکس دو۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت اس سال کراچی پر 125 ارب روپے خرچ کرنے جارہی ہے اس کو مئیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت کو ٹیکس نہ دو اور وفاقی حکومت جس نے اپنے بجٹ میں صرف 12 ارب روپے رکھیں ہیں اس کو کہا جارہا ہے کہ ٹیکس دو، سندھ حکومت کراچی میں ترقیاتی کام کروا رہی ہے اس کو ٹیکس نہ دو اور جو وفاقی حکومت کراچی کے کے فور اور ایس تھری منصوبے کے لئے پیسے نہیں دے رہی ہے اس کے لئیے کہا جارہا ہے کہ اس کو ٹیکس دو، کراچی کے لوگوں کے لئے 1200 کیوسک اضافی پانی کی منظوری نہیں دے رہی۔




اس وفاقی حکومت کو ٹیکس دینے کی بات مئیر صاحب کررہے ہیں، اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کراچی کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے کراچی کے لئے کلنک کا ٹیکہ بن گئے ہیں، جو ایسی حکومت کے لئے جو کراچی کے ساتھ ظلم کررہی ہے اس کو ٹیکس دینے اور جو سندھ حکومت جس کے اس وقت میں متعدد منصوبے کراچی میں جاری ہیں اس کو ٹیکس نہ دینے کی بات کی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مصطفی کمال اور مئیر کراچی ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ جو ایک دوسرے کے لئے کہہ رہے ہیں وہ دونوں ہی درست ہوسکتے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اصولی طور پر اس بات کے مخالف ہیں کہ جب تک کسی پر جرم ثابت نہ ہوجائے اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ڈالنا چاہیئے اور مصطفی کمال کا مئیر کراچی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ ہمارے نزدیک درست نہیں ہے۔