مٹھی میں 317 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھر انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ٹی آئی ای ایس ٹی) قائم کرنے کی منظوری

کراچی  : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مٹھی میں 317 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھر انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ٹی آئی ای ایس ٹی) قائم کرنے کی منظوری دی جس پر ابتدائی لاگت کا تخمینہ 1.5 بلین روپے ہے جبکہ مزید فنڈز کی بھی جب بھی ضرورت پڑی تو دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ وہ اکتوبر 2019 سے بے نظیر کلچرل کمپلیکس مٹھی کی عمارت میں عارضی طورپر کلاسیں شروع کردیں جس کے لیے انہوں نے فوری طورپر 120 ملین روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے یہ فیصلہ آج مٹھی میں ٹی آئی ای ایس ٹی کے قیام کے حوالے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔




اجلاس میں سینئر ممبربورڈ آف ریونیو شمس سومرو، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈز ریاض الدین قریشی، سیکریٹری خزانہ نجم شاہ، وی سی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی، سیکریٹری ثقافت پرویز سیہڑ، ڈی سی تھرپارکر شہزاد تھہیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے مٹھی میں ٹی آئی ای ایس ٹی کے لیے 60 نشستوں کی منظوری دی ہے جس میں 46 ریگولر اور 14 سیلف فنانس پر ہیں ۔ ٹی آئی ای ایس ٹی کے لیے سیٹوں کی ایلوکیشن ایچ ایس سی کراچی بورڈ کے لیے 5،حیدرآباد بورڈ کے لیے 8 ، میر پورخاص بورڈ کے لیے 18،لاڑکانہ بورڈ کے لیے 4، فیڈرل بورڈ کے لیے 2 ،آغا خان بورڈ کے لیے 2 ، اے لیول کے لیےایک اور دیگر بورڈز کے لیے ایک سیٹ شامل ہے ۔




بیچلرز پروگرام ، سیلف فنانس کے تحت کراچی بورڈ کے لیے 2 سیٹیں، حیدرآباد کے لیے 2، میرپورخاص کے لیے 3، سکھر کے لیے 2، لاڑکانہ کے لیے 2، فیڈرل بورڈ کے لیےایک ، آغا خان بورڈ کے لیے ایک اور اے لیول کے لیے ایک سیٹ مختص کی گئی ہے ۔ ٹی آئی ای ایس ٹی کے سپورٹنگ اسٹاف اور فیکلٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سروش نے کہا کہ 19پوسٹس ہوں گی جن میں 21 گریڈ کا ایک پرنسپل ، گریڈ 21 کا پروفیسر ، گریڈ 20 کے دو ایسوسی ایٹ پروفیسر ، 4 اسسٹنٹ پروفیسر ، 3 لیکچرار،ایک آئی ٹی مینیجر ، 2 ڈیٹا انٹری آپریٹرز،2 لیب ٹیکنیشنس اور 3 نائب قاصد شامل ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ 44 انتظامی اور سپورٹنگ اسٹاف بشمول ڈپٹی رجسٹرار ہوں گے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شمس سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ یونیورسٹی نے 317 ایکڑزمین کا مطالبہ کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ویلیج میٹھرائو بھٹی مین اسلام کوٹ روڈ پر زمین کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ نشاندہی کی گئی زمین کی پیمائش 325 ایکڑ ہے اور یہ مٹھی اور اسلام کوٹ کے درمیان میں مٹھی سے 18 کلومیٹر اور اسلام کوٹ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ / یونیورسٹی کے ساتھ وہاں پر انڈسٹریل پارک بھی ہوگا۔




انہوں نے کہا کہ رقبے کو ایڈمن بلاک ، فیکلٹیز، لیبس ، ورکس شاپس ، رہائشی کالونیوں، پارکس وغیر ہ کے لیے استعمال میں لایاجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شمس سومرو کو ہدایت کی کہ وہ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے سمری بھیجیں ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 20 سال کے بعد تھرکول سے20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور تھر سرمایہ کاری ، تجارت اور صنعت کے حوالے سے ایک حب بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ مزید ترقی پائے گا اور میں چاہتا ہوں کہ یہ تھر کے صحرا میں ترقی کی نئی منزلیں طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے سے چلنے والے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کرکے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا ہے اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایات کے تحت انجینئرنگ اور سائنس کی ایک ڈگری دینے والا ادارہ قائم کیاجارہاہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ وہ یکم اکتوبر 2019 سے بے نظیر بھٹو کمپلیکس میں کلاسیں شروع کردیں اور اس کے بعد ادارے کی مین بلڈنگ میں کام شروع کردیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ نے تھر انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے 20-2019 کے بجٹ کے لیے 209،517 ملین روپے کی منظوری دے دی ہے ۔




سیکریٹری خزانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ٹی آئی ای ایس ٹی کے 850 ملین روپے کی منظور ی دی تھی جس میں سے 100 ملین روپے رواں مالی سال کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی اکتوبر سے انجینئرنگ کی کلاسیں شروع کرنے جارہی ہے لہٰذا لیب اور دیگر آلات کی خریداری کے لیے فنڈز ناکافی ہوں گے ۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ ادارے کو شروع کرنے سے قبل لیب کے قیام اور درکار آلات کی تنصیب کے لیے پاکستان انجینئرنگ کونسل کا وزٹ درکار ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو فوری طورپر 120 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی اور انہوں نے مختص کردہ 850 ملین روپے میں اضافہ کرتے ہوئے 15 ہزار ملین کرنے کی بھی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ادارہ تھر اور اس کے نزدیکی اضلاع میں طلبا کے لیے جاب اورینٹیڈ ایجوکیشن اور مواقعوں کے حوالے سے ایک بہترین ادارہ ثابت ہوگا۔