بارشوں سے صوبہ سندھ میں 93 افراد ہلاک ہوگۓ جب کہ 287 مکانات تباہ اور دیہی علاقوں کو شہر سے ملانے والی 388 کلو میٹر سڑکیں تباہ


ڈائری۔ یاسمین طہ
====================
پاکستان بھر مین ہونے والی مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ کراچی کے باسی متاثر ہوۓ ہین شہر مین گزشتہ ہفتے مستقل چار روز تک ہونے والی بارشوں نے نظام زندگی کو مفلوج کردیا اور 24 جولائ کی شدید بارش کی باعث پورا کراچی اربن فلڈنگ کی زد مین رہا اور شہر کی تمام شاہراہیں تیزاب کا منظر پیش کررہی تھی نالوُ کی صفائ مکمل طور پر نہ ہونے کی باعث کئ علاقوں مین تادم تحریر پانی موجود ہے جس مین روزنامہ اوصاف کے دفاتر کا پورا علاقہ شامل ہے جہان پانی کی نکاسی کا کوئ انتظام نہین کیا گیا شدید بارشوں کی صورت حال پر قابو نہ پانے کی اس سے اہم مثال کیا ہوسکتی ہے کہ سندھ حکومت نے 25جولائ کی کراچی اور حیدرآباد کے لۓ عام تعطیل ڈیکلیر کرکے نجی اداروں کو بھی دفاتر بند کرنے کی درخواست کردی جس کی وجہ سے 25 جولائ کو پورا کراچی عملی طور پر بند رہا شہری مسائل حل نہ کرنے کا یہ طریقہ صرف سندھ مین ہی دیکھا جاسکتا ہے شدید بارشوں کے بعد وزیر اعلی سندھ چیف سیکریٹری اور صوبائ وزرا نے شہر کا دورہ بھی کیا جسے عوام نے فوٹو سیشن سے تعبیر کیا جب کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ دورہ جماعت اسلامی کے رضاکاروں کو سڑکون پر موجود دیکھ کر پریشر مین آکر کیا گیا شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلی نے نکاسی آب کا جائزہ لیا اور مختلف مقامات پر لگے ڈی واٹرنگ پمپس کا معائنہ کیا ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے ایک بڑا دعوی کردیا ان کا کہنا تھا کہ نکاسی آب تک سندھ حکومت سوۓ گی نہین وزیر اعلی امدادی کانون کی نگرانی کررہے ہین اور کابینہ اراکین بھی سڑکون پر موجود ہین انھوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے نکاسی آب کے لۓ سخت محنت کررہے ہین اگر کسی کو انخلا کے لۓ مدد کی ضرورت ہو تو حکومت سندھ ان خاندانوں کے کۓ عارضی قیام اور کھانا فراہم کرے گی جس کے کۓ ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جاسکتا ہے فریب اپنا مسلسل بارشوں کی وجہ سے بیشتر شاہرائین دریا کا منظر پیش کررہی ہین اور بیشتر علاقوں سے پانی کی نکاسی نہین ہوسکی ہے اور کئ افراد جان بحق ہوگۓ اور معمولات ذندگی بحال نہین ہوسکے اور معن سون کی بارشوں کے ساتھ ہی شہر قائد مین ٹریفک کا مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کریگا ہے بلدیاتی اداروں کی غفلت کی وجہ سے شہر کی متعد سڑکون پر بارش اور سیوریج کا پانی جمع ہونے سے سڑکون ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور ان مین گڑھے پڑ گۓ ہین جو ٹریفک کی روانی مین خلل کا باعث بن رہے ہین جب کہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے سڑکوں کی استر کاری بھی نہین نہین کی گئی ہے جو ٹریفک جام کا باعث بن گئ ہے ادھر سندھ ز حکومت نے بلدیاتی انتخابات رکوانے کی متحدہ پاکستان کی درخواست مسترد کردی ہے


متحدہ رہنما وسیم اختر نے کراچی اور حیدرآباد مین بارش سے شدید متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کردیا انھوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر عوام کی سہولت کو مد نظر رکھ کر تمام ہوٹیلیٹی بلوں مین کمی کی جاۓ اور متاثرہ علاقوں مین پانی کے مفت ٹینکرز فراہم کۓ جائین اس کے ساتھ کراچی کے تمام صنعتی اور تجارتی مراکز مین ہونے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جاۓ ادھر جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کے التوا کے حوالے سے جھوٹا الزام لگانے پر الیکشن کمیشن پر 50 کڑوڑ روپۓ کا قانونی نوٹس جاری کردیا ہے حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی انتخابات کا التوا نہین بلکہ جلد از جلد منعقد کرانا چاہتی تھی الیکشن کمیشن اس الزام پر جماعت اسلامی سے معافی مانگے کراچی جے تاجروں نے بجلی کے بلوں میں اضافی سیلز ٹیکس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کۓ اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے بھی احتجاجی کیمپ لگایا اور کراچی کی 50مارکیٹوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے حافظ نعیم نے کہا کہ تاجر برادری سے اظہار یک جہتی کے لۓکنوینشن کیا جاۓ گا جسے احتجاجی دھرنے میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ہڑتال کا آپشن بھی زہر غور ہے انھوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس دینے کو تیار ہے لیکن بجلی بلوں میں ٹیکس قبول نہیں اس لۓ بجلی کے بل بھی ادا نہیں کۓ جائین گے تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو کو جامشورو میں گرفتار کرلیا گیا ہے ان پر تھانہ اینٹی اسٹیبلشمینٹ میں 63ایکڑ اراضی جعلسازی سے اپنے نام کرنے اور اس پر زرعی بنک سے قرضہ لینے کا الزام ہے ان کی گرفتاری کے خلاف سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئ ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان کی کاروائ سے واک آؤٹ کیا


جب کہ اگلے ہی دن صوبائ اینٹی کرپشن عدالت نے مقدمہ زیر دفعہ63 کے تحت خارج کرتے ہوۓ حلیم عادل شیخ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا عدالت نی کہا کہ کیوں کہ یہ مقدمہ ہائ کورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس پراپرٹی سے حلیم عادل کا کوئ تعلق ہے اس لۓ مقدمہ خارج کیا جاتا ہے دوسری طرف سیلز ٹیکس کے خلاف کراچی کے تاجروں کے احتجاج میں جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی مومینٹ نے بھی شرکت کی وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے حالیہ بارشوں سے تباہ شدہ صورت حال کی باعث وفاق سے امداد طلب کرلی انھوں نے وڈیو لنک کے زریعے اجلاس مین وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ بارشوں مین ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لۓ وفاقی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے واضع رہے کہ بارشوں سے صوبہ سندھ میں 93 افراد ہلاک ہوگۓ جب کہ 287 مکانات تباہ اور دیہی علاقوں کو شہر سے ملانے والی 388 کلو میٹر سڑکیں تباہ ہوگئ
==================================