پاکستان میڈیا کلب کے سربراہ ضیاء خان کی مشکلات میں اضافہ، لاہور کے بعد اسلام آباد میں بھی مقدمات سامنے آگئے

صحافیوں کو لوٹنے اور جعلسازی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پاکستان میڈیا کلب کے سربراہ ضیاء اللہ خان پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد مزید مشکلات کا شکار ہوتے جارہے ہیں ۔ پہلے صرف لاہور پولیس کو مطلوب تھے اب اسلام آباد پولیس بھی ان کے خلاف حرکت میں آگئی ہے ۔الزامات ہیں کہ صرف صحافیوں کو ہی نہیں لوٹا بلکہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی  سے بھی بڑی تعداد میں رقوم لوٹی،  خواتین اراکین اسمبلی اور اراکین اسمبلی کے اہل خانہ بھی اس فراڈکے ہاتھوں متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کی انتہائی قابل احترام خاتون رکن اسمبلی شاہدہ اخترعلی بھی متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔




محترمہ شاہدہ اختر علی نے ابتدائی طور پر جماعت اسلامی کی خاتون رہنما محترمہ عائشہ سید سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ  اس سے جو اپنا تعلق تاحال جماعت اسلامی کراچی سے اور جماعت اسلامی کراچی کے اہم رہنماؤں سے ظاہر کرتا ہے۔ پیسے واپس دلوانے میں مدد کریں تاہم اس سے پیسوں کی واپسی ممکن نہ ہوسکی۔ جس کے بعد محترمہ شاہدہ اختر علی اور ایک اور خاتون محترمہ ڈاکٹر شازیہ اسلم نےپارلیمنٹ لاجز کے سیکٹریٹ تھانے میں مقدمہ درج کرادیا۔  گزشتہ روز گرفتاری کے بعد جب ضیاء اللہ اپنی رہائی کی کوششیں کررہا تھا اور اس لوٹ مار میں شامل افراد اسے چھڑانے کے لیے لاہور کے غالب مارکیٹ پہنچ رہے تھے تواسی دوران کسی نے اسلام آباد پولیس کے انویسٹی گیشن آفیسر داؤد صابر کو بھی اس کی گرفتاری سے آگاہ کردیا۔ داؤد صابر نے لاہور پولیس سے رابطہ کیا اور پارلیمنٹ لاجز کے سیکٹریٹ تھانے میں درج ایف آئی آرز کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ آج صبح جب ایک بار پھر تھانے سے رہائی کے سپنے دیکھ رہا تھا تو اسلام آباد پولیس بھی پہنچ گئی جس کے بعد اس کی فوری رہائی کے تمام امکانات ختم ہوگئے۔