سندھ اسمبلی کے مسلسل اجلاسوں سے ارکان شاید اب اکتاہٹ کا شکار

کراچی :  سندھ اسمبلی کے مسلسل اجلاسوں سے ارکان شاید اب اکتاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں،بدھ کو کورم پورا نہ ہونے کے باعث پہلے اجلاس پانچ منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا جب دوبارہ شروع ہوا تو اکثر وزراءاور بہت سے ارکان پھر بھی غائب تھے،ایوان میں مختصر کارروائی کے بعد اجلاس جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کواسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تھا۔سندھ اسمبلی میں وقفہ دعا کے دوران ارکان اسمبلی نے شکارپور میں اغواءہوئے فنکار جلال کی بازیابی کی کوشش میں شہید ہو جانے والے ڈی ایس پی شکیل راﺅ کے لئے دعائے مغفرت، پی ٹی آئی کے رکن شاہ نواز جدون کا حلقے میں گائے کی ٹکر سے زخمی بچوں کی شفایابی کے لئے دعا کی گئی۔




پی ٹی آئی کے رکن سعید آفریدی نے لائن آ ف کنٹرول پر فائرنگ سے فوجیوں کی شہادت پر دعائے مغفرت کرائی جبکہ جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر نے نشاندہی کی کہ راشد منہاسکا کل یوم شہادت تھا ان کے درجات کی بلندی اور دریائے سندھ میں دیہات زیر آب آنے پر لوگوں کی سلامتی کے لیئے دعا کرائی جائے ۔نصرت سحر نے کشمیریوں کی آزادی کے لئے بھی دعاکی درخواست کی۔وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے کریم بخش گبول کو سوال کی اجازت ملی تو انہوں کورم کی نشاندہی کردی جس پراسپیکر نے کارروائی پانچ منٹ تک کے لئے اجلاس ملتوی کردی،وقفے کے بعد اسپیکر ایوان میں دوبارہ آئے تب بھی کہی وزراء اور اراکین ایوان سے غائب تھے۔ایوان میں ایک مرتبہ پھرارکان کی گنتی کرائی گئی تاہم کورم پھر بھی پورا نہ ہوا جس پراسپیکر نے اجلاس جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کردیا۔




قبل ازیں جی ڈی اے کے رکن اسمبلی شہریار مہر نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پرکہا کہ شکار پور میں 40 افراد کے قتل کے علاوہ کل وہاں ساتوں پولیس آفیسر شہید ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوں سے بھتہ کی وصولی اور شہر میں موبائل فون چھیننے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے کہا کہ حکومت سندھ اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور امید ہے آنے ولے 24 سے 30 گھنٹے میں بہتر نتائج ملیں گے ۔ پولیس کام کررہی ہے اسی وجہ سے کل ایک ڈی ایس پی بھی شہید ہوا ہے۔