سندھ میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی طرز پر نئی پارٹی بنانیکی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کی بغاوت کا خطرہ

سندھ میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی طرز پر نئی پارٹی  بنانے کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ۔پیپلز پارٹی کے اراکین کی بغاوت کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق جس طرح بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت تشکیل دی گئی تھی اسی طرز پر سندھ میں بھی ایک نئی جماعت بنانے کی تیاریاں اس وقت اپنے آخری مراحل میں ہیں نئی جماعت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ اراکین اسمبلی جن کا دعوی ہے کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے ان کی شمولیت اور اہم کردار کی توقع کی جا رہی ہے ۔




ماضی میں بھی پیپلزپارٹی کو توڑ کر پیپلزپارٹی پیٹریاٹ کی تشکیل دی گئی تھی اس وقت سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقے میں بااثر سمجھے جانے والے مھر قبیلے کے اہم لوگوں کو سرگرم کیا گیا تھا اور انہوں نے پیپلزپارٹی پیٹریاٹ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا تھا لیکن اس مرتبہ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والےمگسی قبیلے کے لوگوں کو متحرک کیا گیا ہے جن کا لاڑکانہ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سندھ کے سرحدی علاقوں میں اثر رسوخ سمجھا جاتا ہے اور موجودہ حالات میں انہیں پیپلز پارٹی مخالف تصور کیا جا رہا ہے جو اپنی بس پارٹی کو سندھ میں اقتدار سے باہر نکالنے کی خواہش  رکھتے ہیں ۔اس حوالے سے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شکارپور سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما نئی پارٹی کی سربراہی کر سکتے ہیں ایسی صورت میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے مذکورہ رہنما کو کامیاب بغاوت کے انعام کے طور پر سندھ کی وزارت اعلی کا امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔




ایسے لوگوں کے اصل ہدف 16 ایم پی اے کو جمع کرنا ہے جن کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہوں اور ان میں سے دو کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین کو توڑ کر نئی جماعت تشکیل دینے کے لئے مسلم ناموں پر غور ہو رہا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی طرز پر نئی جماعت کا نام سندھ عوامی پارٹی رکھا جا سکتا ہے ۔ نئی صورتحال کو وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے لیے اصل چیلنج قرار دیا جا رہا ہے وہ پارٹی کو درپیش خطرات اور ہونے والی ممکنہ بغاوت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اراکین اسمبلی سے مسلسل رابطے میں بتائے جاتے ہیں ۔