آمرانہ پاپولزم اور اکثریتی جمہوریت

۔۔۔۔ قادر خان یوسف زئی کے قلم سے
============================


جمہوریت جسے بہت پہلے سیاسی بقائے باہمی کی بہترین شکل کے طور پر یا اس کے متبادل کے بغیر بھی نہیں دیکھا جاتا تھا، اب بہت سے تبصروں میں اس کے اختتام یا کم ازکم بقا کی آخری جد وجہد کے طور پربیان کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ کسی حد تک کم ڈرامائی تشخیص بھی جمہوریت کو دنیا بھر میں ایک سنگین بحران کی شکل میں دیکھتے ہیں، لیکن یہ کس چیز پر مشتمل ہے؟۔ میری نظر میں موجودہ بحران جمہوریت کو منقسم کرنے میں سے ایک ہے،یہ دوحصوں میں پڑتا ہے، جو اپنے آپ میں پریشانی کا شکار ہیں اور اب مکمل نہیں بن پارہے،موجودہ بحرا ن کی بنیاد سے ہم جمہوریت کے آئیڈیا کو کھونے کے خطرات سے دوچار کرچکے ہیں۔ جمہوریت کا پہلا حصہ خاص طور پر خراب اورقریباََ بوسیدہ ہوچکاہے، یہ آمرانہ پاپولزم کہلاتا ہے، جس کے ساتھ زینو فوبیا اور عوامی شعور نیز ملک کی داخلی اور خارجی سرحدوں پر دوبارہ سیاسی ’کنٹرول‘ حاصل کرنے کی کوشش شدت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، یہاں بہت سی چیزیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ’اہم ثقافت‘ کی ابتدائی بیان بازی اورتنقید کے ساتھ ساتھ پالیسیوں پر اعتراضات سے کئی بحرانوں کو حل کرنے اور بعض اوقات بڑھانے کا بھی باعث بن جاتا ہے۔ مقبول بیان بازی، جمہوری حکمرانی کا دعویٰ ایک مبینہ ”اکثریت“ کی بالادستی کے دعوے میں انحطاط پذیر ہوتا ہے جسے مزید خاموشی کا شکار نہیں رکھنا چاہے۔


جمہوریت کے ساختی بحران کو گر دیکھا جائے ہم اقتدار اور تسلط کے تعلقات کے دور میں رہتے ہیں جو کہ عالمی نوعیت کے ہیں لیکن وہ معیاری فریم ورک جس کے اندر ہم سیاست کو سمجھتے ہیں، قومی سطح پر برقرار نہیں، جمہوریت میں جواز کو بنیادی بحران کہا جاتا ہے۔ ہم ترقی پسند اور موثر سیاست کے لئے معیاری ترتیب کھو چکے ہیں، یعنی ایسی سیاست کے لئے جو معاشی طاقت کو خاص طور پر جمہوری جواز کے ڈھانچے میں ضم اور اسے کنٹرول کرتی ہے۔ ہم نے اصولی بیانیہکو تشکیل دینے اور تصور کرنے کی صلاحیت بھی کھو دی ہے، دونوں طرح سے، جمہوریت کے بارے میں ہماری سمجھ کی بنیادپر اور ساختی طور پر، طاقت کے دیئے گئے توازن کی بنیاد پر، جمہوریت کو حادثے کا سامنا ہے جسے قبول کرنا پڑتا ہے۔جمہوریت کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جمہوریت ایک مسلسل کام ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک تصادم کا ذریعہ بن سکتا ہے جسے دست و گریبان ہونے کے بجائے سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کی ابتدا سیاسی اور سماجی میدانوں میں جاگیردارنہ تسلط کے خلاف جدوجہد سے ہوئی، بعد میں سرمایہ دارانہ، صنعتی دور میں معاشی استحصال کی دوسری اشکال کے خلاف مزاحمتمیں، پھر خواتین کی جنس کیجبر کے خلاف یا نام نہاد حقیقی سوشلزم کی ریاستی نوکر شاہی کی شکلوں کی جدوجہد میں اور آج نو جاگیردارنہ سماجی ڈھانچے اور نئی آمریت کے خلاف۔


جمہوریت دنیا میں سوچ سمجھ کر کیمونٹی کی تعمیر کے ایک اچھے تصور کے طور پر نہیں آئی بلکہ جبر، استحصال اور امتیازی سلوک کے خلاف جنگ کے طور پر آتی ہے۔ یہ انصاف کا سیاسی عمل ہے، لہذا اس کا مرکز منصفانہ اور موثر عوامی جوا ز کے ڈھانچے کو قائم کرنا ہے جس میں غیر منظم تسلط اوجبرکا نشانہ بننے والے جواز کا موضوع بن سکتے ہیں اور معیاری منصفین جو اس اصولی حکم کو پورا کرتے ہیں، ان کے تعلق کو صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اجتماعی جواز کے طور پر جمہوریت کا یہ کام ہے کہ وہ ان قوتوں اور سماجی رشتوں کو مہذب اور تبدیل کرے، جو لوگوں کی زندگیوں کا تعین کرتے ہیں یا کم ازکم مناسب طریقے سے اس طرح سے کنٹرول نہیں ہوتے جو عام بھلائی سے ہم آہنگ ہو، جمہوریت صرف اسی صورت میں اپنے انصاف کا مقصد پورا کرسکتی ہیں جب یہ معاشرتی تبدیلی اور کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائے، تاہم اگر جیسا کہ موجودہ دہائی سے قبل پچھلی دہائیوں میں بھی ہوتا رہا ہے اورحالیہ دور میں لوگوں میں یہ تاثر جارہا ہے کہ موجودہ جمہوری شکل اس کام کو پورا نہیں کررہی کیونکہ انہیں ایسے ڈھانچے کا سامنا ہے جو عوام کی حاکمیت یا آئین کی بالادستینہیں چاہتے یا کنٹرول کرنا نہیں چاہتے، سیاسی خود مختاری کے لئے جدوجہد خود نظام کے خلاف ہوجاتی ہے اور جب اس کے ساتھ گمراہ کن، تخفیف کارانہ وضاحتیں ہوتی ہیں، جو ہر چیز کو ”غیر ملکی مداخلت“ قرار دیتے ہیں کہ وہ کنٹرول کے خاتمے کی علامت ہیں۔جمہوریت کے دوسرے آدھے حصے کو اس کا جواب دینا ہوگا لیکن یہ صرف جزوی طور پر ایسا کرسکتا ہے۔ اس سے مراد سیاست کی وہ شکل ہے جو لبرل، ڈیموکریٹک اور منقسم اصولوں کی بھی پاسداری کرتی ہے، لیکن قدامت پسند سے سبز اور سوشل ڈیموکرٹیک تک مختلف انداز میں ان کا انکار کرتی ہے۔ اتنا کچھ تو ہوچکا کہ قدامت پسندی نے کثیر الثقافتی بقائے باہمی اور صنفی مساوات کے اصولوں کو بھی قبول کرنا سیکھ لیا ہے اوران میں سے بہت سے ووٹروں نے ”چھوٹے لوگوں“ کو نظر انداز کرکے دور دراز کے اشرافیہ کی عوامی تنقید کو بھی قبول کیا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی جو جمہوری اصولوں کا دفاع کرتا ہے اسے یہ بہانہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ کل تک ان پر کافی حد تک عمل کیا گیا تھا اور اب سب کچھ خطرے میں ہے۔

جمہوریت کا موجودہ بحران سنگین ہے کیونکہ نہ صرف عوامی طاقت کو جمہوری جواز کی شکلوں میں تبدیل کرنے کے بنیادی ڈھانچے غائب ہیں بلکہ سیاسی تخیل کا بھی فقدان ہے کہ ایسا کچھ کیسے ہوسکتا ہے۔جمہوریت جواز کے ایک فریم ورک میں پھنسی ہوئی ہے کہ حقیقت گزر چکی۔یہ بالکل واضح نہیں کہ جمہوری طاقت اور انصاف کی زبان میں فرق کیوں آجاتا ہے۔ دلائل کا مقابلہ قومی مفادات کو دھوکہ دینے کے ساتھ کیوں کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے مستقبل کا انحصار اس کی سماجی تشکیل کی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے پر ہے اور سیاست کو فروعی مفادات کے سورج میں جگہ حاصل کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، ترقی پسند سیاست ہو یا جمہوری طاقت کو عوامی مزاج کے مطابق متبادل طریقے تلاش کرنا چاہیے متعلقہ پارٹی کیخاندانوں کو حقیقی جماعتوں میں تشکیل دینا چاہیے جو کہ مشترکہ اور اجتماعی مفادات کے معنی کو از سر نو بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، اگر ہم نے جمہوریت کے پرانے کام پر نظر ثانی نہیں کہ تو ہم منتشر ہی رہیں گے،جو کسی کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔

==================================