کراچی میں بارشوں سے ہلاکتیں : کے الیکٹرک سے 3 ہفتوں میں جواب طلب

حالیہ بارشوں میں 30 سے زائد اموات ہوئیں، درخواست گزار
سندھ ہائی کورٹ حالیہ بارشوں کے باعث کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر کے الیکٹرک سے تین ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں سے متعلق درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ بارشوں میں 30 سے زائد اموات ہوئیں، اس سے پہلے شہر میں کبھی اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ کراچی میں بارش کے دوران کرنٹ سے ہلاکتوں پر کے الیکٹرک کیخلاف تحقیقات شروع۔ درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں کے الیکٹرک کی تاریں کھلی پڑیں ہیں جس پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ خود کہاں رہتے ہیں؟ وکیل نے جواب میں کہا کہ میں کراچی کینٹ کے علاقے میں رہتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی شہر میں بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اتنی ہلاکتیں کبھی نہیں ہوئیں، یہ کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت ہے۔ دوسری جانب چیئرمین کے الیکٹرک کی جانب عابد زبیری ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ ترجمان کے الیکٹر ک نے کہا کہ تمام حادثات پر بےحد افسوس اور متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی ہے۔ بارشوں میں کرنٹ لگنے کے زیادہ واقعات گھروں میں ہوئے: کے الیکٹرک کی نرالی منطق۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی تفتیش میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے، لیکن حادثات کی بڑی وجہ کنڈے، غیر قانونی تجاوزات، کیبل اور انٹرنیٹ کی تاریں ہیں۔ کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ کئی حادثات گھروں کے اندر بے احتیاطی اور اندرونی برقی آلات کے باعث پیش آئے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک سے بارشوں کے باعث ہونے والی ہلاکتوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔