سندھ پبلک سروس کمیشن کتنا خودمختار اور کتنا متنازعہ؟

سندھ پبلک سروس کمیشن کی خودمختاری اور تنازعات سے متعلق جاری بحث اب سندھ اسمبلی میں بھی پہنچ گئی ہے. اراکین اسمبلی نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی خودمختاری پر سوالات اٹھا دئیے ہیں اور اسے ایک متنازع ادارہ قرار دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کئی دنوں سے یہ ادارہ تنقید کی زد میں ہے اسی دوران سائیں داد سولنگی کے خاندان کو بھی اس حوالے سے خاصی شہرت حاصل ہو چکی ہے ماضی میں بھی مختلف چیئرمین اور ممبران کے منظور نظر افراد کے سکینڈل سامنے آتے رہے ہیں حکومت سندھ کی پوری کوشش ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی خودمختاری پر کسی قسم کا تنازہ پیدا نہ ہو لیکن اب معاملہ ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اگرچہ کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے چئرمین اور ممبران ذاتی طور پر اچھی شہرت اور ساکھ رکھتے ہیں لیکن ادارے کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس طریقے سے لوگوں کو کامیاب اور ناکام قرار دیا جاتا ہے اس مکانیزم پر اور اس پورے عمل پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن جیسے ادارے میں خود احتسابی اور اس کے مکمل آڈٹ کے حوالے سے صاف شفاف اقدامات کیے جائیں تاکہ اس کی ٹرانسپرنسی پر کسی بھی قسم کے شک و شبہات جنم نہ لے سکے اور جن خدشات و تحفظات کا اظہار کیا جائے ان کا خاتمہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔۔۔۔۔موجودہ صورتحال میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کو سندھ پبلک سروس کمیشن کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اب یہ ایک عوامی مطالبہ بن چکا ہے اور سندھ اسمبلی میں بھی آوازیں اٹھائی جارہی ہیں لہذا تسلی بخش جواب آنا چاہیے اگر الزام تراشی ہو رہی ہیں اور بے بنیاد ہے تو ایسے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے اور جو سوالات سے نسیم لی میں اٹھائے گئے ہیں ان کا جواب بھی سنجیدہ انداز میں تلاش کرنا چاہیے۔ دوسری طرف مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کیا کہتے ہیں آپ خود پڑھ لیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں