اگر مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان معاہدہ ہوجاتا تو دونوں طرف کے کشمیر کے مستقبل کا اگلا فیصلہ 2022 میں ہونا تھا ۔پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار اور دانشور محمود شام کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے پینل سے خصوصی گفتگو

دنیا بھر میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں کے لئے محمود شام کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔آپ سینئر صحافی سیاسی تجزیہ نگار کالم نویس مصنف اور دانشور ہیں سیاسی حالات کا گہرا مشاہدہ ،واقعات کا بے لاگ تجزیہ ،سیاستدانوں اور حکمرانوں کے اقدامات پر بےباک تبصرہ ،آنے والے حالات کی تصویر کشی ،سیاست میں تاریخی اور ادبی تڑکا ،اردو زبان پر کمال دسترس اور مہارت ،الفاظ کا خوبصورت چناؤ ،شیریں لب و لہجہ ،شائستگی سادگی اور اعلی اخلاقی اقدار کی آئینہ دار شخصیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوست احباب انہیں محمود شام کے بجائے  شام جی کہہ کر پکارتے ہیں جس میں ان کا خلوص پیار اور احترام جھلکتا ہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے شام جی اپنے کالموں کے ذریعے کشمیر کا آؤٹ آف بوکس سلوشن دنیا کے سامنے پیش کرنے کی وجہ سے موضوع بحث اور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے  پاکستان ڈاٹ کام  نے اسی پس منظر میں کشمیر کے انتہائی اہم حساس اور سلگتے ہوئے موضوع پر شام جی کے ساتھ ایک پینل انٹرویو کا اہتمام کیا جس میں شام جی  نے نہایت محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر سوال کا انتہائی واضح انداز میں تفصیلی پس منظر کے ساتھ جواب دیا اور عالمی علاقائی اور ملکی سیاسی صورتحال پر پڑھنے والوں کی رہنمائی فرمائی۔یہ تفصیلی انٹرویو مرحلہ وار یا مختلف حصوں میں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم کے ذریعے قارئین تک پہنچایا جارہا ہے ۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کا یہ  خصوصی پینل چیف ایڈیٹر طاہر حسن خان (سابق صدر کراچی پریس کلب )اور سینئر صحافی رفیق شیخ پر مشتمل تھا نوائے وقت کے چیف رپورٹر سالک مجید بھی اس نشست میں موجود تھے ۔محمود شام روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر رہنے کے بعد مختلف اداروں میں انتہائی اہم عہدوں پر خدمات اور فرائض انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں روزنامہ جنگ میں ان کا کالم باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو کا عالمی معیار کا پہلا جریدہ اطراف شائع کرکے اردو پڑھنے والوں کے لیے ایک نیا باب رقم کیا ہے ۔اطراف نے اپنے آغاز سے اب تک ملک اور بیرون ملک چاروں اطراف دھوم  مچا رکھی ہے اور اس کی مقبولیت اور پذیرائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ پینل انٹرویو بھی میگزین اطراف کے دفتر میں ہی ہوا ۔شام جی کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ایک فارمولا طے پا گیا تھا اور خود منموہن سنگھ کا یہ کہنا ہے کہ انہیں فارمولے کو حتمی شکل دینے اور اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے پاکستان آنا تھا لیکن اس دوران پرویز مشرف چیف جسٹس کی بحالی  مہم میں پھنس گئے اور بھارتی وزیراعظم کا پاکستان کا دورہ نہ ہوسکا ۔جبکہ جنرل پرویز مشرف نے بعد میں اس حوالے سے محمود شام کو بتایا تھا کہ منموہن سنگھ نے بزدلی دکھائی اگر وہ چاہتے تو شیڈول کے مطابق پاکستان آسکتے تھے یہاں ہماری حکومت تھی ایک مرتبہ معاہدے پر دستخط ہو جاتے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے پیچھے نہیں ہٹا سکتی تھی ۔بہرحال وقت گزر گیا مشرف اقتدار میں نہ رہے منموہن سنگھ بھی اپنا وقت گزار گئے اور اب وہاں مودی کی سرکار ہے مودی کے ہوتے ہوئے وہ فارمولا آگے بڑھنا بہت مشکل نظر آتا ہے ۔شام  جی نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان جو فارمولا طے پایا اس کے مطابق دونوں طرف کے کشمیر سے بھارت اور پاکستان نے اپنی فوجوں کو باہر نکالنا تھا اور پندرہ سال کے لیے وہاں پر اپنی اپنی فوج پیچھے ہٹا لینی تھی کشمیر کی اپنی اسمبلی اپنا الیکشن کمیشن ہوتا اور وہ اپنی حکومت کو چلاتے الیکشن ہوتا پانچ پانچ سال کے لیے تین مرتبہ وہاں الیکشن کرائے جاتے اگر منموہن سنگھ پاکستان آکر اس فارمولے کے تحت طے پانے والے معاہدے پر دستخط کر جاتے تو دونوں طرف کے کشمیر کے مستقبل کا آئندہ لائحہ عمل 2022 میں طے  ہونا تھا  تب تک وہاں پر پانچ پانچ سال کی تین حکومتیں برسر اقتدار آ چکی ہوتیں ۔ ان کا انتخاب خود کشمیری عوام کرتے ۔ اور پندرہ سال بعد آئندہ کا لائحہ عمل وہ خود طے کرتے ۔یہ ایک خوبصورت اور قابل عمل فارمولا تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر دستخط نہیں ہوسکے (جاری ہے )