پاکستان میں نئے مکانات/ رہائشی یونٹس کی طلب اور موجودہ تعداد کی صورتحال

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئے مکانات اور رہائشی یونٹس کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔2017 کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی بیس کروڑ چالیس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اگر اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی بھی شامل کر لی جائے تو یہ تعداد 21 کروڑ 27 لاکھ سے زائد بنتی ہے ۔انیس سو سینتالیس میں قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی مجموعی آبادی 7 کروڑ 50 لاکھ سے زائد تھی جس میں چار کروڑ سے زائد آبادی مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں اور تین کروڑ سے زائد آبادی مغربی پاکستان موجودہ پاکستان میں تھی ۔76 لاکھ سے زائد پاکستانی شہری آج پاکستان سے باہر دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم ہیں سب سے زیادہ تعداد چالیس لاکھ سے زائد خلیجی ملکوں میں مقیم ہیں ۔صرف دبئی میں 12 لاکھ پاکستانی رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ برطانیہ امریکا آسٹریلیا جرمنی فرانس اور دیگر ملکوں میں بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے ۔موجودہ پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی صوبہ پنجاب میں ہے جہاں ایک کروڑ 71 لاکھ سے زائد مکانات کی خانہ شماری کی جاچکی ہے صبح کی کل آبادی 11 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے ۔صوبہ سندھ میں چار کروڑ 78 لاکھ سے زائد آبادی ہے اور 85 لاکھ 85 ہزار سے زائد مکانات ہیں جنہیں رہائشی یونٹ کے طور پر شمار کیا جاتا ہے ۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں اڑتیس لاکھ 45 ہزار مکانات یا رہائشی یونٹس ہیں اور صوبے کی کل آبادی تین کروڑ 52لاکھ ہے ۔ صوبہ بلوچستان میں سترہ لاکھ 75 ہزار مکانات یا رہائشی یونٹس میں اور صوبے کی کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین لاکھ چھتیس ہزار مکانات یا رہائشی یونٹس میں اور شہر کی کل آبادی 20 لاکھ ہے ۔ قبائلی علاقے فاٹا جن حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا ہے وہاں پانچ لاکھ 58 ہزار مکانات یا رہائشی یونٹس میں اور وہاں کی آبادی پچاس لاکھ ہے ۔یوں پاکستان بھر میں 21 کروڑ 27 لاکھ سے زائد افراد کی آبادی ہے جن کے لئے 3 کروڑ 22 لاکھ مکانات یا رہائشی یونٹس کا شمار کیا گیا ہے ۔اوسط ایک مکان یا رہائشی یونٹ میں سات افراد کا بسیرا ہے یا پھر ایک بڑی تعداد میں  لوگ جھگیوں میں یا عارضی رہائشی انتظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں مردوں کی آبادی دس کروڑ 64لاکھ اور خواتین کی آبادی دس کروڑ 13لاکھ شمار  کی گئی ہے ۔ پاکستان میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ سے زائد نئے مکانات اور رہائشی یونٹس کی طلب ہے
پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے ساتواں بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی میں اضافہ کی شرح آج بھی دو فیصد سے زیادہ ہے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح  ڈھائی فیصد کے قریب ہے ۔21 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ملک میں اگر آبادی میں اضافے کی شرح یہی رہے تو آنے والے دس بیس سالوں میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پر نئے مکانات اور رہائشی یونٹس کی کتنی بڑی ڈیمانڈ آنے والی ہے آج اگر ساڑھے تین لاکھ نئے مکانات اور رہائشی یونٹس کی ڈیمانڈ ہے تو بمشکل ڈیڑھ لاکھ نئے مکانات اور رہائشی یونٹس فراہم کیے جا رہے ہیں گیا ڈیمانڈ اور سپلائی میں بہت بڑا گیپ ہیں جس کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں کچی بستیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے دو اثرات بالکل نمایاں ہیں پہلا یہ کہ جہاں بھی جگہ ملے گی لوگ وہاں رہائش اختیار کر کے ہر طرح کے حالات میں رہنا شروع کر دیں گے کیونکہ ان کے پاس سر ڈھانپنے کے لیے اگر کوئی معقول انتظام نہیں ہوگا تو وہ اپنے وسائل کے مطابق جیسے تیسے کچی آبادیاں جھونپڑی بنا کر رہیں گے یہ سب کچھ اور بت کی نشانی ہے زمین کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اس لئے زمین خرید کر مکان بنانا یا رہائشی یونٹ کی تعمیر آسان کام نہیں خاص طور پر ایسے حالات میں جب آپ کی آبادی کا 62 فیصد حصہ غریب یا انتہائی کم آمدن والے طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا دوسرا بڑا اثر آپ کی زرعی زمینوں پر پڑ رہا ہے اور لوگ زراعت اور قابل قرارۃ زمینوں پر مکانات اور رہائشی یونٹس تعمیر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اس کا براہ راست ہماری معیشت اور ہماری زرعی معیشت پر انتہائی منفی اثر پڑ رہا ہے ۔دیہاتوں سے شہروں کی جانب ہجرت اور بہتر میری زندگی اپنانے کے لئے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے ماڈل ولیج کی تعمیر کے منصوبے خواب بن کر رہ گئے ہیں اگر گاؤں دیہاتوں میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے وہاں مطلوبہ ضروری سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جاتی یا آج بھی دینی شروع کر دی جائے تو وہاں سے آبادی کا بڑے شہروں کی طرف رخ کرنے کا رجحان کم ہوسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق جس وقت پاکستان میں 85لاکھ رہائشی یونٹس کی کمی ہے اور ہر سال محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ نئے مکانات اور رہائشی یونٹس کا شارٹ فال بڑھ جاتا ہے ہر دور میں سرکاری سطح پر نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے ضرور کیے گئے لیکن یہ وعدے کبھی بھی پورے نہیں ہوئے ۔پاکستان کی ٹوٹی بزنس انڈسٹری پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مکان بنانے کے لیے قرضے کی فراہمی ایک بڑا اہم معاملہ ہے اور حکومت نے اس پر کبھی بھی اتنی توجہ نہیں دی جتنی اس کی ضرورت تھی صرف ایک ادارہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن بناکر حکومت نے سمجھا کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے حالانکہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے پاس نہ اتنا سرمایہ ہے نہ ہی قرضے کی عام آدمی کو فراہمی آسان ہے اگر نجی بینکوں کو اسٹیٹ بینک کے ذریعے اس حوالے سے کام کرنے کی جانب راغب کیا جاتا ہے یا ان کو پابند کیا جاتا کہ ہاؤس لون یا ہاؤسنگ سیکٹر میں قرضے لازمی دینے ہیں اور اس کے لیے مخصوص فرمایا فراہم کرنا ہے تو اس طرح ہاؤسنگ سیکٹر میں بہتری آ سکتی تھی اور نئی تعمیرات میں لوگوں کو قرضے کے حصول کی وجہ سے آسانی ہوجاتی ۔یہ کام آج بھی ممکن ہے اور حکومت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اسٹیٹ بینک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے وزارت خزانہ اور وزارت ہاؤسنگ سمیت صوبوں کے مدد کے ساتھ یہ کام آگے بڑھایا جا سکتا ہے پاکستان میں لوکاسٹ ہاؤسنگ پروجیکٹس کے حوالے سے آباد سمیت کئی شخصیات ایسی تجاویز پیش کرچکی ہیں جو قابل عمل ہیں ضرورت ان تجاویز کو بند فائلوں سے باہر نکال کر عمل کرنے کی ہے ۔ہاؤسنگ کا شعبہ پاکستانی معیشت کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ضمانت فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ناصرف ہاؤسنگ میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ اس سے منسلک متعدد انڈسٹریز کی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے ۔