2019 کا سال رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے کیسا چل رہا ہے ؟2020 کیسا ہوگا ؟2019 میں صورتحال2018 سے کتنی مختلف ہے ؟ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی اسپیشل رپورٹ

دنیا بھر کی طرح پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی نظریں بھی 2020 پر لگی ہوئی ہیں  سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے گذشتہ دو سال سے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بالخصوص متاثر ہوئی ہے پہلے حکومت کی تبدیلی اور نئی حکومت کی پالیسیاں اور اب پاک بھارت سرحدی کشیدگی کی وجہ سے پراپرٹی بزنس پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اس کے باوجود آنے والے وقت میں بہتری کی توقعات وابستہ کی گئی ہیں اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے لیکن فی الحال سرمایاکاری رکی ہوئی ہے سرمایہ کار حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ دو ہزار اٹھارہ کا سال پاکستان میں پراپرٹی بزنس کے حوالے سے ایک سست روی کا شکار رہنے والا سال ثابت ہوا تھا 2017 میں نواز شریف حکومت کی مشکلات کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام تھا جس کا زیادہ اثر سرمایہ کاری پر بڑا 2018 میں الیکشن کے بعد نہیں حکومت وجود میں آگئی اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ نیا سال بہتر ثابت ہوگا 2019 کے سال کے حوالے سے لاہور کراچی اسلام آباد سے نئی بڑے شہروں میں مارکیٹ پرائز بہتر مستحکم اور اوپر جانے کی توقع تھی ۔بعض بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹس کے معاملات عدالتوں میں اہم فیصلوں کے منتظر تھے اس لئے سب کی نظریں ان پر لگی ہوئی تھی ۔ملک میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور غیریقینی سیاسی صورتحال کے خاتمے کو اچھی خبر قرار دیا گیا تھا لیکن نئی حکومت کی پراپرٹی کی خرید و فروخت کے حوالے سے سامنے آنے والی پالیسی اور ٹیکسوں کے حوالے سے نئے فیصلے اور نان فائلرز پر پابندیوں کی وجہ سے مزید سوالات نے جنم لیا چین کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والے سی پیک منصوبوں میں تیزی آنے کی توقع تھی لیکن وہ سست روی کا شکار ہوگئے فروری سے اب تک پاک بھارت کشیدگی نے حالات بدل دیے ہیں فروری میں جنگ کا ماحول تھا پاکستان نے بھارت کا جارحانہ عزائم کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دو طیارے گرائے اور ایک پائلٹ پکڑا پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی کے نوبت سلامتی کونسل تک پہنچ گئی اور پچاس سال میں پہلی مرتبہ کشمیر کا معاملہ سلامتی کونسل میں زیر غور آیا پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی وجہ سے جنگ کے بعد تختے پر منڈلانے لگے ہیں جو اچھی خبر نہیں مختلف ملکوں کی جانب سے اپنے لوگوں کو پاکستان اور خطے میں سفر کرنے کے حوالے سے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری ہوئی ہے اس سے پہلے پاکستان اور بھارت کی ایئر سپیس اور ہوائی اڈے بند ہوئے اور فلائٹس بند رہی ایسی صورتحال کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے منفی اثرات لے کر آتی ہے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی زبردست کامیابی کے بعد بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان معنی خیز ہے کہ پاکستانی ہر صورت حال کے لیے تیار رہیں بھارت کچھ بھی کر سکتا ہے ۔پراپرٹی بزنس پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور کراچی اسلام آباد میں کچھ بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ لوگوں کی توجہ اور ان کے لیے پرکشش اہمیت رکھتے ہیں اور ان پر کام بھی جاری ہے اگر مجموعی طور پر سیاسی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور ملک میں حالات اچھے اور پرسکون ہوتے ہیں تو انڈسٹری میں تیزی آئے گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔اوورسیز پاکستانیز بھی پاکستان میں سیاسی حالات اور صورتحال کا جائزہ لے پراپرٹی بزنس سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری  کا انتظار کر رہے ہیں ۔لاہور کی صورتحال ۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رابرٹ یوزرس کی صورتحال پر یہی نظر رکھنے والوں کا لاہور کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہاں پر گزشتہ برس مارکیٹ ڈاؤن تھی لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد مارکیٹ قیمت میں استحکام آیا اور مختلف ہاؤسنگ پروجیکٹس میں نئی سرمایہ کاری بھی سامنے آئی لیکن گزشتہ کچھ مہینوں سے صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے البتہ حالات بہتر  ہونے پر مزید انویسٹمنٹ کی امید ہے ۔لاہور کے اہم پراپرٹی زون کے علاقوں میں ڈی ایچ اے ۔ماڈل ٹاؤن۔ جوہر ٹاؤن ۔سمیت دیگر ہم منصوبوں میں پارک ایونیو ۔ماڈل سٹی ۔اومیگا ریزیڈینشیا ۔بلیو ٹاون سیفائر  جیسے منصوبوں کے نام قابل ذکر ہیں ہیں ۔ اسلام آباد کی صورتحال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام آباد میں بحریہ ٹاؤن کے عدالتی مسائل میں بہتری آنے کے بعد اب انویسٹمنٹ کے نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے بحریہ انکلیو پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔نئے ایئرپورٹ کے اطراف میں پراپرٹی ویلیو بہت بڑھ چکی ہے اس کے علاوہ بلو ورلڈ سٹی ڈی ایچ اے اسلام آباد ۔گلبرگ گرینس ۔گلبرگ ریزیڈنشیا ۔گرین ا وکس۔کیپٹل اسمارٹ سٹی سمیت دیگر منصوبوں کے حوالے سے مارکیٹنگ جاری ہے اور سرمایہ کار ملک بیرون ملک سے ان منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔
کراچی کی صورتحال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہرقائد میں پروڈیوس جنس پر گہری نظر رکھنے والوں نے جیوے  پاکستان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کھل کر حالات پر بات کی اور کہا کہ اس میں شک نہیں کہ پچھلے کچھ عرصے میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوچکی ہے اب یہاں پر نہ تو لیاری میں گینگ وار ہورہی ہے نہ ماضی کی طرح بوری بند لاشوں کا کلچر ہے نہ ہی کھلے عام ٹارگٹ کلینک یا اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہو رہی ہیں اسٹریٹ کرائم کا گراف بھی اوپر نیچے ہو جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال پچھلے دس سالوں کے مقابلے میں اس وقت بہت اچھی ہے   سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے مقدمے کے اہم فیصلے کے بعد ایک بڑا معاملہ حل ہو چکا ہے جبکہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں پر جو پابندی عدالت سے لگی تھی وہ معاملہ بھی طے پا چکا ہے واٹر بورڈ سے این او سی حاصل کرنے کے معاملے میں بھی بے شک ہوچکی ہے دیگر سرکاری یوٹیلیٹی اداروں کے ساتھ معاملات میں بھی بہتری آئی ہے لیکن عدالتی مقدمات اور پابندیوں کی وجہ سے جو قیمتی وقت ضائع ہوا ہے اس کا جاری منصوبوں پر بہت منفی اثر پڑا ہے اور کئی لوگ پیچھے ہٹ گئے اور مختلف سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا سرمایہ منجمد ہوگیا یا ڈوب گیا جس کی وجہ سے کھڑے منصوبے نقصان میں چلے گئے اور اب بلڈرز اور ڈیولپرز کو دوبارہ کام میں تیزی لانے کے لیے نئے سرے سے تمام وسائل کو جمع کرنا پڑ رہا ہے سچ بات یہ ہے کہ پچھلے کئی مہینے سے کراچی میں بڑے ہاؤسنگ  منصوبے ٹھپ پڑے ہیں ۔پی ٹی آئی کی حکومت سے پراپرٹی بزنس سے وابستہ سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ توقعات تھیں لیکن نئی پالیسیوں اور اب تک کے حالات نے ان کو مایوس کیا ہے آنے والے دنوں میں بہتری آنے کی توقع ضرور لگائے بیٹھے ہیں بزنس خاص طور پر پراپرٹی بزنس میں مندی ہے ماضی جیسی شرح منافع بھی نظر نہیں آرہی زمینوں اور جائیداد کی خریدوفروخت میں نئے معاملات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے لوگ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے اس کے باوجود چند بڑی ہاؤسنگ اسکیمیں اور بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں بہتری آنے کی توقع کی جارہی ہے خاص طور پر بیرون ملک سے پاکستانی پیسے منصوبوں کا انتظار کر رہے تھے اور اب ان کو حالات میں بہتری آنے پر سرمایہ کاری کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے یہ سال پراپرٹی بزنس کے لیے مشکل رہا ہے لیکن سال 2020 میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے کراچی کے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں بحریہ ٹاؤن ۔اے ایس ایف ہاؤسنگ اسکیم ۔فضائیہ ہاؤسنگ سکیم ۔نیا ناظم آباد ۔ڈی ایچ اے سٹی اور دیگر متعدد منصوبے لوگوں کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں ۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی نئی ہاؤسنگ اسکیمیں اور بڑے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹس کھڑے ہو رہے ہیں جن میں ڈی ایچ اے سب سے نمایاں ہے جس نے ملتان لاہور گوجرانوالہ پشاور میں منصوبے شروع کر رکھے ہیں ۔لیک سٹی لاہور میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔گوادر میں ایک مرتبہ پھر سرمایاکاری میں تیزی آئی ہے گوادر میں پلاٹوں کی اسکیموں میں ملک اور بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے ۔اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں ہوٹلنگ کے بزنس میں بھی تیزی آئی ہے اور مختلف بڑے ہوٹلز نے اپنے فرینچائز مختلف شہروں میں کھولنے کا اعلان کر رکھا ہے ملتان فیصل آباد حیدرآباد گوجرانوالہ ایبٹ آباد اسلام آباد سکھر سمیت مختلف شہروں میں چھوٹے بڑے ہوٹل بھی بزنس پراپرٹی کے حوالے سے آگے آرہے ہیں ۔بزنس پراپرٹی میں اپڈیٹ حاصل کرنے کے لئے پڑھتے رہیئے جیوے پاکستان ڈاٹ کام ۔اور اپنی قیمتی رائے اور تجاویز سے آگاہ کرنے کے لئے درج ذیل ای میل ایڈریس پر اپنی رائے اور تجاویز بھیجیں ۔jeeveypakistan@yahoo.com