محمد وسیم ، نئے چیلنج، نیا عزم !

چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کی تقرری ۔ کیا محمد وسیم ایک مردہ گھوڑے میں نئی جان ڈال سکیں گے؟ کیا سندھ گورنمنٹ محمد وسیم کی نیک نامی اور اچھی شہرت کو کیش کروانا چاہتی ہے ؟ کیا محمد وسیم پی پی پی مائنڈ سیٹ کی ڈیمانڈ پوری کر سکیں گے ؟ آخر اس ادارے کی ناکامی کی وجوہات کیا تھیں جن پر عدالت کو اس ادارے کو بند کرنا پڑا ؟


چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کے عہدے پر کافی لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں کافی دنوں سے انتظار کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعلی اس سلسلے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں صوبائی حکومت کو اس ادارے کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے

ماضی میں یہ ادارہ اپنی کارکردگی اور نتائج کی وجہ سے نیک نامی کی بجائے بدنامی کا باعث بنا جس پر عدالت کو بھی کاروائی کرنی پڑی ۔ اس ادارے میں اقربا پروری، رشوت اور سفارش کا کلچر عام ہونے کی شکایت تھی بہت سے واقعات سامنے آ چکے تھے اور لوگ اس ادارے سے کافی نالاں اور ناراض نظر آتے تھے اور اس کے خلاف شکایات کا انبار لگا چکا تھا اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ صوبائی حکومت اس


اہم ادارے کی بقا کے لیے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنے سے گریزاں کیوں ہیں اور قیمتی وقت کیوں ضائع کیا جا رہا ہے ، بعض عناصر نے اس ادارے کے حوالے سے یہ تاثر بھی قائم کیا یہاں لسانی تفریق کی بنیادوں پر فیصلے ہو رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے دور مین نان سندھی امیدواروں کے خصوصا اردو بولنے والوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یہ تاثر کراچی حیدر آباد سمیت سندھ کے اربن علاقوں میں موجود ہے اور بعض سیاسی اور قوم پرست جماعتیں اس ایشو پر کافی سیاست کرتی ہیں ۔
سندھ پبلک
سروس کمیشن کے چیئرمین کے لیے پہلے دن سے ہی کافی چیلنج موجود ہیں


لیکن محمد وسیم بنیادی طور پر ایک صاف ستھرے اور اچھی شہرت کے حامل ذہین تجربہ کار اور معاملہ فہم انسان ہیں اور سندھ حکومت میں گریڈ 22 کے عہدے سے ریٹائر ہوئے بطور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ان کی کارکردگی اور خدمات ہمیشہ قابل تعریف اور قابل رشک رہیں ،
سرکاری حلقوں میں محمد وسیم کی تقرری پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا گیا ہے ان سے


توقع ہے کہ وہ بہترین اور عمدہ فیصلے کرتے ہوئے سندھ پبلک سروس کمیشن کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کریں گے اور اس ادارے کوبام عروج تک پہنچائیں گے ۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کی سربراہی میں ادارہ کسی رنگ نسل کی تفریق کئے بغیر میرٹ پر فیصلے کرے گا ۔ جس کے نتیجے میں اس ادارے پر تمام لوگوں کا اعتماد بحال ہوگا ۔
==================================