آصف زرداری کو جیل میں عید کی نماز پڑھنے سے بھی روکا گیا

سابق صدر آصف علی زرداری کو جیل میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں مل رہی عید کی نماز پڑھنے سے بھی روک دیا گیا ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے عدالت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجھے نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی اور عید پر بھی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی مجھے اجازت کے باوجود عید پر ملنے بھی نہیں دیا گیا ۔سابق صدر آصف علی زرداری کو میگا منی لانڈرنگ کیس اور پارکلین ریفرنس کی سماعت کے لیے احتساب عدالت لایا گیا جہاں کیس کی سماعت احتساب عدالت جج محمد بشیر نے کی سماعت کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کو سپریم پر آئے اور کہا کہ مجھے اجازت کے باوجود عید پر ملنے نہیں دیا گیا مجھے عید کی نماز پڑھنے سے بھی روکا گیا ہے ہے ۔آصف زرداری کا کہنا تھا اگر عرفان منگی یہاں ہو تو پوچھو کہ یہ کونسی اسلامی ریاست ہے یا عید کی نماز بھی پڑھنے سے روکا جاتا ہے عدالتی اجازت کے باوجود میری بیٹی کو مجھ سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی ۔دوسری جانب پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ اس میں ایک نئی پیش رفت ہوئی ہے ایک ملزم نے بیان دیا ہے اور اب اس کو آصف زرداری ٹکرانا ہے لہذا دیا جائے جس پر آصف زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا ایک ہی مرتبہ 90 روز کا ریمانڈ دے دیں نبی روز کا تو نہیں ہوسکتا لیکن 14روز تو ہوسکتے ہیں یہ چار روز کا ریمانڈ لے کر اگلی بار نیا ریمانڈ مانگنے آ جاتے ہیں بار بار پیشی سے سرکاری خزانے کو نقصان ہی ہو رہا ہے عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد آصف زرداری کو 19 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے آصف زرداری کو 19 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے