ھنگامہ کیوں ہے برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے


۔۔۔۔۔۔۔

چاٸے کی چسکی

تحریر ۔۔۔شاہد غزالی

ایک چاٸے ہی تو تھی ہماری زندگی میں جو ہماری تعیشات میں شمار ہوتی تھی ۔


گھر میں صبح کا آغاز اور رات کو سونے تک چاٸے کا ایک کپ شیڈول کا حصہ تو تھا ہی لیکن دفتر میں ہوں یا دوستوں کے ساتھ باہر تفریح پر یا پریس کلب میں ہوں چاٸے کے بغیر بیٹھک مکمل نہیں ہوتی اب کیا کریں نہ سگریٹ نہ پان نہ گٹکا نہ چھالیہ ان خرافات سے دور تھے تو چاٸے ہی دل کو بہلانے کا ایک ذریعہ تھی اور ہے۔ لیکن اب موجودہ حکومت کے ایک قابل احترام وزیر نے اربوں روپے کا زرمبادلہ بچانے کے لیے تجویز دی ہے کہ دن بھر میں صرف ایک چاٸے کا کپ پیا جاٸے۔ اگر حکومت ملک کی معیشت ہماری چاٸے پر پابندی لگا کر بہتر کرسکتی ہے تو ہم بادل نخواستہ اپنے ملک کی خاطر یہ بھی کرلیں گے ۔لیکن کیا حکومت اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی کرسکتی ہے وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے بڑے بڑے وفود کے ہمراہ غیر ملکی دورے ۔ وزیر اعظم سمیت پوری کابینہ کی نوازشریف کو لندن میں قدم بوسی ۔ سستی شہرت کے لیے اخبارات کو اشتہارات اور مراعات پر حکومتی خزانے پر بوجھ نہیں پڑتا۔ اگر حکومت کو معیشت کوبہتر بنانا اور حکومتی خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے تو افسر شاہی کی مراعات کو کم کرٸے ان سے لگثری گاڑیاں واپس لی جاٸیں


فری پیٹرول بجلی گیس اور ہاوس رینٹ ختم کیا جاٸے ان کے فری علاج معالجہ ختم کیاجاٸے ۔اور آٸی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجاٸے ہر اس پاکستانی سے ایک کروڑ روپیہ قرض حسنہ کی صورت میں لیے جاٸیں جس کے بنک اکاونٹ میں پچاس کروڑ روپے سے زاٸد ہوں یا جس کے پاس اس سے زاٸد پراپرٹی ہو۔ اس سے اربوں نہیں کھربوں روپے حاصل ہوں گے اور کوٸی منافع یا سود بھی نہیں دینا پڑے گا حکومت اپنے پیروں پر کھڑی بھی ہو جاٸے گی اور اپنے ہم وطنوں کو رقم کی واپسی بھی کردے گی
اس طرح ہم آٸی ایم ایف کی اور غیرملکیوں کی غلامی سے نجات بھی حاصل کرلیں گے اور ہم چاٸے جیسی نعمت سے بھی محروم نہیں ہوں گے۔

شاہد غزالی
سینٸر صحافی

سابق جنرل سیکریٹری
متحدہ لیبر فیڈریشن کراچی

سابق چیٸرمین
سیمینس پاکستان ایمپلاٸیز یونین کراچی

=======================================