جیکب آباد کے بلدیاتی انتخابات میں انتظامیہ کے انتظامات کا پول کھل گیا،کئی انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے نہ لگائے جانے اور متعددپولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی سے غائب ہونے کا انکشاف،36

جیکب آباد:رپورٹ ایم ڈی عمرانی۔
جیکب آباد کے بلدیاتی انتخابات میں انتظامیہ کے انتظامات کا پول کھل گیا،کئی انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے نہ لگائے جانے اور متعددپولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی سے غائب ہونے کا انکشاف،36پولنگ اسٹیشن پر لگی سی سی ٹی وی کیمرہ کار کارڈ غائب کر دیا گیا،انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی ذمہ داری ڈی آراو کی ہے:ضلع الیکشن کمشنر،ڈی آراو کا نمبر اٹینڈ نہ ہواتفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں انتظامیہ کے انتظامات کا پول کھل گیا ہے پولیس حکام کے مطابق کئی انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنس پر سی سی ٹی وی کیمرے تک نہ لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جیکب آباد ضلع میں کل 120انتہائی حساس،258حساس اور صرف 52پولنگ اسٹیشن نارمل ہیں


جیکب آباد کے گورنمنٹ پرائمری اسکول محمد علی بروہی،گورنمنٹ پرائمری اسکول جمال آباد واٹر سپلائی میں سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگائے گئے تھے رائل کالیج مرد پولنگ اسٹیشن کے ایک حصہ حساس قرار دیا گیا تھا اسکے اسسٹنٹ پرزائیڈنگ افسر محب اللہ نے کے مطابق مذکورہ پولنگ اسٹیشن پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگائی گئی رائیل کالج میں دو پولنگ اسٹیشن کے پورشن تھے دونوں میں کیمرہ نہیں لگی تھی ہماری پولنگ اسٹیشن پر ایک اے ایس آئی اور تین پولیس اہلکار مقرر تھے،جے یو آئی کے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری کے مطابق یو سی لوگی کی محراب کھوسو پولنگ اسٹیشن پر لگی سی سی ٹی وی کیمرہ حکومتی امیدوار کے حامیوں نے توڑ دی نجم جرروار اور محراب کھوسو میں پولیس نفری کم تھی،ضلعی الیکشن کمشنر جیکب آباد زاہد بھٹو نے رابطے پر کہا کہ انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنس پر سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کی ذمہ داری ڈی آر او کی تھی ہماری نہیں ٹھل کی ایک دو پولنگ اسٹیشن پر پتہ چلا کی سی سی ٹی وی کیمرائیں توڑی گئی ہیں،ذرائع کے مطابق پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے والی کمپنی کے مطابق 24جون کو 200سے زائدانتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرپر سی سی ٹی وی کیمر ہ لگانے کے احکامات ملے115پر لگا سکے یوسی کوٹ جنگو،لوگی سمیت 36پولنگ اسٹیشن سے سامان غائب ہے کوٹ جنگو پر جھگڑے کے بعد پولیس نے کیمرہ اتروادئے دوسری جانب پولیس ترجمان نے الیکشن ڈیوٹی سے متعدد پولیس اہلکاروں کے غائب ہونے پر محکمہ جاتی کاروائی کرنے کی تصدیق کی پولیس اہلکار وں نے الیکشن کی ڈیوٹی نہیں کی اور غیر حاضر رہے،دوسری جانب اس سلسلے میں موقف لینے کے لئے ڈی آر او جیکب آباد ڈاکٹر حفیظ سیال سے رابطے کی کوشش کی گئی پر انکا نمبر اٹینڈ نہ ہوا۔

جیکب آباد کے بینظیر پارک میں برقعہ پوش نوجوان خواتین کی ویڈیو بناتے ہوئے گرفتار،تھانے منتقل تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے سول لائین تھانہ کی حدود میں واقع بینظیر پارک میں خواتین کے ٹائم پر پارک میں برقعہ پوش نوجوان مشتاق لاشاری کو خواتین کی ویڈیو بناتے ہوئے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا،پولیس نے نوجوان کو تھانے لیجا کر حوالات میں بند کر دیا ہے،نوجوان نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا معاف کیا جائے،تاحال واقع کا مقدمہ درج نہ ہو سکا تھا۔

جیکب آباد میں جے یو آئی کے امیدواروں اور کارکنان کے خلاف انتقامی کاروائیاں،گھروں پر پولیس کی چڑھائی کے خلاف دفتر سے احتجاجی جلوس،شہر کے راستوں پر مارث نعریبازی،پریس کلب کے سامنے دہرنا مقدمات ختم نہ کئے گئے تو ذمہ دارپولیس انتظامیہ ہوگی ڈاکٹر اے جی انصار ی تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے جے یو آئی کے بلدیاتی امیدواروں، چیف پولنگ ایجنٹ اور رہنماؤں حاجی عبدالشکور سہندڑو، مولانا عبدالماجد پہوڑ، ودیگر کے گھروں پر گذشتہ رات مسلح غنڈوں کے حملے اور فائرنگ کے واقع کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ جے یو آئی کے ضلع امیر ڈاکٹر اے جی انصاری،امیدواروں بخشن خان پہوڑ، چاکر خان جکھرانی،محمد مٹھل بنگلانی، نعمت اللہ پہوڑ کی قیادت میں دفتر جے یو آئی جیکب آباد سے نکالا گیا. مظاہرے میں شریک کارکنوں کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے جن پر غنڈہ گردی نامنظور، جے یو آئی کے رہنماؤں پر اندہادہند فائرنگ نامنظور، قاری دلبر کنرانی پر دہشتگردی کا مقدمہختم کرو، انتقامی کارروائیاں شیم شیم کے نعرے درج تھے. مظاہرین نے شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کیا اور ڈی سی چوککیبعد میں پریس کلب کے سامنے دہرنہ دیکر ایک گھنٹے تک روڈ بلاک کردیا جس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہوگئی. اس موقعے پر مقررین نے کہا کہ پیپلزپارٹینے دھاندلی کرکے بلدیاتی الیکشن جیتا ہے، حلقہ بندیاں اپنی مرضی سے کرنے کے بعد پولنگ اسٹیشنز پیپلزپارٹی کے گھروں اور اوطاقوں پر مقرر کی گئیں، پولنگ عملہ سرکاری امیدواروں کی عزیز اور من پسند رکھا گیا، بلدیاتی الیکشن کے دن جے یو آئی کے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری اور دیگر کارکنوں پر حملہ،امیدوار قاری دلبر کنرانی کو بلاجواز یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ٹھپے لگائے گئے اور اب بختیارپور میں جے یو آئی کے امیدواروں اور رہنماؤں کے گھروں پر آدہی رات کو حملہ کرکے کئی گھنٹوں فائرنگ کر کے پورے علاقے میں دہشت پھیلائی گئی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کر کے دہشت پھیلانے والوں کو گرفتار کر کے قانون کے حوالے کیا جائے،قاری دلبر کنرانی پر داخلمقدمہختم کیا جائے، ایجنٹوں اور امیدواروں کو یرغمال اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ہوگی

==========================