حب کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت بارش کا پانی گھروں سے نکالنے پر مجبور

*حب۔گذشتہ دنوں شدید بارشوں کے بعد حب سمیت پورے ضلع میں لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہیں جبکہ دیہات اور گوٹھوں کا زمینی رابطہ شہر سے منقطع ہوچکا ہیں اب بھی کئ محلوں اور گلیوں میں پانی جمع ہیں اس کے علاوہ ان کے روڈ تک ٹوٹ چکے ہیں کوئی گاڑی وغیرہ بھی گھروں تک نہیں جا سکتا بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ وزیر اعلی بلوچستان کا آبائی علاقہ ہے جہاں بارش کے بعد نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئ ہیں انتظامیہ سمیت میونسپل کارپوریشن کا عملہ اپنی عید چھٹیاں منانے میں مصروف ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کا کوئی پرسان حال نہیں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ بھی عید کے چھٹیاں گزارنے میں اور عید ملن پارٹی میں مصروف ہے اسسٹنٹ کمشنر حب بھی صرف فرضی دورے پر جاتے ہیں چند تصویرے بنا کر فوٹو سیشن تک محدود ہے اگر غلطی سے کوئی احکامات بھی جاری کرتے ہیں تو ان پر کوئی عمل نہیں ہوتا لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہے ہیں انتظامیہ بلکل نااہل ہوچکی ہے بس سوشل میڈیا پر انتظامیہ اپنے مخصوص بندوں کے ذریعے خبریں اور تصویرے پوسٹ کرکے اپنی تعریف کرواتے نظر آتے ہیں جو بڑی شرم کی بات ہے کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی کوئی انتظامات ہیں عوام کو ذلیل و خوار کردیا ہے اگر انکے حقیقت ظاہر کرو تو وہ آپ کے دشمن بن جاتے ہے برائے مہربانی وزیر اعلی بلوچستان اور دیگر اعلی حکام سے عوامی حلقوں نے اس حوالے سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ساکران، جام کالونی،  دارو ہوٹل ، جمعہ گوٹھ اور سمیت بہت سے ایسے جگہ ہے جہاں پر بارش کا پانی جمع ہے اور لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہیں اس کے حوالے سے اچھے اقدامات کئے جائے اور لوگوں کو اس نااہل انتظامیہ سے چھٹکارا دلایا جائے۔*لسبیلہ کے  عوام کی آواز*