سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے ایل۔پی ۔ جی ایئر میکس کے تین نئے پلانٹ اسکریپ کر دیئے۔ کروڑوں روپے کے پلانٹ کوڑیوں کے بھائو بیچنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

اسلام آباد(رپورٹ: ناصر جمال)سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے ایل۔پی ۔ جی ایئر میکس کے تین نئے پلانٹ اسکریپ کر دیئے۔ کروڑوں روپے کے پلانٹ کوڑیوں کے بھائو بیچنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ایل۔ پی۔ جی ایئر میکس کے ساٹھ پلانٹ لگانے کا منصوبہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بطور خاص منظور کروایا تھا۔ جس کے تحت مری، چترال، گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں یہ پلانٹ لگنا تھے۔ پی ٹی آئی حکومت نے مسلم لیگ ن کے بغض میں ایل ۔ پی۔ جی ایئر میکس کا منصوبہ ردی کی ٹوکر ی میں ڈال دیا۔ سابق مشیر پٹرولیم ندیم بابر نے چترال، ایون اور دروش کے ڈیڑھ ایم۔ ایم۔ سی۔ ایف۔ کے تین پلانٹ کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے نہ صرف معلومات چھپائیں بلکہ اس کے منٹس بھی تبدیل کیئے گئے۔ وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کو چھ روز قبل تمام ایل پی جی ایئر میکس پلانٹس کی ای ۔ سی۔ سی سے فوری منظوری لیکر کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔


تفصیلات کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے چترال، ایون اور دروش میں آدھے آدھے ایم ایم سی ایف ڈی کے تین پلانٹس اسکریپ کرکے انھیں فروخت کرنےکیلئے رواں ماہ اشتہار دیا تھا اور گزشتہ روز اس ضمن میں باقاعدہ بولیاں وصول کی گئیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ساٹھ ایل پی جی ایئر میکس پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کے تحت پہلے مرحلے میں گلگت ، چترال، ایون، دروش اور بلوچستان کے چھ مقامات کا انتخاب کیا گیا تھا۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے بلوچستان کے چھ مقامات پر ایل پی جی ایئر میکس کے پلانٹس لگا دیئے۔ مگر زمینوں اور پلانٹس کی خریداری کے باوجود گلگت اور چترال میں پلانٹس نہیں لگے۔ یہاں پر سوئی ناردرن 250ملین روپے سے زیادہ خرچ کرچکی تھی۔ جبکہ امپورٹ کیئے جانے والے ایل پی جی ایئر میکس پلانٹس کی قیمت، ڈالر کے اوپر جانے کی وجہ سے ڈبل ہوچکی ہے۔ گلگت میں کم از کم چھ ایم ایم سی ایف ڈی کے ایل پی جی پلانٹس لگنے چاہئیں تھے۔ مگر وہاں پر دو ایم ایم سی ایف ڈی کا پلانٹ دیا گیا۔ جبکہ چترال ، دروش اور ایون کے لئے آدھے آدھے سی ایف ڈی کے تین پلانٹس دیئے گئے۔ اس منصوبے میں سابق ایم ڈی امجد لطیف نے کلیدی اور جاندار کردار ادا کیا تھا۔ وہ پاکستان کے اُن دشوار گزار علاقوں میں ایل۔ پی ۔ جی ایئر میکس کی فراہمی پر بطور کمپنی پُر عزم تھے۔ مگر پی ۔ٹی۔ آئی کی حکومت آئی تو ندیم بابر نے گلگت بلتستان کا منصوبہ با امر مجبوری برقرار رکھا لیکن اُسے دو ایم ایم سی ایف ڈی تک محدود کردیا۔ جبکہ ای۔ سی۔ سی سے انھوں نے چترال کے تین پلانٹس کے حوالے سے نہ صرف معلومات چھپائیں بلکہ اُس کے منٹس بھی تبدیل کیئے گئے۔کئی سالوں سے امپورٹڈ پلانٹس ایس این جی پی ایل کے اسٹورز میں پڑے ہیں۔ جبکہ کچھ ضروری سامان گلگت اور چترال میں خریدی گئی زمینوں کے اوپر موجود ہے۔ چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجوداس عوامی اور ماحول دوست منصوبے پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ لوگ پہاڑی علاقوں میں ایندھن کیلئے کئی سو سال پرانے درخت تک کاٹ دیتے ہیں۔ یہ ایک ماحول دوست اور عوامی مفاد کا منصوبہ تھا۔ اس وقت گلگت ، سکردو، چترال اور دروش میں فوج کے چار بڑے کنٹونمنٹس ہیں جہاں پر لکڑی اور مٹی کے تیل کو بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ ان علاقوں میں بھی زیادہ تر لوگ اسی ایندھن کو استعمال کرتے ہیں جس سے ان علاقوںمیں تیزی سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کے باعث یہاں پر سیلاب آتے ہیں اور اربوں روپے کا انفراسٹریکچر یہاں پر تباہ ہوجاتا ہے جبکہ ان علاقوں میں لوگ دمے اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ ن کی حکومت اس بات پر پُرعزم تھی کہ ایل۔ پی۔ جی ایئر میکس کو پہاڑی علاقوں میں بطور خاص سبسڈائز ایندھن کے طورپر متعارف کروایا جائے تاکہ درختوںکے کٹنے کی حوصلہ شکنی ہو اور اس کے ماحول پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں۔ اسی لئے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر پہلے مرحلے میں ساٹھ پلانٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جن میں بتدریج اضافہ کیا جاتا۔ حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ ن کے پہلے دور میں یہ منصوبہ شروع ہوا اور اُن کے دوسرے دور حکومت میں اسی منصوبے کو سوئی ناردرن گیس کمپنی سکریپ کرنے جارہی ہے۔ اس وقت سوئی ناردرن گیس کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹر اور مینجمنٹ پی ٹی آئی حکومت کی مقرر کردہ ہے۔ وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کو اہم حکومتی شخصیت کی جانب سے واضح ہدایات کی گئی تھیں کہ وہ ایل پی جی ایئر میکس کے منصوبے کو نہ صرف بحال کریں بلکہ نہایت تیزی سے حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل بقیہ ساٹھ پلانٹس کی ای سی سی سے فوری منظوری لے کر اس پر ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا جائے۔ اور یہ منصوبے سردیوں سے پہلے بحال کیئے جائیں۔ اب دیکھنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس نئی صورتحال پر کیا اقدامات لیتے ہیں۔ اس ضمن میں ایم ڈی سوئی ناردرن علی جاوید ہمدانی کو سوالنامہ بھیجا گیا تھا لیکن کمپنی کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
========================================