پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں 7 روٹس پر 240 بسیں چلائی جائیں گی۔

پیپلز بس سروس کے تحت کراچی میں 7 روٹس پر 240 بسیں چلائی جائیں گی۔
پہلے مرحلے میں بس سروس ملیر ماڈل کالونی سے ٹاور کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیپلز بس سروس چلنا شروع ہو گئی ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز بس سروس کا کرایہ 25 روپے سے 50 روپے تک ہو گا، فی الحال بس سروس ماڈل کالونی سے ٹاور تک چلے گی۔

شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا ہے کہ پی پی شہر کو ترقی دینے کے لیے ہر وقت کوشاں ہے، ٹرانسپورٹرز پرانی بسوں کی جگہ نئی بسیں لائیں۔


پیپلز بس سروس کا کرایہ 25 روپے سے 50روپے تک ہوگا، فی الحال بس سروس ماڈل کالونی سے ٹاور تک چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی پی شہر کو ترقی دینے کے لئے ہر وقت کوشاں ہے، ٹرانسپورٹرز پرانی بسوں کی جگہ نئی بسیں لائیں۔

پیپلز بس منصوبے کو سراہتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے یہ بہت اچھا اقدام کیا گیا ہے۔

شہریوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے معیاری اور سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی ان کے لئے بہت فائدہ مند ہو گی۔

کراچی کیلئے خوشخبری، پیپلز بس سروس کا آج آغاز، بلاول افتتاح کرینگے

خیال رہےکہ شہر میں 7روٹس پر مرحلہ وار 240 بسیں چلائی جائیں گی، شارع فیصل پر مختلف مقامات پر پیپلزبسوں کےاسٹاپ بنائے گئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کراچی کی نئی بس سروس میں لی گئی اپنی پہلی سیلفی سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ’پیپلز بس سروس‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔

اس حوالے سے شرمیلا فاروقی نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنی نئی سیلفی شیئر کی ہے۔
یہ سیلفی ’پیپلز بس سروس‘ کے پہلے سفر کے دوران لی گئی جس میں شرمیلا فاروقی کے ہمراہ دیگر پی پی رہنما بھی موجود ہیں۔

ٹوئٹر پر شیئر کی گئی سیلفی میں شرمیلا فاروقی کے علاوہ چیئرمین پی پی و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر سعید غنی اور سینئر پی پی رہنما وقار مہدی بھی موجود ہیں۔

شوبز ستاروں کا ’پیپلز بس سروس‘ سے متعلق خصوصی پیغام

شرمیلا فاروقی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’یہاں ہم چلتے ہیں‘۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن اور ان کی کابینہ کے ارکان نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر بلاول بھٹو نے بسوں میں سوار ہو کر ان کا معائنہ بھی کیا

شرجیل میمن نے کہا کہ ان بسوں کی مرت اور دیکھ بھال کے لیے وفاقی حکومت کی ایک کمپنی سے 10 سال کا معاہدہ کیا گیا ہے جس کو ایڈوانس ادائیگی بھی کردی گئی ہے، بسوں کے روٹس کا جائزہ لیا گیا ہے، ابتدائی طور پر کراچی اور لاڑکانہ میں بس سروس شروع کی جارہی ہے جس کے بعد صوبے کے تمام اضلاع میں اس طرح کی سروس فراہم کی جائے گی۔


انہوں نے کہا کہ اس بس سروس کا کم سے کم کرایہ 25 روپے اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے رکھا گیا ہے جو الیکٹرانک کارڈز کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے ٹرانسپورٹرز کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروبار سے وابسطہ افراد کو کہتا ہوں کہ وہ اس طرح کی جدید بسوں میں سرمایہ کاری کریں، حکومت بھی اس سلسلے میں کوئی پیکج دے گی، سرمایہ کار پرانی بسوں کو سڑکوں سے ہٹادیں اور نئی بسیں چلائیں، جن جن روٹس پر یہ نئی بسیں چلائی جارہی ہیں، ان روٹس پر سے ہم پرانی بسوں کو ہٹادیں گے۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل اس عوامی ضرورت اور اہمیت کے اہم منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت سندھ عوامی اہمیت کے منصوبوں کو انتخابی مہم کے طور پر شروع کر کے شہر کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انٹرا ڈسٹرکٹ بس منصوبے کے تحت چین سے درآمد کی جانے والی تقریباً 240 ایئر کنڈیشنڈ بسیں کراچی کے 7 روٹس پر چلائی جائیں گی۔

========================